Inquilab Logo Happiest Places to Work

تبدیلیٔ مذہب کا ہو ّا، متعلقہ قانون اور حقائق

Updated: August 23, 2026, 12:59 PM IST | Aakar Patel | Mumbai

کہاں کتنے لوگ مذہب تبدیل کرتے ہیں اس کے اعدادوشمار کا تجزیہ بہت کچھ بتاتا ہے۔ اس مضمون میں اعدادوشمار ہی کی مدد سے واضح کیا گیا ہے کہ اصل صورت حال کیا تھی، قانون کیوں بنا اور اس کا مقصد کیا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

اس ہفتے کی ایک سرخی یوں تھی: ’’پونے پولیس کے افسران نے اس احساس کے بعد کہ قانون ابھی نافذ نہیں ہوا ہے، دو (۲) معاملات سے تبدیلیٔ مذہب قانون کی شقوں کو ہٹا لیا‘‘۔ اس سے ظاہر ہوا کہ ہمارے ہمہ وقت چوکس قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نہ صرف سابقہ قوانین سے متعلق مسائل کو سلجھایا اور حل کیا ہے، بلکہ مستقبل کے مسائل کا بھی تدارک کیا ہے۔ 
مذکورہ نیا قانون بی جے پی کے دیئے گئے تحفوں میں سے ایک ہے۔ تبدیلیٔ مذہب کا یہ قانون سب سے پہلے ۲۰۱۸ء میں اتراکھنڈ میں بنایا گیا اور نافذ ہوا۔ اس سے یہ تضاد پیدا ہوا کہ مذہب کی تبلیغ ہندوستانیوں کا بنیادی حق بھی ہے (آرٹیکل ۲۵) اور قابل سزا جرم بھی۔ اس کی وجہ سے کچھ لوگ تذبذب میں پڑ سکتے ہیں کہ آخر ہم کرنا کیا چاہتے ہیں مگر مادر جمہوریت عقلمند ہے اور اسے علم ہے کہ اپنے بچوں (ملک کے شہریوں ) کو کس طرح قاعدہ میں رکھا جاسکتا ہے۔ میں اس سے قبل ان قوانین میں موجود مخصوص مسائل کے بارے میں لکھ چکا ہوں اور اس وقت انہیں دہرانا نہیں چاہتا۔ لیکن ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ دراصل وہ کون سا مسئلہ ہے جسے حل کرنے کی کوشش ان قوانین کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ بھارت میں تبدیلی ٔ مذہب کا معاملہ کتنا سنگین ہے؟
ہندوستان میں مذہب کی تبدیلی کا عمل تاریخی طور پر برادریوں کے ذریعے ہوتا رہا ہے۔ یہاں کسی فرد کے لئے اپنا مذہب تبدیل کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ برادری اور خاندان کے ساتھ تعلقات بہت مضبوط ہوتے ہیں۔ اس سماجی وجہ اور مذہبی آزادی پر عائد پابندی کے باعث، ہندوستان میں مذہب تبدیل کرنے والوں کی تعداد کافی کم ہے۔ ’انڈیا ٹوڈے‘ نے اپنے ۱۵؍ ستمبر ۱۹۸۱ء کے شمارے میں درج کیا تھا کہ ’’وزارتِ داخلہ کی جانب سے انتہائی احتیاط اور محنت سے مرتب کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ چودہ مہینوں کے دوران مذہب کی تبدیلی کے جو واقعات ریکارڈ کئے گئے، ان میں زیادہ تر ہریجنوں کے اسلام قبول کرنے سے متعلق تھے۔ ان کی تعداد ۵؍ ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔ “ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ شمالی ہندوستان سے بھی مذہب کی تبدیلی کی کچھ اطلاعات ملی تھیں، لیکن یہ عمل بنیادی طور پر تمل ناڈو میں ہو رہا تھا؛ وہاں گزشتہ آٹھ مہینوں (اُس وقت کے ۸؍ مہینوں ) کے دوران تقریباً دو ہزار افراد نے اپنا مذہب تبدیل کیا، جبکہ اس کے مقابلے میں ۱۹۴۴ء سے ۱۹۸۰ء تک یہ تعداد ۱۵۰۰؍ سے بھی کم تھی۔ 
۷؍ مارچ ۲۰۱۷ء کو ’’ملیالم منورما‘‘ نے ایک غیر سرکاری اور غیر نفع بخش تنظیم (نان پرافٹ آرگنائزیشن) (میڈیا ڈیولپمنٹ اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن، کوزی کوڈ) کی تحقیق شائع کی، جس سے ظاہر ہوا کہ جنوری ۲۰۱۱ء اور دسمبر ۲۰۱۷ء کے درمیان کیرالا میں مذہب تبدیل کرنے والوں میں سے ۶۰؍ فیصد نے ہندو مذہب اختیار کیا۔ نام کی تبدیلی کے سرکاری ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ۷؍ سالہ مدت میں ۸۳۳۴؍ افراد نے مذہب تبدیل کیا۔ ان میں سے ۴۹۶۸؍ افراد نے ہندو مذہب اپنایا، جن میں اکثریت ۴۷۵۶؍ کا تعلق عیسائی مذہب سے تھا اور ۲۱۲؍ کا تعلق مسلمان برادری سے تھا۔ کل تعداد میں خواتین ۲۲۴۴؍ خواتین اور مرد ۲۷۲۴؍ تھے۔ 
اسلام قبول کرنے والے ۱۸۶۴؍ افراد میں سے ۷۸؍ فیصد کا تعلق پہلے ہندو مذہب سے تھا، اور اس میں بھی مردوں اور خواتین کی تعداد تقریباً برابر تھی۔ اسی طرح، عیسائیت اختیار کرنے والے ۱۴۹۶؍ افراد میں سے ۹۵؍ فیصد ہندو تھے، جن میں ۷۲۰؍ خواتین اور ۷۷۶؍ مرد تھے۔ ۶؍ افراد نے بدھ مت اختیار کیا۔ ان میں سے ۵؍ ہندو اور ایک عیسائی تھا، اور مجموعی طور پر ان میں دو خواتین اور چار مرد تھے۔ اس معاملے پر ریاستی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔ تاہم، اس سے کچھ عرصہ قبل ٹا ئمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ (عنوان: کیرالہ میں ۵؍ سال کے دوران تقریباً ۶؍ ہزار افراد نے اسلام قبول کیا: رپورٹ ۱۵؍ جولائی ۲۰۱۶ء) میں پولیس کی ایک `انٹیلی جنس رپورٹ کا حوالہ دیا گیا تھا، جس کے مطابق ۲۰۱۱ء اور ۲۰۱۵ء کے درمیان ۵۷۹۳؍ افراد نے مذہب تبدیل کیا۔ ان میں سے تقریباً نصف مرد اور نصف خواتین تھیں۔ مذہب تبدیل کرنے والے ہندوؤں کی تعداد ۴۷۱۹؍ جبکہ عیسائیوں کی تعداد ۱۰۷۴؍ تھی۔ برسوں پر محیط یہ اعداد و شمارخواہ وہ تمل ناڈو، گجرات یا کیرالہ سے متعلق ہوں، وی ایچ پی کی جانب سے کرائے گئے تبدیلیٔ مذہب کے واقعات کے مقابلے میں بہت کم معلوم ہوتے ہیں۔ 
۲۶؍ اکتوبر ۲۰۱۹ء کو خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے وی ایچ پی کے حوالے سے بتایا کہ اس تنظیم نے ۲۰۱۸ء میں نے ۲۵؍ ہزار مسلمانوں اور عیسائیوں کو، جن میں زیادہ تر آدیباسی (قبائلی) تھے، ہندو مذہب میں شامل کرایا۔ ۸؍ جنوری ۲۰۱۶ء کو پی ٹی آئی نے خبر دی کہ وی ایچ پی لیڈر پروین توگڑیا نے ایک رَیلی سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ ان کی تنظیم نے گزشتہ دس سال میں پانچ لاکھ سے زائد عیسائیوں اور ڈھائی لاکھ مسلمانوں کو ہندو مذہب قبول کروایا ہے۔ توگڑیا نے کہا: ’’گزشتہ دس سال میں ہم نے پانچ لاکھ سے زائد عیسائیوں اور ڈھائی لاکھ مسلمانوں کی گھر واپسی کرائی۔ ہماری گھر واپسی کی شرح ہر سال تقریباً ۱۵؍ ہزار ہوا کرتی تھی، لیکن گزشتہ سال ہم نے ۴۰؍ ہزار کا ہندسہ عبور کر لیا، اور اس میں آر ایس ایس کے اعداد و شمار شامل نہیں ہیں۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اگر بھارت میں ہندوؤں کو اکثریت میں رہنا ہے اور اپنے مذہب کو بچانا ہے، تو ہمیں گھر واپسی کی مزید مہم چلانی ہوں گی تاکہ کروڑوں دیگر لوگوں کو اپنے مذہب میں شامل کیا جا سکے۔ ‘‘ اس مقصد کیلئے، انہوں نے کہا کہ وی ایچ پی ایک ایسا بل چاہتی ہے جس کے تحت لوگوں کا دوسرے مذاہب کو قبول کرنا مشکل ہو جائے۔ 
اور ہوا بھی یہی کہ ۲۰۱۸ء کے بعد بی جے پی کے قوانین میں خاص طور پر ان لوگوں کو استثنیٰ دیا گیا جو ’اپنے آبائی مذہب‘ میں واپس جاتے ہیں۔ یہی وہ پس منظر ہے جس کے تحت اس نوع کے قوانین منظور کئے گئے ہیں جن کا ذکر بالائی سطور میں کیا گیا۔ تو کیا ہم نے بے روزگاری، غربت اور تعلیم کے مسائل کو حل کرلیا ہے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK