این ٹی اے نے تردید کی ، کہا کہ ’’انسانی نظر ثانی‘‘ کو یقینی بنایا گیا تھا، کئی سوال برقرار۔
EPAPER
Updated: August 21, 2026, 10:55 AM IST | Agency | New Delhi
این ٹی اے نے تردید کی ، کہا کہ ’’انسانی نظر ثانی‘‘ کو یقینی بنایا گیا تھا، کئی سوال برقرار۔
نیٖٹ اور یو جی سی- این ای ٹی جیسے اہم امتحانات کا انعقاد کرنےوالا ادارہ ’’ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی ‘‘(این ٹی اے) جو پہلے ہی کئی تنازعات میں گھرا ہوا ہے، ایک نئے تنازع میں پھنس گئی ہے۔ یو جی سی- این ای ٹی کے جو ۳؍ پرچے خامیوں کی بنا پر منسوخ کئے گئے ہیں، ان کے تعلق سے انکشاف ہوا ہے کہ وہ اے آئی سے بنوائے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے:اسرائیل: بن گوریون ہوائی اڈے پر مزدوروں کی ہڑتال، ۸۳؍ لاکھ ڈالر کا نقصان
ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق مختلف موضوعات کے ماہرین اور این ٹی اے کے سابق عہدیداروں نے منسوخ کئے گئے تینوں پرچوں کی غلطیوں کو انسانی جانچ پڑتال کی کمی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ این ٹی اے نے متنازع سوالیہ پرچوں کی تیاری میں ’’جنریٹو اے آئی‘‘ کے استعمال کی تردید کی ہے۔ این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل ابھیشیک سنگھ نے اخبار سے گفتگو میں صفائی دی ہے کہ سوالیہ پرچوں کی تیاری کے بعد ان کی ’’انسانی نظر ثانی ‘‘ ہوئی ہے تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ پھر یہ غلطیاں کیسے نظر انداز ہو گئیں۔
بڑے پیمانے پر شکایتیں سامنے آنے کے بعد تقریباً ۶؍ہفتے کی تاخیر سے این ٹی اے نے یو جی سی -این ای ٹی کےانگریزی، کامرس اور سوشیالوجی کے امتحان دوبارہ لینے کا حکم دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوالیہ پرچوں کی تیاری میں اے آئی کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جارہا ہے۔