بڑھتی مہنگائی، گھٹتی آمدنی ، سکڑتی معیشت اور سسکتے عوام

Updated: December 19, 2021, 4:18 PM IST | Shahbaz Khan | Mumbai

بازار میں اشیاء کی تعداد یا مقدار کم ہوجانے اور ان کی مانگ بڑھ جانے کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے، افراط زر میں اضافے کی یہ ایک وجہ ہے، دوسری اہم وجہ پیداواری اخراجات اور مزدوروں کی اُجرت میں اضافہ ہے، جس کی وجہ سے اشیا کی لاگت بڑھ جاتی ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ء ۲۰۱۹ء کے اواخر سے شروع ہونے والے وبائی حالات میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں لاکھوں افراد ملازمتوں سے محروم ہوئے ہیں اور کروڑوں لوگوں کی آمدنی متاثر ہوئی ہے۔ ایسے میں وزارت برائے صنعت و تجارت کی جانب سے جاری ہونے والے افراط زر کے اعدادوشمار تشویشناک ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق نومبر ۲۰۲۱ء میں تھوک مہنگائی (ہول سیل پرائز انڈیکس ؛ ڈبلیو پی آئی) ۱۴ء۲۳؍ فیصد کے ساتھ گزشتہ ۱۲؍ سال کی اعلیٰ ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ واضح رہے کہ مسلسل ۸؍ ماہ سے تھوک مہنگائی کے اعدادوشمار ۱۰؍ فیصد سے زیادہ ہیں، اور ان میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اپریل ۲۰۰۵ء کے بعد سے یہ اب تک کی اعلیٰ ترین سطح ہے۔ دوسری جانب، خردہ مہنگائی (ریٹیل پرائز انڈیکس؛ آر پی آئی یا کنزیومر پرائز انڈیکس؛ سی پی آئی ) ۴ء۹۱؍ فیصد پر پہنچ گئی ہے۔  یہ گزشتہ ۳؍ ماہ کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ مہنگائی کا اثر ملک کے ہر خاص و عام پر پڑ رہا ہے۔ وبائی حالات، کورونا وائرس، بے روزگاری اور کم آمدنی نے عام آدمی کی جیب کا بوجھ بڑھا دیا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں مہنگائی کے خلاف احتجاج بھی ہورہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریزرو بینک آف انڈیا ’’مالیاتی پالیسی میٹنگ‘‘ میں شرح سود میں کمی بھی کررہا ہے تاکہ مہنگائی سے معیشت پر پڑنے والے اثرات کے نقصان کو جس کسی حد تک ممکن ہو، بچایا جائے۔ سوال ہے کہ مہنگائی میں اضافہ کیوں اور کیسے ہوتا ہے؟ مگر اس سے پہلے ڈبلیو پی آئی اور آر پی آئی کے بارے میں جان لیجئے۔ ڈبلیو پی آئی کیا ہے؟ یہ اشاریہ اُن اشیاء کی اوسط قیمت میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے جن کی بڑے پیمانے پر تجارت کی جاتی ہے۔ اس میں ہر قسم کا سامان (کیمیکل سے لے کر کھانے پینے کی اشیاء تک) شامل ہوتا ہے۔ ڈبلیو پی آئی وہ اوسط قیمت ہوتی ہے جو ایک تاجر اشیا ء کو تھوک (ہول سیل) میں خریدتے وقت ادا کرتا ہے۔
 آر پی آئی کیا ہے؟ یہ اشاریہ اُن اشیاء کی اوسط قیمت میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے جنہیں صارفین انفرادی طور پر خریدتے ہیں۔ اس میں وہ اشیاء اور خدمات شامل ہیں جو عام طور پر ہر صارف کی ضرورت ہیں، مثلاً کھانے پینے کی اشیاء، دوائیاں، کپڑے، تعلیم، مکان وغیرہ۔ ڈبلیو پی آئی   تھوک بازار  میں اشیاء خریدتے وقت ادا کی جانے والی قیمت ہے جو تاجر ادا کرتے ہیں جبکہ آر پی آئی ریٹیل مارکیٹ میں اشیاء و خدمات خریدتے وقت ادا کی جانے والی وہ قیمت ہے جو صارفین ادا کرتے ہیں۔ کسی بھی ملک میں مہنگائی یا افراط زر کی پیمائش انہی ۲؍ اشاریوں کی مدد سے کی جاتی ہے۔ بیشتر افراد کا خیال ہے کہ بازار میں اشیاء کی تعداد یا مقدار کم ہوجانے اور ان کی مانگ بڑھ جانے کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ افراط زر میں اضافہ کی یہ ایک وجہ ہے۔ دوسری اہم وجہ  پیداواری اخراجات اور مزدوروں کی اُجرت میں اضافہ ہے۔ مثال کے طورپر، خام مال اور مزدوروں کی اجرت میں اضافے کے سبب اسٹیل بنانے کی لاگت بڑھ گئی ہے۔ اب اسٹیل بنانے والی کمپنی اس کی قیمت میں اضافہ کردے گی۔ ایک کارساز کمپنی اسٹیل خریدنا چاہتی ہے تاکہ کار تیار کرسکے۔ مہنگا اسٹیل خریدنے کے بعد کمپنی اس کار کی قیمت میں اضافہ کردے گی تاکہ کار تیار کرنے کے مجموعی خرچ کے علاوہ اسے منافع بھی ملے۔ اب اس مہنگے دام میں گاہک اپنی ضرورت کے مطابق کار خریدے گا یا خرید کے منصوبے کو بالائے طاق رکھے گا۔ اسی طرح اگر کسی شے کی بازار میں مانگ ہے اور وہ دستیاب نہیں ہے تو اس کی قیمت میں اضافہ یقینی ہوجاتا  ہے۔ یہ بازار کا اپنا اُصول ہے۔ اگر معیشت میں وسعت ہورہی ہے یعنی لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے تو انہیں رہنے کیلئے مکان کی بھی ضرورت پڑے گی، اس طرح مکانات کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ نتیجتاً مکان تیار کرنے میں استعمال ہونے والی چھوٹی سے چھوٹی چیز کی قیمت میں اضافہ ہوجائے گا۔ ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ اشیاء سپلائی کرنے والی لائن، زنجیر یا چین (Chain)میں خلل پیدا ہونے کے سبب بھی مہنگائی بڑھتی ہے۔لاک ڈاؤن  اس زنجیر پر بھی اثرانداز ہوا ہے اس لئے گزشتہ دو سال میں بڑھنے والی مہنگائی کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے۔  اہم سوال یہ ہے کہ مہنگائی میں اضافہ کس کیلئے منافع بخش ہوتا ہے؟ مہنگائی میں اضافے کا فائدہ اُن سرمایہ کاروں کو ہوتا ہے جو ایسی اشیاء و خدمات میں سرمایہ کاری کرتے ہیں جن کی قیمتیں بڑھی ہوں یا بڑھ جاتی ہوں ۔ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ مانگ کی کمی کی وجہ سے اشیاء و خدمات کی قیمتیں کم کی گئی ہوں۔ ان کی قیمتیں برسہا برس جوں کی توں رہتی ہیں، اورجب ان میں تبدیلی کی جاتی ہے تو ان میں اضافہ ہی کیا جاتا ہے کمی نہیں ہوتی۔ یعنی ہر گزرتے سال کے ساتھ مہنگائی میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ غور کیجئے، جب یہ کہا جاتا ہے کہ مہنگائی کم ہوگئی ہے تو قیمتوں کا اضافہ کم ہوتا ہے قیمت پرانی سطح پر کم پہنچتی ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ کم مہنگائی کا دور ختم ہوگیا ہے، اس میں اب مسلسل اضافہ ہی ہو گا۔ لہٰذامرکزی حکومت اور مرکزی بینک کو ایسے اقدامات اور اصلاحات کو یقینی بنانا ہوگا جن سے عام آدمی کی آمدنی بڑھے اور اس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی میں اشیاء و خدمات خریدنے کی استطاعت پیدا ہو۔ اگر ایک طویل مدت تک ایسا نہیں ہوا تو نہ صرف شیئر بازار میں بھونچال آجائے گا بلکہ اس کے منفی اور دیر پا اثرات قومی  معیشت پر ضرب ِکاری ثابت ہوں  گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK