• Thu, 26 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رمضان ڈائری (۸): ماہِ رمضان آگیا، نور ہر سو‘ چھا گیا، رب کا یہ انعام ہے!

Updated: February 26, 2026, 2:22 PM IST | Shirin Usmani | Mumbai

میرا روڈ کو جن لوگوں نے آج سے پچیس سال پہلے دیکھا ہے وہ یہی کہتے ہیں کہ پچیس سال پہلے میرا روڈ میں نہ اتنا بازار لگتا تھا، نہ کھانے کی اتنی ورائٹی ہوتی تھی اور نہ ہی اتنی بھیڑ بھاڑ تھی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

شہر میرا بھائندر قابل ذکر مسلم آبادی والا شہر ہے بالخصوص نیانگر جہاں رمضان المبارک میں خاصی گہما گہمی ہوتی ہے۔شمس جامع مسجد سے حیدری جامع مسجد تک اور گنگا کمپلیکس لودھا روڈ پر بازار سجا ہوتا ہے۔ اس رمضان میں یہ سج دھج  این ایچ اسکول، رساز تک اور اسٹیشن روڈ تک پھیل گئی ہے۔ ماہ رمضان میں بیرونی تاجر اپنا سامان لے کر یہاں آتے ہیں۔ نیانگر کے رمضانی بازار کی شہرت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ویرار سے لے کر کاندیولی تک کے لوگ رمضان اور عید کی خریداری کے لئے اِدھر کا رخ کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف اقلیتی طبقہ کے لوگ بلکہ اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اس بازار میں آتے ہیں اور انواع و اقسام کے کھانوں کا لطف اٹھاتے ہیں۔ شمس جامع مسجد کے اطراف انواع و اقسام کے کھانوں کا مرکز ہے۔ یہاں پھل، مٹھائیاں، شربت اور جگہ جگہ چکن کے ڈرائے اور فرائے پکوان گاہکوں کو اپنی جانب راغب کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۶): رمضان کی رونقیں دیکھ کر بیٹیاں خوش ہوجاتی ہیں ...

میرا روڈ کو جن لوگوں نے آج سے پچیس سال پہلے دیکھا ہے وہ یہی کہتے ہیں کہ تب میرا روڈ میں نہ اتنا بازار لگتا تھا نہ کھانے کی اتنی ورائٹی ہوتی تھی اور نہ ہی اتنی بھیڑ بھاڑ تھی۔ اُس دور میں رمضان میں اپنی پسند کے کھانے اور عید کی خریداری کے لئے ممبئی کا رخ کرنا پڑتا تھا لیکن اب تو جو چاہو وہ مل جاتا ہے۔ پہلے اکا دکا جگہوں پر مالپوہ اور فیرنی ملتی تھی لیکن وہ ذائقہ نہیں ہوتا تھا جو مینارہ مسجد کے قریب فروخت ہونے والے مالپوہ اور فیرنی کا ہوتا ہے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اب تو جے جے جلیبی بھی دستیاب ہے اور صرف نام کو نہیں ہے بلکہ اس کا ذائقہ بھی ویسا ہی ہے جیسا جے جے اسپتال کے سامنے فروخت ہونے والی جلیبی کا ہے اور جس کیلئے یہ جگہ مشہور ہے۔ 

گزشتہ روز بازار کا رخ کیا تو بلقیس خالہ سے ملاقات ہوئی۔ سلام علیک کرنے کے بعد وہ کہنے لگیں کہ امسال بازار میں وہ رونق نہیں دکھائی دے رہی ہے جو پچھلے سال تھی۔ پچھلے سال ریڈی میڈ کپڑوں کی خریداری کیلئے گاہک امڈے چلے آتے تھے، پانچ روزے ہوگئے ہیں لیکن ویسی گہما گہی نظر نہیں آرہی ہے۔ جہاں ہم کھڑے تھے وہاں دوپٹے کا اسٹال لگا تھا۔  دکاندارنے یہ بات سن لی، کہنے لگا  اس رمضان میں دھندہ بہت کم ہورہا ہے، رمضان شروع ہونے سے پہلے اور رمضان کے ابتدائی دنوں میں  خواتین دوپٹے  خرید لیتی  ہیں تاکہ ان کے لباس کی   میچنگ مل جائے مگر اس بار صورت حال مختلف ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۷): ’’آج کل ماحول خراب ہے، چوکی تو نہیں لے چلو گے بھائی!‘‘

    دکاندار کی بات سن کر ہم نے بھی ہامی بھری  پھر خالہ نے پچھلے رمضان کے حادثہ کو یاد کیا اور کہنے لگیں کہ ایسے حالات ہو جاتے ہیں جس کے سبب لوگوں میں خوف پیدا ہوگیا ہے کہ نہ جانے کب کیا ہوجائے۔ دوسرے مہنگائی کی مار ہے۔ مہنگائی کے تعلق سے اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے پڑوس میں ایک خاتون رمضان میں افطار کے آئٹم بناکر ایک اسٹال پر دیتی ہیں۔ اُن کا مقصد یہ ہے کہ رمضان اور عید کی تیاری کیلئے کچھ پیسے پس انداز ہوجائیں اور تہوار اچھی طرح گزرے۔

اس علاقہ میں یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ کئی سال سے علماء اور بالخصوص خواتین کی جماعت نے ذہن سازی کی ہے کہ رمضان مہینہ صرف خریداری اور گھومنے پھرنے کا نہیں بلکہ عبادت کا ہے۔ اس کا اثر اس سال کی ابتداء میں کافی دکھائی دیا ہے۔ تو کیا خواتین نے پہلے سے خریداری کرلی ہے، یہ بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی مگر ایسا ہے تو یہ اچھی بات ہے تاکہ ماہ ِ مبارک کا زیادہ سے زیادہ وقت عبادت و ریاضت میں گزرے۔

ہر سال کی طرح امسال بھی مسجد شمس کے سامنے بیریکیڈ لگائی گئی ہے تاکہ ٹریفک میں خلل نہ پیدا ہو۔ یہاں پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں جو گاڑی کو ٹھیک طریقے سے پارک کرنے کی تنبیہ کرتے ہیں۔ کئی سال سے مدرسوں کے چندے کے لئے ٹیمپو میں بیٹھ کر لاؤڈ اسپیکر سے کیا جانے والا اعلان بھی اس بار سنائی نہیں دیا۔ ویسے مدارس کے چندوں کے لئے مسجد شمس کے سامنے الگ الگ مدرسوں کے میز بھی ہنوز غائب ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے آن لائن کی سہولت ہے۔ ممکن ہے لوگ زکوٰۃ آن لائن بھیجتے ہوں!

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۵): ’’نہیں ابھی چلو، روزہ رکھ کر نماز بھی پڑھنی چاہئے....‘‘

گمان غالب ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرے گا گہما گہمی بڑھے گی اور تہوار دکھائی دینے لگے گا جو فی الحال کم کم دکھائی دے رہا ہے۔ رمضان کی خاص بات وہ آوازیں بھی ہیں جو یہاں وہاں سے سنائی دے جاتی ہیں اور جو صرف ماہِ مبارک کے ساتھ مخصوص ہیں، مثلاًیہ آواز جو کل گونج رہی تھی:

ماہِ رمضان آگیا نور ہر سوٗ چھا گیا

رب کا اک انعام ہے اس کو جو بھی پا گیا!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK