عالمی ادب اور اُردو ادب کا مزاحمتی رویہ

Updated: January 26, 2020, 2:16 PM IST | Ali Rifad Fatehi

عالمی ادب میں مزاحمت کی آواز ہر دور میں سنائی دیتی رہی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ادب بذات خود مزاحمتی ہوتا ہے۔ مزاحمتی ادب اُردو میں بھی خاصا وسیع ہے۔

عالمی ادب اور اُردو ادب کا  مزاحمتی رویہ
کتاب میلہ ۔ تصویر : آئی این این

 ادب انسانی زندگی کو براہ راست متاثر کرتا ہے اور معاشروں کو شعور و آگہی فراہم کرنے کا ذریعہ بھی بنتاہے۔ جب ہم عالمی ادبی سرمائے کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں خال خال ہی کوئی ایسا ادیب یا شاعر نظر آتا ہے جس کے دل و دماغ کوظلم و جبر نے نہ جھنجوڑا ہو اور جس کے قلم سے سیاہی کے بدلے خون نہ ٹپکا ہو۔ اس سےیہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ادب میں مزاحمت کا بھر پور اظہار ملتا ہے۔ بعض ماہرین کے خیال میں ادب کی مزاحمتی اور غیر مزاحمتی درجہ بندی اور تقسیم غلط ہے کیوں کہ ادب بذات خود ایک مزاحمتی عمل ہے ۔ جب ادیب اپنے گرد و پیش کے ساتھ مکمل ہم آہنگی نہیں کر پاتاتو  اس کا اظہار ادبی تخلیقات کے ذریعہ کرتا ہے۔ اس حوالے اور نظریئے سے دیکھا جائے تو سارا ادب مزاحمتی ادب ہے اور ہر ادیب مزاحمت کار ہے۔
 مزاحمت اور بغاوت کا اظہار یونانی ادب میں واضح طور پر ملتا ہے۔ قدیم یونان میں جو جمہوری مزاج تھا، اس نے ادب میں مزاحمتی رویوں کے لئے گنجائش پیدا کی اور مزاحمتی ادب کی شروعات ہوئی ۔ یہ دراصل ایک ایسی تخلیق ہے جس میں تسلط، غلبہ،  نا انصافی اور جبرکے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہے۔ 
 مزاحمتی ادب بااختیار بنانے اور موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنے کی ادبی کوشش ہوتا ہے۔ فلسطینی مصنف غسان کنفانی نے ۱۹۶۱ء میں پہلی بار اپنی کتاب ” مقبوضہ فلسطین میں مزاحمتی ادب“ میں لفظ ’’مزاحمت‘‘ کا استعمال کیا تھا  جبکہ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ’’مزاحمتی ادب‘‘ کی اصطلاح سب سے پہلے ”باربرا ہارلو“ Barbara Harlow نے متعارف کرائی اور مسلح جدوجہد میں ادب کے کردار پر گفتگو کی۔ ان کی اس گفتگو میں افریقہ، لاطینی امریکہ اور ایشیاء کے مزاحمتی ادب کی تحریریں شامل تھیں جو آزادی کیلئے مسلح جدوجہد میں مصروف تھیں۔ وہ وضاحت کرتی ہیں کہ کس طرح جدوجہد قومی آزادی نے نظریاتی تجزیہ کے لئے شعری و  نثری اور ان میں مزاحمتی ادبیات کا ذخیرہ تیار کیا۔  
  مزاحمتی ادب کی اصطلاح پہلی بار فلسطینی مصنف غسان کنفانی نے کی ہو یا ”باربرا ہارلو‘‘ نے، لیکن اتنا یقینی ہے کہ مزاحمتی ادب کی اصطلاح عہدِ آمریت میں وجود میں آئی۔ اس طرح ایک جانب ویتنام، فلسطین اور الجزائر کی آزادی کے لئے لکھا گیا ادب مزاحمتی ادب کہلایا تو دوسری جانب حاشیائی آبادی کی حوصلہ افزائی میں تحریر کردہ ادب بھی مزاحمتی ادب شمار کیا گیا۔ اہلِ قلم نے ہمیشہ ظلم وجبرکے اندھیروں کے خلاف حق اور سچائی کے چراغ روشن کئے ہیں۔ ہر سچا شاعر اور ادیب مظلوم کے ساتھ کھڑاہوتا ہے۔ فرانس کے معروف دانشور سارترالجزائر پر فرانسیسی تسلط کے خلاف اپنے ہی ملک کی حکومت کو ہدف تنقید بناتا ہے اور احتجاجی تحریک کی قیادت کرتا ہے۔ حالات بگڑجانے کے باوجود فرانس کا حاکم وقت اسے اس بنیاد پرگرفتار کرنے سے انکار کرتا ہے کہ سارتر فرانسیسی دانشور ہے اور پورے فرانس کے دانشوروں کو ہتھکڑی نہیں پہنائی جاسکتی۔
 اردو میں قدیم شعری اصناف”شہر آشوب“ اور ”مرثیہ “کو مزاحمتی ادب کے ابتدائی نقوش کے طورپر پیش کیا جا سکتا ہے کیونکہ ان اصناف میں درحقیقت ان سماجی و ثقافتی رویوں کے جبری استحصال سے انکار کا اظہار ملتا ہے جو سیاسی و عمرانی دبا‎ؤ کے تحت انسانی زندگی میں د ر آتے ہیں۔ اسی جبری برتاؤاور دستور کو جب ایک شاعراپنے الفاظ میں ”مرثیہ “ یا ”شہر آشوب“ کی صنف میں ایک تخلیقی رنگ دیتا ہے تو اسے ہم مزاحمتی ادب کی شرح میں قبولیت بخشتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مزاحمت کا حصول ایک مرحلہ وار اور ہمہ جہت جدوجہدکی شکل میں ہوتا ہے۔ مزاحمتی روایت کے علمبردار اور معروف افغان شاعر” مطیع اللہ تراب“ کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں جنگ و جدل کے دور میں رومان اور رومانوی شاعری کوئی معنی نہیں رکھتی۔ رومان تو اس وقت لکھا جاتا ہے جب امن ہو۔ جب روٹی، کپڑا اور مکان کی فکر نہ ہو۔ جنگ و جدل نہ ہو۔ ان کے خیال میں مزاحمتی شعر وہ ہے جس میں کسی بے کس اور مجبور کے احساسات کو زبان ملے۔ 
 مزاحمتی ادب تسلط کے خلاف ایک مخصوص تناظر میں لکھا جاتا ہے۔ یہ تناظر جاگیر دارانہ مسلمات کا تسلط ہو یا غالب سماجی اداروں کی اجارہ داری ہو یا پدرانہ نظام پر قائم سماجی تصورات اور جنسی تفریق کی بالادستی ہو۔ ان کے خلاف ادبی اظہار ایک ایسے مزاحمتی ادب کی شکل میں ابھرتا ہے جہاں روایتی طور پر تسلیم شدہ اصول و معیار کی نفی پر اصرار بڑھ جاتا ہے۔ ورجینیا وولف سے لے کر سیمون دی بوائر تک تمام دانشوروں نے تسلیم شدہ صدیوں سے رائج مردوں کی بالادستی کے نظام کو ناپسندیدہ قرار دیا اور اس کی نفی پر زور دیا۔ یہ نظام جسے پدری نظام بھی کہا جاتا ہے، مرد کی مرکزیت کے تصور کا ایسا عادی ہے کہ اس میں عورت محکوم بن کر رہ جاتی ہے۔ جنوبی ایشیاء کے معاشرے میں عورت کو ’’نصف بہتر“ قرار دینے کا مشفقانہ اور ترحم آمیز رویّہ قابل مزاحمت ہے۔ اس رویّے کی مزاحمت کی خاطر ایک ایسا ادب تخلیق کیا گیا جس میں جنسی عدم توازن اور افراط و تفریط کو نشان زد کیا گیا اور جس میں ایک فکری بغاوت کا اظہار نظر آیا۔ اس ادب کو بھی مزاحمتی ادب کا نام دیا گیا ہے۔ 
 انگریزوں کی ہندوستان آمد کے بعد جو سماجی تبدیلی آئی وہ یہ تھی کہ ایک متحرک دنیا کا ٹکراؤ ایک جامد معاشرے کے ساتھ ہوا۔ اردو زبان فارسی کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی اور ادب بھی روایتی شاعری کی حدود میں مقید تھا چنانچہ اس سے آزاد ہونے کی مزاحمت شروع ہوئی۔ ابتداءمیں نظیر اکبرآبادی اور اکبر الٰہ آبادی کے ہاں مزاحمت کی یہ روایت ملتی ہے:
ہم ایسی کل کتابیں قابلِ ضبطی سمجھتے ہیں
کہ جن کو پڑھ کے بیٹے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
  علی گڑھ تحریک نے جب حالی اور شبلی جیسے لوگوں کے لئے ایک مزاحمتی پلیٹ فارم فراہم کیا تو جدید اسلوب کی جھلک نظر آئی کیونکہ اس تحریک نے ادب برائے زندگی کا نظریہ متعارف کروایا۔ ادبی دنیا میں اسے افادی نظریہ بھی کہا گیا مگر ترقی پسند تحریک جس کی بنیاد ۱۹۳۶ء میں پڑی، دراصل اُردو کی پہلی خالص مزاحمتی تحریک تھی جس نے اُردو ادب کے آسمان کو ستاروں سے بھر دیا۔ منشی پریم چند، فیض احمد فیض، راجندر سنگھ بیدی، جوش، ساحر اور ایسے لاتعداد لکھاری اس تحریک سے وابستہ رہے۔منٹو کی تحریریں متنازع ہونے کے باوجود سماج پر تازیانے برسانے والا مزاحمتی مزاج رکھتی تھیں۔ شوکت صدیقی نے خدا کی بستی جیسا ناول رقم کیا جو اپنے دور کے سماجی مسائل کا نہ صرف ترجمان تھا بلکہ مزاحمتی تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK