تعطل و تغافل نہیں، تعقل و تحمل کی ضرورت ہے

Updated: November 15, 2020, 11:32 AM IST | Mubarak Kapdi

ہر رات وقت کی پابندہے، وہ ڈھل ہی جاتی ہے کیوں کہ بہر حال سورج کو طلوع ہونا ہے، کورونا کی سیاہ رات بھی ڈھلنے کو ہے۔ زندگی کو درپیش چیلنج اور امکانات دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ والدین اگر صبر و تحمّل اور تعقل و ادراک سے کام لیتے ہیں اور طلبہ تغافل نہیں برتتے تو وقت کا یہ تعطّل بھی ٹوٹ جائے گا

School Classroom - PIC : INN
اسکول کلاس روم ۔ تصویر : آئی این این

  رواں سال ۲۰۲۰ء کا کیلنڈر ہم سبھوں کو گھورتا رہا۔ ہم بھی اُس کو تکتے رہے کہ کب کوئی اچھی خبر آئے گی، کب وہ آگے بڑھے گا مگر وہ بھی بضد تھا اور ٹس سے مس نہیں ہوا۔ ایک ایک دن گنتے رہے، پھر ہفتے اور پھر مہینے مگر اُسے کوئی رحم نہیں آیا۔ وہی حال رہا ۲۰۲۰ء کی ڈائری کا۔ ہر سال ہم سبھی بڑے چائو سے نئے سال کی ڈائری خریدتے ہیں۔ اِس سال بھی کچھ صفحات پر کچھ الفاظ، کچھ سطریں لکھی بھی مگر اُس کے بعد سب کچھ تھم گیا، رُک گیا اور پھر ڈائری کے صفحات کورے رہ گئے۔ پوری طاقت کے ساتھ جب کچھ لکھنے کیلئے قلم ہاتھ میں لیتے اور بس اُسی لمحے کسی عزیز کے اِس دنیا سے رُخصت ہوجانے کی خبر آتی گئی اور پھر اُنگلیوں میں قلم پکڑنے کی سکت نہ رہتی۔ 
 ہمارا روئے سخن نوجوانوں سے ہے۔ وہ ہر سال ڈائری خریدتے ہیں۔ پہلے روز تو اُس پر گُل بوٹے بھی سجاتے ہیں۔ یکم جنوری کے صفحے پر اتنے سارے خواب سجاتے ہیں کہ صفحے پر جگہ کم پڑجاتی ہے۔ ۲؍جنوری کے صفحے پر کوئی زرین قول لکھتے ہیں، ۳؍جنوری کو ایک شعر اورپھر قصّہ ختم۔ ۲۰۲۰ء کی ڈائری قدرت نے کوری رکھ دی مگر ہر سال ہم ہی اُسے خالی چھوڑدیتے ہیں۔ کوئی ٹائم ٹیبل پورانہیں ہوتا، نہ کوئی وعدہ وفا ہوتا ہے۔ سارے منصوبے آدھے ادھورے رہ جاتے ہیں اور ساری پلاننگ دھری کی دھری رہ جاتی ہیں، تب ڈائری لکھنے کی ہمّت نہیں ہوپاتی۔رواں سال کی ڈائری ہم سے روٹھ گئی مگر نوجوانو! ہر سال ایسا نہیں ہوگا ، اسلئےپوری اُمّید اور بھرپور عزم کے ساتھ نئے سال ۲۰۲۱ء کی ڈائری خریدو۔ ہر بارڈائری دھوکہ نہیں دے گی، مگر آپ بھی اُسے دھوکہ مت دو۔ اُس میں لکھتے رہو۔ اچھے ،سچّے، کچّے ، پکّے جو بھی خیال ذہن میں آرہے ہیں۔ لکھتے رہئے۔ ڈائری کے یہ نوٹس ہی پھر زندگی سے ربط اور کمٹمنٹ کا باعث بنتے ہیں۔
چندہ برائے تعمیر قوم
  کورونا کی ابتلاء اور لاک ڈائون کے بعد اب جبکہ قوم و معاشرے کی تعمیر نو کی منصوبہ بندی کیلئے سبھی سر جوڑ کر بیٹھیں گے،مساجد بھی کھُل جائیں تب ہر معاملہ میںنئے سرے سے فکر کی ضرورت پیش آئے گی۔ آفاقی و زمینی ساری آفتوں میں قوم کے مفکّرین نے یہ نتیجہ تو اخذ کرہی لیا ہے کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ جہالت ہے۔ اسلئے اب ہماری مساجد میں جہاں ’چندہ برائے تعمیر مسجد‘ کی بڑی سی تجوری رکھی رہتی ہے وہاں پر ’چندہ برائے تعمیر ملّت‘ کی بھی ایک چھوٹی سی تجوری نصب کیجئے اور یہ تعمیر ملّت ممکن ہے تعلیم ملّت ہی سے۔ اس قسم کی کسی تجوری کا اہتمام اصلاحِ معاشرہ اور قوم کی خود کفالت کیلئے ضروری ہے ہی، البتہ یہ مسجد کے حق میں بھی ہے۔ آج لاک ڈائون کے اثرات، بے روزگاری کے گھنے سائے، نوجوانوں کے دِلوں میں بوئی جانے والی بے یقینی کی فصل ان سب کے نتیجے میں بد بختی سے اُن کی اکثریت صرف ڈسٹرب ہی دکھائی دے گی۔محلّوں میں مسجد کے باہراودھم مچاتے اور ممکن ہے مسجد کے آس پاس ہی کرکٹ ، والی بال، اور کیرم کی محفل قائم کریں گے۔اِن میں کئی تو مسجد کے گیٹ کے سامنے ہی اپنی بائیک کچھ اس طرح کھڑی کریں گے کہ نمازیوں کا آنا جانا دوبھرہوجائے۔ ان میں سے کچھ مسجد میں نماز پڑھنے کم اور اِمام و موذّن صاحبان پر دھونس جمانے زیادہ آئیں گے۔ آگے چل کر انہی بے پڑھے، جاہل نوجوانوں میں سے کوئی مسجد کا متولّی بھی بن جائے گا لہٰذا کتنی ضرورت ہے ہمارے مساجد میں ’تجوری برائے تعمیر ملّت ‘ قائم کرنے کی! ہماری مساجد ہی میں یہ ڈیٹا موجود ہو کہ محلے کے کتنے نوجوان اسکول / کالج کی فیس ادا نہ کرنے کی بنا پر ڈراپ آئوٹ ہوچکے ہیں۔ اُن کی تعلیمی کفالت کیلئے کیا کیا ترکیبیں ہوسکتی ہیں۔ مسجد کے مصلّیان میں سے ہر بچّے کیلئے ایک ایک اسپانسر تلاش کیا جاسکتا ہے؟ یہ سب قطعی ممکن ہے اور انتہائی ضروری بھی۔
دُور اندیشی کامیابی کی ضمانت ہے
  قوم کی موجودہ صورتِ حال سے یہ بالکل واضح ہے کہ ہمارے معاشرے  میں دُور اندیشی کا بڑا فقدان ہے ۔ بھیڑ چال اور اُسی بنا پر پیدا ہونے والی تن آسانی بالکل عام ہے۔ ۲۵؍سال نہیں، ۵؍برس بعد ہم اور ہمارے بچّے کہاں کھڑے ہوں گے، اس کا بھی ویژن ہمیںنہیں ہوتا۔ ہم اکثر چار آنے کی محنت کرتے ہیں اور اُس کا پھل سولہ آنے سے کم نہیں چاہتے۔ دراصل کامیابی کے اُصول ہر زمانے اور ہر دَورمیں مستقل رہتے ہیں۔ وہ کبھی تبدیل نہیں ہوتے۔ جیسے ہزار سال پہلے یہ حقیقت تھی اور وہ آج بھی ہے کہ کامیابی جس سکّے کا ایک رُخ ہے اُس سکّے کے دوسرے رُخ کا نام ہے قربانی۔ قربانی کے بغیر کامیابی ممکن ہی نہیں مگر اسے کیا کیجئے کہ ہم بھوک برداشت ہی نہیں کرسکتے، زندگی میںصرف آسانی ہی آسانی چاہتے ہیں۔ اسلئے حالات کے سامنے سرنگوں ہوکر کوئی بھی سمجھوتہ کرلیتے ہیں۔ گزشتہ صدی کی آٹھویں دہائی میں ہندوستانی مسلمانوں نے ایسا ہی کیاتھا جب خلیجی ممالک کے ریگستان میں اچانک بہار آگئی۔ پیٹر و ڈالر سے ہلچل مچی حالانکہ اُس دینار و درہم کی قیمت ہندوستانی صرف دو روپے کے برابر تھی مگر ملک بھر سے مسلمان لڑکوں نے پاسپورٹ بنوابنواکر خلیجی ممالک کا رُخ کرلیا۔ تعلیمی لیاقت کی کوئی قید نہیں تھی اسلئے ہائی اسکول پاس ہوئے بغیر ہی یہ لڑکے اپنے والدین کی خواہش پراُدھر چل پڑے۔ اس سے کوکن سے کیرلا تک کچھ بنگلے وجود میں آگئے اور بیٹیوں کو بھر بھر کر جہیز بھی دیا گیا البتہ معاشرتی زندگی تباہ ہوگئی۔ خلیجی ممالک میں بڑے عہدوں پر پوزیشن حاصل کرنے کے بجائے والدین کا یہ رویّہ عام ہوگیا کہ کچھ بھی چلے گا۔ اِس’کچھ بھی چلے گا‘ ذہنیت کی بھاری قیمت دو نسلوں نے ادا کی ہے۔
 آج لاک لائون کے بعد ڈر ہے کہ ہماری قوم میں کہیں کوئی بھگدڑ نہ مچ جائے۔ ممکن ہے کہیں سے شور اُٹھے کہ یہ تعلیم و علیم سے کچھ نہیں ہوگا۔ دو وقت کی روٹی کا سامان جس طرح اور جس قدر پیدا کرسکو، کر لو کیوںکہ نوکریاں چلی گئی ہیں، اب وہ ملنے سے رہیں وغیرہ۔ اب وائرس کی بناء پر پیدا شدہ حالات میںہماری قوم کو بڑے صبر ، بڑی حکمت اور بڑی دُور اندیشی کی ضرورت ہے۔ اپنے تمام ہوش و حواس اور سارے اعصاب کو یہ بار باریقین دلاتے رہنا ہے کہ ہر دَور اور ہر زمانے میں ہر قوم کی نجات علم و ہُنر کے حصول ہی سے ہے!
چیلنج بمقابلہ امکانات
  قدرت کایہ قانون ہے کہ جہاں چیلنجز ہوں گے وہاں پر امکانات بھی ہوں گے۔ نوجوانو! اسکول میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ فرّاٹے بھرتی ایک گاڑی کہیں سے گزرتی ہے تو وہاں کی ہوا ہٹ جاتی ہے، اُس خلا کو دَور کرنے کیلئے فوراً پچھلی جانب سے ہوا آجاتی ہے تاکہ ہوا کا تناسب اور توازن برقرار رہے۔ آج کورونا وائرس کی ابتلاء اور اُس کی روک تھام کیلئے تالہ بندی یہ سب کچھ ایک آندھی کی طرح آگئے ہیں مگر کسی بنا پر بھی پیدا ہونے والا خلا ہمیشہ کیسے قائم رہ سکتا ہے؟ نئے امکانات و نئے مواقع یقیناً دستیاب ہوں گے، قدرت کی نظر و نگرانی اُس کی مخلوق پر ہمیشہ رہتی ہے۔ہمیں معلوم ہے کہ اِن گزشتہ ۸؍ماہ میں ساتوں برِّ اعظم متاثر ہوئے ہیں مگر اُس قدر ت سے کیسے مایوس ہوسکتے ہیں جس نے اس کا ئنات اور اس جیسے مزید کئی کائنات کی تخلیق کی ہے۔ ہم اِن حالات میں آنسو پونچھنے کی بات کرتے ہیں۔ بہنے دیجئے اُنھیں دِل ہلکا کرلیجئے اور پھر ایک ایک اینٹ لے کر زندگی کی عمارت کی تعمیر شروع کیجئے۔ 
رُک جانا نہیں
  چلنا اور چلتے رہنا زندگی ہے، چلتے وقت ٹھوکر بھی لگتی ہے، آدمی گرتا بھی ہے مگر پھر بھی ایک جگہ پر رُکنا اور رُکے رہنا زندگی نہیں۔ اس سال پہلی مرتبہ ایسا ہو ا کہ زندگی کچھ رُک گئی ، تھم گئی۔ ایسا صرف اسلئے ہوا کہ ہر کوئی بے بس تھا مگر زندگی کی فطرت ہی حرکت سے وابستہ ہے۔ اب زندگی کی گاڑی کو دوبارہ پٹری پر لانا ہے۔ تعلیمی اداروں کے کمروں میں مکڑی نے جالے بُنے ہیں۔ دفتر کی میزوںپر دھول اَٹ گئی ہے مگر ہمارے ذہن پر کس نے جالے بنائے ہیں؟ ہماری فکر پردھول کہاں جمی ہے؟ ٹرینیں اور ہوائی جہاز رُکے ہیں، ہمارے خواب، ہمارے حوصلے تو اُڑان بھر ہی رہے ہیں، اسلئے دوستو! رُکنا نہیں،رُک جانایا رُکے رہنا فطرت کو پسند ہی نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK