یاد رہے کہ دولت اور لباس ،تکریم ِانسانیت کا معیار نہیں ہے

Updated: October 16, 2020, 12:16 PM IST | Mudassir Ahmed Qasmi

کبھی ہم نادانستگی میں ایسی غلطی کر بیٹھتے ہیں جس کا بظاہر ہمیں ادراک نہیں ہوتا لیکن اس کا منفی اثر ہماری زندگی میں ضرور پڑتا ہے۔ ایسا اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ہم جس ماحول میں رہتے ہیں وہاں کچھ ایسی سوچ حاوی ہو جاتی ہے جس کا مذہب یا اخلاقیات سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا لیکن چونکہ اکثر لوگوں کی وہ سوچ ہوتی ہے اس وجہ سے سماج کے چھوٹے بڑے سب اسی سوچ کے حامل بن جاتے ہیں

Wealth - PIC : INN
دولت ۔ تصویر : آئی این این

کبھی ہم نادانستگی میں ایسی غلطی کر بیٹھتے ہیں جس کا بظاہر ہمیں ادراک نہیں ہوتا لیکن اس کا منفی اثر ہماری زندگی میں ضرور پڑتا ہے۔ ایسا اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ہم جس ماحول میں رہتے ہیں وہاں کچھ ایسی سوچ حاوی ہو جاتی ہے جس کا مذہب یا اخلاقیات سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا لیکن چونکہ اکثر لوگوں کی وہ سوچ ہوتی ہے اس وجہ سے سماج کے چھوٹے بڑے سب اسی سوچ کے حامل بن جاتے ہیں۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ ہم میں سے ایک طبقہ نے خود ساختہ طور پر اس سوچ کو اپنے ذہن و دماغ میں جا گزیں کر لیا ہے کہ مال و دولت والا یاقیمتی کپڑا اور زرق برق لباس زیب تن کرنے والا ہی بڑا آدمی ہوتا ہے، چنانچہ اس سوچ کے آئینے میں یہ لوگ دوسروں کو دیکھتے، پرکھتے اور برتتے ہیں۔حالانکہ کسی بھی مذہب یا اخلاقیات کی ڈکشنری میں کسی شخص کے بڑا ہونے کی یہ تعریف نہیں کی گئی ہے کہ وہ صرف صاحب ثروت یا عمدہ لباس پہننے والاہو۔
اس موضوع کو جب ہم اسلامی تعلیمات کے تناظر میں دیکھتے ہیں تو نہایت واضح لفظوں میں ہمیں رہنمائی ملتی ہے کہ کسی انسان کے بڑا یا چھوٹا ہونے کا معیار قطعاً اس کا حسب و نسب، مال و دولت یا لباس نہیں ہے بلکہ اس کے اعمال ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتے بلکہ تمہارے دلوں کو اور تمہارے اعمال کو دیکھتے ہیں۔ (مسلم) اسی طرح اسلامی تعلیمات کے مطابق دنیا میں عزت حاصل کرنے کا راستہ متعین ہے کہ انسان تقویٰ اور طہارت کی زندگی گزارے، یعنی: اللہ کے حکموں کو پورا کرے،  حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو اپنائے اور  گناہوں سے بچے۔ چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا ہے وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔‘‘(سورہ الحجرات:۱۳) 
مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اصل میں انسان کا بڑا یا چھوٹا یا معزز و حقیر ہونا؛ ذات پات اور خاندان و نسب سے تعلق نہیں رکھتا؛ بلکہ جو شخص جس قدر نیک خصلت، باادب اور پرہیزگار ہو، اُسی قدر اللہ کے یہاں معزز و مکرم ہے۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ سماج کے بڑے لوگ جب اپنی خود ساختہ سوچ کے مطابق لوگوں کو عزت دیتے ہیں تو اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ سماج کے چھوٹے اسی سوچ اور روش کو اپنا لیتے ہیں اور یہی چھوٹے جب بڑے بن جاتے ہیں تو اپنے سیدھے سادے اور اسراف سے پاک کفایتی زندگی اپنانے والے رشتے داروں کو معمولی سمجھنے لگتے ہیں بلکہ دوسروں کے سامنے ان سے اپنے آپ کو منسوب کرنے کو بھی معیوب سمجھتے ہیں۔  دوسروں کو دولت اور لباس سے پہچاننے کے اسی معاشرتی المیے کو حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک مشہور واقعے سے بہتر ڈھنگ سے سمجھا جا سکتا ہے اور اس سے نصیحت حاصل کی جا سکتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ شیخ سعدیؒ کسی بڑی ضیافت میں مدعو کئے گئے، چنانچہ آپ سادے لباس میں وہاں پہنچے، لیکن مالداروں کی چکا چوند میں حضرت شیخ سعدیؒ کی طرف کسی نے توجہ نہ دی؛ چنانچہ شیخ معاملے کو سمجھ کر واپس ہوگئے اور پھر عمدہ لباس زیب تن کر کے دوبارہ دعوت میں پہنچے، اس مرتبہ استقبال کرنے والوں کا رویہ بدلا ہوا پایا، ان لوگوں نے انتہائی تکریم کے ساتھ شیخ کو کھانے پر بٹھایا۔ شیخ سعدی نے ان لوگوں کی نصیحت کے لئے کپڑے کے دامن یا آستین میں شوربا لگانا شروع کیا اور کپڑے کو فرمانے لگے:کھاؤ۔ لوگوں نے یہ ماجرا دیکھا اور وجہ دریافت کی تو آپؒ نے فرمایا، مجھے نہیں بلکہ اس کپڑے کو عزت ملی ہے، لہٰذا اسے دعوت کھلا رہا ہوں۔ 
ذرا غور کریں کہ کیا ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی مجلسوں اور دعوتوں میں دوسروں کی تحقیر کا یہی رویہ نہیں اپناتے ہیں؟
 ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم ظاہری اسباب کو دیکھنے کے بجائے انسان کی شخصیت کو اس کے روحانی اوراخلاقی اقدار سے پہچاننے کی کوشش کریں۔یہاں ایک سوال یہ قائم ہوتا ہے کہ ظاہری اسباب سے انسان کو پہچاننا تو آسان ہے لیکن کسی کی روحانیت یا اخلاقیات کا اندازہ لگانا آسان نہیں ہے تو پھر ہم اپنے برتاؤ کی بنیاد کس چیز پر رکھیں؟ اس کا ایک آسان جواب یہ ہے کہ ہم سب سے انسانیت کی بنیاد پر برتاؤ کریں اور رشتہ استوار کریں، جب ہم اس طرح قدم بڑھائیں گے اور کسی سے قریب ہوں گے تو ان کی شخصیت کے راز ہمارے سامنے از خود کھلتے جائیں گے۔
ہمیں یہ ضرور یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام میں تکریم انسانیت ایک مستقل باب ہے اور ہمارے لئے اس تعلق سے بے شمار رہنمائی موجود ہے۔ نبی  اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری حیات ِ طیبہ سے اکرام انسانیت کی تعلیم عیاں ہے؛ چاہے وہ بے یار و مددگار صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو تعاون دینے کا معاملہ ہو یا اصحاب صفہ کی خبر گیری کی بات؛ چاہے وہ حاتم طائی کی بیٹی سفانہ کے سر پر اپنا رومال مبارک ڈالنے کی بات ہو یا پھر اپنی رضاعی ماں حلیمہ سعدیہ کو اپنی چادر بچھا کر بٹھانے کا واقعہ۔ 
 ایک طرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سیرت ہے اور دوسری طرف ہم میں سے اکثر کی یہ حالت ہے کہ ہم اپنی طرف قدم بڑھاتے کسی مفلوک الحال یا سیدھے سادے انسان کو دیکھتے ہی ایک عجیب مکروہ تصور اپنے ذہن میں لے آتے ہیں؛ ہمارا یہ طرز عمل نہ ہی مذہبی اعتبار سے درست ہے اور نہ ہی اخلاقی اعتبار سے اور سب سے بڑی بات یہ کہ یہ ہمارے ذہنی دیوالیہ پن اور بیماری کو ظاہر کرتی ہے، اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی زندگی میں تکریم انسانیت کے بجھتے چراغ کو مضبوطی سے روشن کریں تاکہ دم توڑتی انسانیت کو اس روشنی سے ایک نئی زند گی مل جائے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK