بالی ووڈمیںرشی کپور کا نام ایک ایسی شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے۴؍دہائیوں تک اپنی سدابہار اداکاری سے سنیما ناظرین کو دیوانہ بنایا۔۴ ؍ستمبر ۱۹۵۲ءکوممبئی میں پیداہوئے رشی کپور کو اداکاری کا فن ورثے میں ملا۔
رشی کپور۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈمیںرشی کپور کا نام ایک ایسی شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے۴؍دہائیوں تک اپنی سدابہار اداکاری سے سنیما ناظرین کو دیوانہ بنایا۔۴؍ستمبر۱۹۵۲ءکوممبئی میں پیداہوئے رشی کپور کو اداکاری کا فن ورثے میں ملا۔ ان کے والد راج کپورفلم انڈسٹری کے معروف اداکار اور پروڈیوسر ڈائریکٹر تھے۔گھر میں فلمی ماحول کی وجہ سے رشی کپور فلموں کی طرف مائل ہوئے اور وہ بھی اداکار بننے کے خواب دیکھنے لگے۔
رشی کپور نے اپنےفلمی کریئرکا آغاز اپنے والد کی فلم’میرا نام جوکر‘سےکیا۔۱۹۷۰ءمیںریلیز ہونے والی اس فلم میں رشی کپور نے ایک ۱۴؍سالہ لڑکےکاکردار ادا کیا تھا جو اپنی ٹیچر سے محبت کرتا ہے۔ رشی کپور نے اس کردار کو اس طرح نبھایا کہ شائقین ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔رشی کو فلم ’میرا نام جوکر‘کے لیے بہترین چائلڈ آرٹسٹ کا نیشنل ایوارڈ ملا۔ راج کپور نے۱۹۷۳ءمیںریلیز ہونے والی فلم بوبی کے لیےاپنے بیٹے رشی کپور اور ۱۶؍سالہ ڈمپل کپاڈیا کا انتخاب کیا، جو ایک نوعمری کی محبت کی کہانی پر مبنی تھی۔یہ بطور اداکارہ ڈمپل کپاڈیہ کی پہلی فلم تھی۔بہترین گانوں، موسیقی اور اداکاری سے مزین اس فلم کی زبردست کامیابی نےنہ صرف ڈمپل کپاڈیہ بلکہ رشی کپور کو بھی شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ فلم بوبی کی کامیابی کے بعد رشی کپور کی زہریلا انسان، زندہ دل اور راجہ جیسی فلمیں ریلیز ہوئیں لیکن کمزور اسکرپٹ اور ڈائریکشن کی وجہ سے یہ فلمیں باکس آفس پر ناکام ثابت ہوئیں۔ ۱۹۷۵ءمیںریلیزہونے والی فلم کھیل کھیل میں کی کامیابی کے بعد رشی کپور بطور اداکار اپنی کھوئی ہوئی شناخت دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
فلم کھیل کھیل میں کی کامیابی کے بعد رشی کپور اور نیتو سنگھ کی جوڑی شائقین میں کافی مشہور ہوگئی۔ بعد ازاں اس جوڑی نے نوجوان محبت کے جذبات کو منفردانداز میں رفوچاکر، زہریلا انسان، زندہ دل، کبھی کبھی، امر اکبر انتھونی، انجانے، دنیا میری جب میں، جھوٹا کہیں کا، دھن دولت، دسرا آدمی وغیرہ میں پیش کیا۔۱۹۷۷ءمیں ریلیزہونے والی فلم امر اکبر انتھونی میں رشی کی سدا بہار اداکاری رشی کپور کے فلمی کریئر کی اہم فلموں میں سے ایک ہے ۔من موہن دیسائی کی ہدایت میں بنی اس فلم میں رشی کپورنےاکبرالہ آبادی کا اہم کردار اداکیاتھا۔اس فلم میں ان پر فلمائی گئی قوالی’پردہ ہے پردہ‘آج بھی بہترین قوالیوں میں شمار کی جاتی ہے۔
رشی کپور نے ۴؍ عشروں پر مشتمل اپنے طویل فلمی کریئر میں تقریباً ۱۵۰؍فلموں میں کام کیا۔ ان کے کرئیر کی قابل ذکر فلموں میں ’کبھی کبھی‘،’بدلتے رشتے‘،’زمانے کو دکھانا ہے‘،’قلی‘،’دنیا‘،’ساگر‘، ’نصیب‘ ، ’نصیب اپنا اپنا‘، ’دوستی دشمنی‘، ’عجوبہ‘ ،’حنا‘،’بول رادھا بول‘، ’دیوانہ‘، ’دامنی‘،’یارانہ‘، ’پریم گرنتھ‘، ’دراڑ‘،’ہم تم‘، ’فنا‘،’اگنی پتھ‘، ’نگینہ‘، ’خودغرض‘،’ملک‘،’ڈی ڈے‘، ’اورنگ زیب‘،’لو آج کل‘،’دلی۔۶‘اور ’دی باڈی‘ شامل ہیں۔رشی کپور کا انتقال ۳۰؍اپریل۲۰۲۰ءمیں کینسرکے باعث ہوا۔