• Thu, 26 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رمضان: تزکیۂ نفس، سماجی احساس اور انسانی وحدت کا مہینہ

Updated: February 26, 2026, 2:29 PM IST | Dr. Nadeem Ahmad | Mumbai

رمضان کا بنیادی رکن روزہ ہے۔ روزہ طلوعِ فجر سے پہلے سحری کرنے اور غروبِ آفتاب تک کھانے پینے اور دیگر جسمانی خواہشات سے اجتناب کرنے کا نام ہے۔ تاہم اسے محض جسمانی بھوک اور پیاس تک محدود سمجھنا درست نہیں۔

The month of Ramadan also strengthens family and social ties. Photo: INN
ماہِ رمضان خاندانی اور سماجی رشتوں کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ تصویر: آئی این این

اسلامی قمری تقویم کا نواں مہینہ رمضان پوری دنیا کے مسلمانوں کیلئے عبادت، ریاضت اور روحانی تربیت کا زمانہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جب انسان اپنی روزمرہ زندگی کی مصروفیات سے کچھ فاصلے پر ہٹ کر خود احتسابی، ضبطِ نفس اور سماجی ذمہ داری کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ رمضان کی اہمیت اس لئے بھی غیر معمولی ہے کہ اسی مہینے میں قرآن مجید کا نزول ہوا۔ اسلامی عقیدہ کے مطابق حضرت محمد ﷺ پر اللہ تعالیٰ کا پہلا پیغام اسی ماہ میں نازل ہوا تھا۔ اسی نسبت سے رمضان کو رحمت، برکت اور مغفرت یعنی اللہ کی مہربانی، عنایت اور بخشش کا مہینہ کہا جاتا ہے۔ یہ صرف ایک روایت کی ادائیگی نہیں بلکہ اس الٰہی پیغام کو سمجھنے، اس پر غور کرنے  اور اسے اپنی زندگی میں نافذ کرنے کا سنہری موقع ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۵): ’’نہیں ابھی چلو، روزہ رکھ کر نماز بھی پڑھنی چاہئے....‘‘

رمضان کا بنیادی رکن روزہ ہے۔ روزہ طلوعِ فجر سے پہلے سحری کرنے اور غروبِ آفتاب تک کھانے پینے اور دیگر جسمانی خواہشات سے اجتناب کرنے کا نام ہے۔ تاہم اسے محض جسمانی بھوک اور پیاس تک محدود سمجھنا درست نہیں۔ روزہ انسان کو ضبطِ نفس، صبر اور نظم و ضبط کی عملی تربیت دیتا ہے۔ یہ انسان کو سکھاتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات، جذبات اور فوری ردِ عمل پر قابو رکھے۔ جب ایک شخص پورا دن بھوک اور پیاس کی حالت میں گزارتا ہے تو اسے اپنی بنیادی ضروریات کی قدر کا احساس ہوتا ہے۔ اسے یہ ادراک بھی ہوتا ہے کہ معاشرے میں ایسے بے شمار افراد موجود ہیں جن کے لئے خوراک اور پانی روزمرہ کی آسان سہولت نہیں بلکہ ایک مستقل جدوجہد ہے۔ اس تجربے سے انسان کے اندر ہمدردی اور احساسِ ذمہ داری پیدا ہوتا ہے۔ یوں رمضان انسان کے دل میں سماجی شعور اور ایثار کا جذبہ بیدار کرتا ہے۔

روزہ صرف معدے کا نہیں بلکہ زبان، آنکھ اور رویّے کا بھی ہوتا ہے۔ جھوٹ بولنا، غصہ کرنا، غیبت کرنا یا کسی کو اذیت دینا روزے کی روح کے منافی ہے۔ اس مہینے میں انسان اپنے اخلاق اور کردار کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ رمضان دراصل شخصیت کی تعمیر اور باطن کی اصلاح کا مہینہ ہے۔ رمضان میں نماز، دعا اور قرآن کی تلاوت کو خصوصی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ مساجد میں رات کے وقت تراویح کی نماز ادا کی جاتی ہے جس میں قرآن مجید سنایا جاتا  ہے۔ یہ محض ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ اجتماعی روحانی تجربہ ہوتا ہے۔ رات کی خاموشی، نورانی فضا اور عبادت میں مشغول افراد کا منظر دل کو سکون بخشتا ہے۔ انسان اپنی کوتاہیوں پر غور کرتا ہے، اللہ سے معافی طلب کرتا ہے اور بہتر انسان بننے کا عہد کرتا ہے۔ اس اعتبار سے رمضان تزکیۂ نفس کا ایک باقاعدہ مدرسہ ہے جس میں ہر دن اصلاح کا نیا موقع فراہم ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: زکوٰۃ کا مقصد صرف وقتی مددکرنا نہیں بلکہ ایمان کی مضبوطی اور معاشرتی بہتری ہے

رمضان کا ایک اہم پہلو خدمتِ خلق اور انفاق ہے۔ اسلام میں زکوٰۃ ایک لازمی فریضہ ہے جو صاحبِ استطاعت افراد پر عائد کیا گیا ہے تاکہ معاشرے میں معاشی توازن قائم رہے۔ اس کے علاوہ صدقہ و خیرات کی صورت میں رضاکارانہ مدد بھی کی جاتی ہے۔ رمضان کے دوران بہت سے لوگ ضرورت مندوں کو خوراک، لباس اور مالی امداد فراہم کرتے ہیں۔ مختلف مقامات پر اجتماعی افطار کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں ہر طبقے کے لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر روزہ افطار کرتے ہیں۔ یہ منظر سماجی مساوات اور اخوت کی عملی تصویر پیش کرتا ہے۔

آج کے دور میں جب معاشی ناہمواری اور سماجی تقسیم میں اضافہ ہو رہا ہے، غریب  غریب تر اور امیر امیر تر ہورہا ہے، رمضان کا یہ پیغام مسائل کا حل ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کسی بھی معاشرہ کی حقیقی ترقی تبھی ممکن ہے جب اس میں باہمی تعاون اور ہمدردی کا جذبہ موجود ہو۔ محض ذاتی کامیابی اجتماعی فلاح کا ضامن نہیں بن سکتی۔

یہ بھی پڑھئے: آج کی تراویح میں اُن تین سو تیرہ مسلمانوں کا ذکر ہےجو فتح و ظفر سے ہمکنار ہوئے

رمضان خاندانی اور سماجی رشتوں کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ سحری کے وقت اہلِ خانہ کا اکٹھا ہونا اور افطار پر ایک دسترخوان کے گرد جمع ہونا محبت اور قربت کو بڑھاتا ہے۔ دن بھر کی مشقت کے بعد جب اذان کی آواز کے ساتھ روزہ کھولا جاتا ہے تو وہ لمحہ محض کھانے کا نہیں بلکہ شکر اور اطمینان کا ہوتا ہے۔ اس لمحے میں انسان اللہ کی نعمتوں کا احساس کرتا ہے اور دل میں تشکر کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ بچے بھی اس روحانی ماحول سے متاثر ہوتے ہیں۔  وہ چھوٹے چھوٹے روزے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور بزرگوں سے دینی و اخلاقی اسباق سیکھتے ہیں۔ اس طرح رمضان محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ثقافتی اور خاندانی روایت کا حصہ بن جاتا ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔ 

رمضان کا پیغام کسی ایک برادری تک محدود نہیں۔ ضبط ِ نفس، رواداری، ہمدردی اور خدمت جیسے اوصاف ہر مذہب اور تہذیب میں قابلِ قدر سمجھے جاتے ہیں۔ غیر مسلم معاشرے کے لئے بھی رمضان یہ پیغام رکھتا ہے کہ اخلاقی نظم و ضبط اور انسانی ہمدردی زندگی کی بنیادی ضرورت ہیں۔ یہ مہینہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مادی کامیابیاں ہی زندگی کا آخری مقصد نہیں۔ جب انسان اپنے اندر جھانکتا ہے اور دوسروں کے دکھ کو محسوس کرتا ہے تو وہ حقیقی معنوں میں انسانیت کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔ تیز رفتار اور دباؤ سے بھرپور جدید زندگی میں رمضان توقف اور تدبر کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ قلبی سکون اور سماجی ہم آہنگی ہی اصل خوش حالی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مشرکین کے غیرمعقول عقائد، تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی پر مبنی آیات سنئے

خلاصہ یہ ہے کہ ماہ  رمضان  خود احتسابی کا موقع ہے، سماجی انصاف کا پیغام ہے اور انسانیت کی مشترکہ میراث کی علامت ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK