زکوٰۃ کا اجتماعی نظم نہ ہونے کے برابر ہے۔ چند تنظیمیں اس سلسلے میں کام کر رہی ہیں، لیکن وسیع پیمانے پر ملت اس پر عمل پیرا نہیں ہے۔
EPAPER
Updated: February 25, 2026, 2:55 PM IST | H Abdul Raqeeb | Mumbai
زکوٰۃ کا اجتماعی نظم نہ ہونے کے برابر ہے۔ چند تنظیمیں اس سلسلے میں کام کر رہی ہیں، لیکن وسیع پیمانے پر ملت اس پر عمل پیرا نہیں ہے۔
اسلام کا تیسرا بنیادی ستون زکوٰۃ ہے۔ قرآن مجید کی بہت سی آیات میں ایمان کے بعد صرف دو اعمالِ صالحہ کا تذکرہ آیا ہے: ایک نماز، دوسرا زکوٰۃ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نماز اور زکوٰۃ کے درمیان گہرا ربط ہے اور ایک مسلمان کے اسلام کی تکمیل ان دونوں سے ہوتی ہے لیکن آج ہمارے معاشرے میں اقامتِ صلوٰۃ کے لئے جتنی محنت ہو رہی ہے، ایتائے زکوٰۃ کی طرف اتنی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ زکوٰۃ کے اجتماعی نظام اور اس کے حقیقی مقصد کے بارے میں پایا جانے والا عام تصور ہے:
۱- لوگ زکوٰۃ کو ٹھیک سے نہیں سمجھتے: زکوٰۃ کے معاملے میں عام لوگ اکثر الجھن اور عدم واقفیت کا شکار ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ یا تو وہ زکوٰۃ غلط طریقے سے ادا کرتے ہیں، یا اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ وہ اس فرض کو سرے سے ادا ہی نہیں کرتے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۷): ’’آج کل ماحول خراب ہے، چوکی تو نہیں لے چلو گے بھائی!‘‘
۲- زکوٰۃ صرف صدقہ نہیں، ایک اجتماعی نظام ہے: اکثر لوگ زکوٰۃ کو عام صدقے یا خیرات کی طرح سمجھتے ہیں کہ بس کسی غریب کو کچھ پیسے دے دیئے اور فرض پورا ہو گیا۔ درحقیقت زکوٰۃ صرف مدد یا خیرات نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل اجتماعی نظام ہے۔ اس کا مقصد صرف وقتی مدد کرنا نہیں، بلکہ دینے والے کے ایمان کو مضبوط کرنا اور لینے والے کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی لانا ہے۔
۳- غلط تقسیم کا نتیجہ: قرآن نے واضح طور پر بتایا ہے کہ زکوٰۃ کے اصل حقدار کون ہیں (اس کی آٹھ قسمیں ہیں)۔ لیکن اکثر لوگ تحقیق نہیں کرتے اور کسی بھی ضرورت مند کو تھوڑا سا اناج، چند جوڑے کپڑے یا معمولی رقم دے کر سمجھتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری پوری ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ غریب آدمی وہ تھوڑی سی چیز استعمال تو کر لیتا ہے، لیکن اس کی غربت ختم نہیں ہوتی۔ وہ غریب کا غریب ہی رہتا ہے کیونکہ اسے اتنی مدد نہیں ملتی کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکے۔
یاد رہنا چاہئے کہ زکوٰۃ کا اصل مقصد غربت کو جڑ سے ختم کرنا ہے، نہ کہ صرف وقتی طور پر بھوک مٹانا۔ اگر اسے صحیح طریقے سے ایک نظام کے تحت جمع اور تقسیم کیا جائے تو معاشرہ سے غربت کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور ’’زکوٰۃ لینے والے بھی ایک دن زکوٰۃ دینے والے بن سکتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: آج کی تراویح میں اُن تین سو تیرہ مسلمانوں کا ذکر ہےجو فتح و ظفر سے ہمکنار ہوئے
زکوٰۃ کے حقیقی مقاصد
مولانا صدر الدین اصلاحی ؒ فرماتے ہیں کہ کتاب و سنت کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کے تین مقاصد ہیں:
(۱) تزکیۂ نفس: زکوٰۃ کا حقیقی اور بنیادی مقصد، جس کا تعلق بالکلیہ شخص کی اپنی ذات سے ہوتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ زکوٰۃ دینے والے کا دل دنیا کی حرص سے پاک ہو جائے، اور پاک ہوکر نیکی اور تقویٰ کے کاموں کے لئے تیار ہو جائے۔ قرآن مجید میں ہے:
’’اور اسے جہنم سے دُور رکھا جائے گا جو اللہ سے بہت ڈرنے والا ہے جو اپنا مال دوسروں کو دیتا ہے (محض) پاک ہونے کیلئے۔ ‘‘ (سورہ اللیل:۱۷-۱۸)
کلام پاک میں ایک اور جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا گیا: ’’آپ ان کے اموال میں سے صدقہ (زکوٰۃ) وصول کیجئے کہ آپ اس (صدقہ) کے باعث انہیں (گناہوں سے) پاک فرما دیں ۔ ‘‘ (التوبۃ: ۱۰۳)
(۲) غریبوں کی کفالت: اب زکوٰۃ کے ثانوی مقاصد کو لیجیے۔ ان میں سے ایک مقصد تو یہ ہے کہ ملت کے نادار افراد کی مدد کی جائے، اور ان کی بنیادی ضرورتیں پوری ہوتی رہیں۔ پیغمبر آخر الزماں، نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: ’’بے شک اللہ نے لوگوں پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے مال داروں سے لی جائے گی اور اُن کے حاجت مندوں کو دی جائے گی۔‘‘ (مسلم ، جلداوّل، کتاب الایمان، ص۱۹)
(۳) دین کی نصرت: زکوٰۃ کے ثانوی مقاصد میں سے دوسرا مقصد دین کی حفاظت اور نصرت ہے۔ قرآن مجید یہ بتاتے ہوئے کہ زکوٰۃ کی رقم کن لوگوں پر اور کہاں کہاں خرچ کی جانی چاہئے؟ ارشاد فرماتا ہے:
’’یہ صدقات تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لئے ہیں اور اُن لوگوں کے لئے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں، اور اُن کے لئے جن کی تالیف قلب مطلوب ہو نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرض داروں کی مدد کرنے میں اور راہ خدا میں اور مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لئےہیں ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا و بینا ہے ۔‘‘ (التوبۃ۹:۶۰) (اسلام: ایک نظر میں، ص ۲۷-۲۸)
قرآن وسنت میں زکوٰۃ کا تصور انفرادی خیرات کا نہیں بلکہ ایک اجتماعی اور ریاستی نظام کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومن کی صفات میں فرمایا: ’’بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے صالح اعمال کئے، نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی، ان کیلئے ان کے رب کے پاس اجر ہو گا۔‘‘ (البقرۃ: ۲۷۷)
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں: ’’ہمیں نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اس کی نماز ہی نہیں ہوتی۔‘‘ (المعجم الکبیر طبرانی)
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۶): رمضان کی رونقیں دیکھ کر بیٹیاں خوش ہوجاتی ہیں ...
دورِ نبویؐ میں زکوٰۃ کا نظام
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کی وصولی کے لئے باقاعدہ ایک اجتماعی نظم قائم کیا، جس کے چند اہم شعبے یہ تھے:
(۱) عمال الصدقات: زکوٰۃ وصول کرنے والے افسران، جن میں حضرت عمرؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور حضرت عمرو بن عاصؓ جیسے جلیل القدر صحابہ شامل تھے۔ آپؐنے فرمایا: ’’حق و انصاف کے ساتھ زکوٰۃ کا وصول کرنے والا اللہ کے راستے میں جنگ کرنے والے کے مانند ہے یہاں تک کہ وہ عامل اپنے گھر کو لوٹ جائے۔‘‘ (ابن ابی شیبہ، حدیث: ۱۰۸۱۸)
(۲) کاتبین صدقات: حساب کتاب کے انچارج، جیسے حضرت زبیر بن عوامؓ۔
(۳) خارصین: باغات میں پھلوں کی پیداوار کا تخمینہ لگانے والے، جیسے حضرت عبداللہ بن رواحہؓ۔ خود نبی کریم ؐ بھی ایک ماہر خراص تھے۔ غزوۂ تبوک کے سفر میں آپؐ نے ایک مسلمان خاتون کے باغ کی پیداوار کا تخمینہ لگایا جو بالکل درست ثابت ہوا۔ (بخاری)
(۴) عمال علی الحمی: مویشیوں کی چراگاہ سے محصول وصول کرنے والے۔
یہ بھی پڑھئے: مشرکین کے غیرمعقول عقائد، تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی پر مبنی آیات سنئے
خلفائے راشدین کا سنہرا دَور
حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت کا یہ واقعہ نظامِ زکوٰۃ کی افادیت کو ظاہر کرتا ہے کہ جب حضرت معاذ بن جبلؓ نے یمن سے زکوٰۃ کا ایک تہائی حصہ بھیجا تو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں زکوٰۃ وصول کرنے کیلئے نہیں بھیجا تھا، بلکہ اغنیاء سے لے کر وہیں کے فقراء میں تقسیم کرنے کی خاطر بھیجا تھا۔ حضرت معاذؓ نے جواب دیا کہ وہاں کوئی زکوٰۃ لینے والا نہیں ملا۔ تیسرے سال حضرت معاذؓنے زکوٰۃ کا سارا مال بھیج دیا اور فرمایا: ’’یہاں کوئی زکوٰۃ لینے والا ہی نہیں ہے۔‘‘
یہی صورت حال حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے دور میں پیدا ہوگئی کہ معاشرے میں تمام لوگ مال دار ہو گئے اور غربت و افلاس کا کوئی نام و نشان نہیں رہا۔ (ابو عبید: کتاب الاموال)
غریب اور ضرورت مند افراد کا خیال رکھنا مسلم معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ معاشی ترقی کی طرف عدم توجہ ہے۔ ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی لکھتے ہیں: ’’تعجب کی بات یہ ہے کہ کوئی ایسی تحریک نہیں چلی، جس نے عام مسلمانوں کو للکارا ہو کہ محنت کرو، دولت پیدا کرو، کماؤ اور اپنی کمائی کا ایک حصہ بچا کر نفع آور سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی آمدنی اور دولت میں اضافہ کرنے کی کوشش کرو۔ پورے ملک کی سطح پر مسلمانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے، ان کی معاشی قوت میں اضافہ کرنے کیلئے کوئی تحریک نہیں چلی۔‘‘ (معاش، اسلام اور مسلمان)
یہ بھی پڑھئے: رمضان المبارک احساس کی آبیاری کا مہینہ ہے
اجتماعی نظم کا فقدان
زکوٰۃ کا اجتماعی نظم نہ ہونے کے برابر ہے۔ چند تنظیمیں اس سلسلے میں کام کر رہی ہیں، لیکن وسیع پیمانے پر ملت اس پر عمل پیرا نہیں ہے۔ عموماً دینی مدارس کے سفیر اور مختلف اداروں کے ذمہ دار ماہِ رمضان میں اسے وصول کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ غرباء کا ایک جم غفیر اہل ثروت کے مکانات پر آکر چند سو روپے، اناج یا کپڑے لے جاتا ہے۔ اس سے زکوٰۃ کا اصل مقصد پورا نہیں ہوتا، یعنی زکوٰۃ دینے والے کا تزکیۂ نفس، غربت کا خاتمہ اور مستحق کو خود کفیل بنانا اور دین کی نصرت و حفاظت۔
جب اجتماعی نظام کی بات آتی ہے تو عموماً یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا بیت المال قائم کرنے کے لئے اسلامی حکومت کا ہونا ضروری نہیں ہے؟
زکوٰۃ ایک ایسا رکن ہے جس کے اصول تو سلف سے ملتے ہیں لیکن جدید مسائل کی تطبیق میں رہنمائی کم ملتی ہے۔ جیسا کہ مولانا حافظ سید عبدالکبیر عمری فرماتے ہیں: ’’دین کے جو دیگر ارکان ہیں ان سے متعلق مسائل کے لئے علمائے سلف نے اصول وضوابط وضع کیے ہیں۔ مگر زکوٰۃ ایک ایسا رکن ہے کہ اس سلسلے میں علمائے سلف کے بیان کردہ اصول تو ملیں گے مگر تطبیق میں ان سے رہنمائی بہت کم مل سکے گی، کیوں کہ دورِ جدید کے مسائل کا تصور عہدِسلف میں نہیں تھا۔ لہٰذا عصرِ جدید کے مسائل کا اسلامی حل پیش کرنا اور ان کا شرعی حکم معلوم کرنے کی کوشش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔‘‘ (ماہنامہ راہ اعتدال)
غیر اسلامی ملک میں بیت المال کے قیام پر اعتراض کا جواب دیتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزادؒ لکھتے ہیں:
’’اگر کہا جائے کہ ہندوستان میں اسلامی حکومت موجود نہیں، اس لئے مسلمان مجبور ہوگئے اور انفرادی طور پر خرچ کرنے لگے تو شرعاً و عقلاً یہ عذر مسموع نہیں ہو سکتا۔ اگر اسلامی حکومت کے فقدان سے جمعہ ترک نہیں کر دیا گیا، جس کا قیام امام و سلطان کی موجودگی پر موقوف تھا، تو زکوٰۃ کا نظام ترک کر دیا جائے؟ کس نے مسلمانوں کے ہاتھ اس بات سے باندھ دیئے تھے کہ اپنے اسلامی معاملات کیلئے ایک امیر منتخب کر لیں یا ایک مرکزی بیت المال پر متفق ہوجائیں یا اپنی ویسی ہی انجمنیں بنالیں، جیسی انجمنیں بے شمار غیر ضروری باتوں کیلئے بلکہ بعض حالتوں میں بدع و محدثات کیلئے انہوں نے جابجا بنائی ہیں؟‘‘ (حقیقۃ الزکوٰۃ)
مولانا صدرالدین اصلاحیؒ لکھتے ہیں: ’’مسلم بستیاں جس طرح اپنی نمازوں کے لئے مسجد کا، جماعت کا اور امامت کا انتظام کرتی ہیں، اسی طرح اپنی زکوٰۃ کے لئے بھی بیت المال قائم کریں، اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ اجتماعی غلط کاری ہوگی۔‘‘ (اسلام: ایک نظر میں، ص ۹۲)