شعبان المعظم اسلامی اور ہجری سال کا آٹھواں قمری مہینہ ہے،اس کا تلفظ ’شَعْبَان‘ ہے، یہ ہمیشہ مذکر استعمال ہوتا ہے۔شعبان کاپورا ہی مہینہ نفلی روزوںاورنفلی عبادات کے لئے متبرک اور فضیلت والاہے ، سرورِکائنات ﷺ اس ماہ میں کثرت سے نفلی روزے رکھتے تھے، جیساکہ احادیث میں آیا ہے۔ علاوہ ازیں اس ماہ میں ایک مبارک و محمود رات ہے جسے ’شب ِ برأ ت‘ کہتے ہیں۔
شعبان المعظم اسلامی اور ہجری سال کا آٹھواں قمری مہینہ ہے،اس کا تلفظ ’شَعْبَان‘ ہے، یہ ہمیشہ مذکر استعمال ہوتا ہے۔شعبان کاپورا ہی مہینہ نفلی روزوںاورنفلی عبادات کے لئے متبرک اور فضیلت والاہے ، سرورِکائنات ﷺ اس ماہ میں کثرت سے نفلی روزے رکھتے تھے، جیساکہ احادیث میں آیا ہے۔ علاوہ ازیں اس ماہ میں ایک مبارک و محمود رات ہے جسے ’شب ِ برأ ت‘ کہتے ہیں۔
شعبان کی وجہِ تسمیہ: لفظ’شعبان‘شعب سے مشتق ہے،’شعب‘باب فَتح یَفتحُ اورسمِع یسمَعُ سے مصدر اور لغتِ اضداد میں سے ہےیعنی اس کا معنی جدا کرنا اور جمع کرنا دونوں آتے ہیں۔بہ قول شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ: شعبان ایک مشہور مہینہ ہے،اس کی جمع شعبانات اور شعبابین آتی ہے۔ یہ باب تفعل،تشعب سے ہے اور اس کے معنی تفرق پھیلانا اور شاخ درشاخ ہونا ہیں۔ (ما ثبت بالسنۃ) حضرت انسؓروایت کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس مہینے کا نام شعبان اس لئے پڑا کہ اس مہینے میں بہت سی نیکیاں تقسیم کی جاتی ہیںاور یہ شاخ درشاخ بڑھتی رہتی ہیں،یہاں تک کہ روزہ دار جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔(کنزالعمال)
یہ بھی پڑھئے: فکر کا زاویہ درست ہوجائے تو گفتگو شور نہیں، شعور کے ذریعے ہوتی ہے
’ شعبان ‘کے پانچ حروف: لفظ شعبان میں پانچ حروف ہیں:ش- ع-ب-الف-ن۔ان میں سے ہر حرف ایک خاص معنی ظاہر کرتا ہے؛ ش سے شرف،ع سے علو یعنی بلندی، ب سے برّیعنی نیکی،الف سے الفت، ن سے نورمراد ہے۔یہ سب اللہ کی طرف سے بندوں کیلئے خصوصی انعامات ہیں۔(الغنیۃ)
ماہِ شعبان کی اہمیت: حضرت اسامہ بن زیدؓفرماتے ہیں؛ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! میں نے آپؐ کو شعبان کے مہینے سے زیادہ کسی مہینے میں (نفلی)روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا : یہ ماہِ شعبان، رجب اور رمضان کا درمیانی مہینہ ہے ، جس سے لوگ غافل ہوتے ہیں، جب کہ اس مہینے میں لوگوں کے اعمال اللہ رب العالمین کے سامنے پیش ہوتے ہیں، میں یہ پسند کرتاہوں کہ جب میرے اعمال(اللہ کے حضورپیش)ہوں تو میںروزے دار ہوں۔(نسائی)
یہ بھی پڑھئے: جسمانی حرکات و سکنات میں بھی وقار رہنا چاہئے
سب سے افضل روزہ: حضرت انسؓروایت کرتے ہیں، رسولؐ اللہ سے پوچھا گیاکہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ کون ساہے ؟ تو آپؐنے ارشاد فرمایا: شعبان کا (روزہ)،رمضان کی تعظیم کیلئے۔(ترمذی)حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں:میں نے حضورِ اقدسؐ کو (رمضان کے علاوہ) شعبان سے زیادہ کسی ماہ میںنفلی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ شعبان کے اکثر حصے میں آپؐ روزہ رکھتے تھے، بلکہ (قریب قریب ) تمام مہینے کے روزے رکھتے تھے۔ (بخاری)
۱۵؍شعبان میں صیام و قیام: حضرت علیؓسے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺنے فرمایا : جب شعبان کی پندرھویں رات ہوتواس میں قیام کرواور اس کے دن میں روزہ رکھو ، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس رات میں غروبِ آفتاب ہی سے آسمانِ دنیا پر( اپنی شان کے موافق )نزول فرماتے ہیں، اور فرماتے ہیں کہ ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا کہ میں اس کی مغفرت کردوں ؟ ہے کوئی رزق طلب کرنے والا کہ میں اس کو روزی دوں؟ ہے کوئی مصیبت میں مبتلاکہ میں اس کو عافیت دوں؟ اسی طرح اور بھی ندائیں جاری رہتی ہیں، یہاں تک کہ صبح صادق ہو۔(ابن ماجہ)
یہ بھی پڑھئے: والدین کی خدمت و اطاعت کے بغیر سرخروئی اور کامیابی ممکن نہیں
رمضان کے چاند کی تلاش: اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : رمضان کے لئے شعبان کے چاند کے دن گنتے رہو۔(ترمذی) اسی لیے ماہِ شعبان کی۲۹؍ تاریخ کو غروبِ آفتاب کے وقت رمضان المبارک کا چاند دیکھنا یعنی دیکھنے کی کوشش کرنا اور مطلع پر تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ شعبان کی ۲۹؍ تاریخ کو رمضان المبارک کا چاند نظر آجائے تو اگلے دن سے رمضان کا روزہ رکھا جاسکے، لیکن اگراس دن چاند نظر نہ آئے جب کہ مطلع صاف ہو تو صبح کو روزہ نہیں رکھا جائے گا۔ ہاںاگر مطلع پر ابر یا غبار تھا تو اگلے روز صبح کو دس گیارہ بجے تک کچھ کھاناپینا نہیں چاہیے اور اگر تب تک کہیں سے چاند نظر آنے کی خبر معتبر طریقے سے آجائے تو روزہ کی نیت کرلی جائے، ورنہ کھا پی سکتے ہیں۔ لیکن۲۹؍ شعبان کو چاند نظر نہ آنے کی صورت میںاگلی صبح کے روزے کی اس طرح نیت کرنا کہ چاند ہوگیا تو رمضان کا روزہ ہوگا ورنہ نفل ہوگا، یہ طریقہ مکروہ ہے۔(عالمگیری)