پیلٹ گن سے زخمی نوجوان کو لے کر خود پولیس اسٹیشن پہنچے، شکایت درج نہ ہونے پر دھرنے پر بیٹھ گئے،۶؍ ماہ تک نہ اُٹھنےکی بات کہی، ۶؍ گھنٹے میں وزارت داخلہ کو ہتھیار ڈالنا پڑا۔
EPAPER
Updated: August 22, 2026, 10:20 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi
پیلٹ گن سے زخمی نوجوان کو لے کر خود پولیس اسٹیشن پہنچے، شکایت درج نہ ہونے پر دھرنے پر بیٹھ گئے،۶؍ ماہ تک نہ اُٹھنےکی بات کہی، ۶؍ گھنٹے میں وزارت داخلہ کو ہتھیار ڈالنا پڑا۔
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جمعہ کو مودی سرکار کا پورا سسٹم ہلا کر رکھ دیا اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے ماتحت آنےوالی دہلی پولیس کو اس بات پرمجبور کردیا کہ وہ کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران ۲۰؍ جولائی کو پیلٹ گن سے زخمی ہونےوالے ساحل لوچپ کی انفرادی ایف آئی آر درج کرے۔ یاد رہے کہ ۱۹؍ سالہ ساحل کیلئے پیلٹ گن کے چھروں کی وجہ سے ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہو نے کا خطرہ ہے جبکہ کچھ چھرے ان کے دل کے انتہائی قریب پیوست ہیں جنہیں نکالنے سے جان کو خطرہ لاحق ہوسکتاہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’ بطور وزیراعظم اس سال نریندر مودی کی آخری سالگرہ ہوگی‘‘
انصاف کی جانب پہلا قدم: راہل گاندھی
ایف آئی آر درج ہونے کے بعد گاندھی نے اسے ’’انصاف کی جانب پہلا قدم‘‘ قرار دیا اور پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں ۶؍گھنٹے سے زائد جاری رہنےوالا اپنا دھرنا ختم کردیا۔اس سے قبل لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ انصاف سے خوفزدہ ہیں۔ ایک پولیس افسر نے بتایاکہ ’’ہم نے بی این ایس کی دفعہ ۱۱۸؍(خطرناک ہتھیار یا ذرائع سے ان بوجھ کر چوٹ یا شدید چوٹ پہنچانا) اور دفعہ ۲۵؍ (دوسروں کی زندگی یا ذاتی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا عمل) کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔‘‘
مندر مارگ پولیس اسٹیشن سے ڈی سی پی آفس تک
ساحل لوچپ جن کے والد کا نام دیپک اور والدہ کا نام جیوتی ہے، کے ساتھ راہل گاندھی جمعہ کی صبح پہلے مندر مارگ پولیس اسٹیشن پہنچے اور ایف آئی آر درج کرنے کی اپیل کی۔ جب ان کی اپیل کو منظور نہیں کیا گیا تو وہ پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن گئے اور نئی دہلی ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس سچن شرما سے ملاقات کی۔شرما کے ساتھ بھی بات چیت بے نتیجہ رہی جس کے بعد کانگریس لیڈر نے پولیس اسٹیشن کے باہر دھرنا شروع کردیا، جہاں ڈی سی پی کا دفتر بھی موجود ہے۔ ساحل اور اس کی والدہ جیوتی بھی وہاں موجود تھیں۔ کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی ، جے رام رمیش ، وویک تنکھا، سپریہ شرینیت اور پارٹی کےمتعدد سینئر لیڈر بھی احتجاج میں راہل گاندھی کے ساتھ تھے ۔ راہل گاندھی نے اعلان کیا کہ ’’۶؍ مہینے بھی ایف آئی آر درج نہیں ہوگی تو میں ۶؍ مہینے یہیں پولیس اسٹیشن کے باہر بیٹھا رہوں گا۔‘‘ان کے اس اعلان سے پولیس اور انتظامیہ کے ہاتھ پیر پھول گئے۔
’’اوپر سے‘‘ ایف آئی آر درج نہ کرنے کی ہدایت
راہل گاندھی نے پولیس اسٹیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ ایف آئی آر درج کی جائے۔ ساحل یہاں موجود ہے اور اس کی والدہ بھی اس کے ساتھ ہیں۔ پولیس افسر کہہ رہے ہیں کہ اوپر سے احکامات ہیں، اس لیے ایف آئی آر درج نہیں کی جاسکتی۔ جب تک ایف آئی آر درج نہیں ہوگی، ہم یہاں سے نہیں ہٹیں گے۔‘‘انہوں نے کہا، ’’ہمارا واحد مطالبہ ایف آئی آر اور تفتیشی افسر کا نام ہے۔ ہم صرف انصاف مانگ رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:اسرائیل: اعلیٰ تعلیم یافتہ شہریوں کا ریکارڈ اخراج، ’برین ڈرین‘ کا خطرہ بڑھ گیا
راہل گاندھی کا امیت شاہ پر حملہ
راہل گاندھی نے کہا کہ ایک نوجوان پر گولی چلائی جاسکتی ہے، لیکن ’’امیت شاہ کی وزارت کے ماتحت دہلی پولیس متاثرہ کو انصاف نہیں دے رہی ہے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے کاغذ دکھاتے ہوئے کہاکہ ’’ یہ اسپتال کی رپورٹ ہے، سب کچھ واضح طور پر لکھا ہوا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے پیلٹ گن نہیں چلائی لیکن کسی نے توچلائی ہے ۔ جرم ہوا ہے کیونکہ اس(ساحل) کے جسم سے پیلٹ ملے ہیں۔‘‘ باقی صفحہ ۹؍ پر
راہل گاندھی کے ساتھ وکیل کون ہیں؟
راہل گاندھی کے ساتھ نظر آنےوالی نوجوان خاتون وکیل سواتی کھنہ ہیں جو شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کے دوران منظر عام پر آئی تھیں۔ اس وقت وہ وکالت کی تعلیم حاصل کررہی تھیں۔ انہوں نے طالب علمی کے زمانے میں بھی انصاف کیلئے آواز بلند کرتے ہوئے سی اے اے کے خلاف ڈٹ کر آوا زاٹھائی تھی۔ اب وہ دہلی ہائی کورٹ میں وکیل ہیں اور حال ہی میں ان کی کامیاب پیروی سے یو اے پی اے کے تحت ماخوذ کئے گئے حقوق انسانی کے علمبردار خرم پرویز کو طویل عرصہ بعد ضمانت پرر ہائی ملی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اٹلی کے۱۲۳؍ سال پرانے ساحل کی پالیسی پر تنازع مگرسیاحوں کی تعداد میں اضافہ
بی جےپی چراغ پا، سینئر لیڈرس کو اُتارا
پیلٹ گن سے زخمی ہونےوالے ساحل لوچب ولد دیپک کو انصاف دلانے کیلئے راہل گاندھی کے دھرنے کو ’’انارکی کی سیاست‘‘قرار دیتے ہوئے بی جےپی نے اپنے کم از کم ۴؍ سینئر لیڈروں کو میدان میں اتار ا تاہم حیرت انگیز طو رپر وزیر داخلہ امیت شاہ جن کی وزارت کے تحت یہ معاملہ آتا ہے، خاموش رہے۔ روی شنکر پرساد نے سپریم کورٹ کی قائم کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کا حوالہ دیتے ہوئے راہل گاندھی کے دھرنے کو غلط قرار دیا جبکہ مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ یہ ’’انصاف کی حقیقی کوشش نہیں سیاسی مایوسی اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کی حکمت عملی ہے۔ ‘‘ اس بیچ راج ناتھ سنگھ نے وندے ماترم کا موضوع چھیڑنے کی کوشش کی جبکہ اسمرتی ایرانی نے بھی راہل گاندھی کے دھرنے کو ’’دکھاوا‘‘ قرار دیا۔ ا س کیلئے انہوں نے یہ دلیل دی کہ سوشل میڈیا پر لوگ شیئر کر رہے ہیں کہ دھرنے کے دوران راہل گاندھی خود بھی ٹافی کھارہے تھے اور لوگوں کو بھی کھلار ہے تھے۔
یہ مضحکہ خیز ہے کہ مودی جی امیت شاہ کو بچانے کیلئے ایک کے بعد ایک وزیر کو آگے کر رہے ہیں ، روی شنکر جی، نڈا جی، راج ناتھ جی، کرن رجیجو جی۔ ہمیشہ یہ ’’جی‘‘ یا وہ ’’جی‘‘۔ لیکن وہ ’’جی‘‘ کبھی سامنے نہیں آتے جن کا سارا معاملہ ہے۔یہ وزارت داخلہ کا معاملہ ہے اور اس کیلئے وزیر داخلہ جواب دہ ہیں۔ وہ سامنے آکر وضاحت کیوں نہیں کرتے؟ کیا وہ بزدل ہیں؟ یا پھر یہ خاموشی اقبال جرم کے مترادف ہے؟‘‘
پو َن کھیڑا | کانگریس ترجمان