منٹو شناسی اور بلراج مین را

Updated: January 19, 2020, 9:11 AM IST | Mohammad Aslam Parvez

محمد حسن عسکری نے اگر منٹو کو جینے کا اسلوب کہا تو مین را نے اسے ایک ایسے وژن سے تعبیر کیا، جو زندگی کو اس کی تمام شرطوں کے ساتھ قبول کرتا ہے، نہ اس کے حصّے کرتا ہے، نہ اس پر حکم لگاتا ہے۔ دیوناگری میں شائع ہونے والی منٹو کی کلیات (سعادت حسن منٹو: دستاویز۔ مرتب بلراج مین را، شرد دت )کے پیش لفظ میں منٹو کو ایک ایسی جیتی جاگتی لہر کا سلسلہ قرار دیتے ہوئے بلراج مین را نے کہا تھا کہ منٹو کل بھی ہمارے ساتھ تھااوروہ جو بعد میں آئیں گے وہ بھی اسے اپنے ساتھ پائیں گے۔

منٹو شناسی اور بلراج مین را
سعادت حسن منٹو۔ تصویر: آئی این این

محمد حسن عسکری نے اگر منٹو کو جینے کا اسلوب کہا تو مین را نے اسے ایک ایسے وژن سے تعبیر کیا، جو زندگی کو اس کی تمام شرطوں کے ساتھ قبول کرتا ہے، نہ اس کے حصّے کرتا ہے، نہ اس پر حکم لگاتا ہے۔ دیوناگری میں شائع ہونے والی منٹو کی کلیات (سعادت حسن منٹو: دستاویز۔ مرتب بلراج مین را، شرد دت )کے پیش لفظ میں منٹو کو ایک ایسی جیتی جاگتی لہر کا سلسلہ قرار دیتے ہوئے بلراج مین را نے کہا تھا کہ منٹو کل بھی ہمارے ساتھ تھااوروہ جو بعد میں آئیں گے وہ بھی اسے اپنے ساتھ پائیں گے۔ لیکن جب مصور، ادیب، مدیر، سیاست داں اور وزیر اعلیٰ حنیف رامے اپنے ذہنی تحفظات اور تعصبات کے باعث کہتے ہیں کہ منٹو کی زندگی میں جتنی دلچسپی ان کے افسانوں میں لی گئی ان کی موت کے بعد ہرگز نہیں لی جائے گی تو مین را معترضانہ انداز کی اس تحریر کے جواب میں نہایت صاف، واضح اورواشگاف الفاظ میں اپنے حقیقی جذبات پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’وقت بڑا ظالم نقّاد ہے وہ وزیر اعلیٰ کا نام تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیتا ہے اور ایک غریب ادیب کا نام اس کی معمولی تخلیقات کے ساتھ ہر حسّاس شہری کے ذہن میں لکھ دیتا ہے ۔ ‘‘ مین را کے استدلال کی یہ جارحانہ شدّت اس لیے قابلِ قبول ہے کہ حنیف رامے کو وہ صرف ایک فرد کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک سوچ اور ایک رویے کی حیثیت سے نشان زد کر رہے ہیں اور اس طرح حنیف کے پردے میں وہ اس پوری ذہنیت اور رویے سے مخاطب ہیں جو گزشتہ آدھی صدی سے منٹو ناشناسی کا مرتکب ہوتی رہی ہے۔ منٹو کے ہم عصر ادیبوں میں زیادہ تر بھولی بسری یاد بن چکے ہیں اور منٹو بقول مین را ایک زندہ تجربہ کے روپ میں ، ایک جیتی جاگتی سچائی کے روپ میں ، ایک دہکتے ہوئے سوال کی طرح ہمارے ساتھ ہے اور ہم سے ہمکلام ہے۔منٹو کی موت کے فوراً بعد حسن عسکری نے کہا تھا: ’’اقبال کی وفات سے لے کر آج تک کسی اردو ادیب کا ماتم اس طرح نہیں ہوا جس طرح منٹوکا ہوا۔ آخر کوئی چیز تو تھی جس نے لوگوں کو اتنا سوگ منانے پر مجبور کیا۔‘‘غم اور سوگ کی اسی شدت کو دیکھ کر یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایک فحش نگار کی موت کا اس قدر ماتم کیوں ؟ میرے خیال میں موجودہ دور میں منٹوکی معنویت کا رمز اسی’’ کیوں ‘‘ میں ڈھونڈا اور پایا جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جتنی مقبولیت منٹو کو اس کی زندگی میں قارئین کے حلقے سے ملی اتنی پزیرائی ناقدین سے نہیں مل پائی۔ منٹو پر جو تنقید ملتی ہے وہ اتنی غیر وقیع، محدود اور تعمیم زدہ ہے کہ منٹو کے فنی شعور کی ماہیت اور انفرادیت کے بارے میں رائے قائم کرنے میں کوئی مدد نہیں کرتی۔ ایک زمانے تک اردو کے ناقدین خواہ وہ ترقی پسند خیمے کے ہوں یا رجعت پرست گروپ کے، منٹو کے بارے میں کشمکش میں مبتلا رہے۔ منٹو کے حوالے سے ترقی پسند تنقید میں بھی رّد و قبول کی کشمکش سانپ سیڑھی کے کھیل کی طرح نظر آتی رہی،جہاں ایک پل میں اسے انسان دوست کہہ کر سیڑھی عطا کر دی جاتی اوردوسرے ہی پل جنس نگار کہہ کر سانپ کے منہ میں دھکیل دیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ منٹو کی فنکارانہ شناخت درج کرنے میں ترقی پسندتنقید زندگی بھر ناکام رہی۔ البتہ گزشتہ ۳۰۔۴۰؍ سال میں منٹو شناسی ایک نامیاتی وحدت کی صورت نمودار ہوئی ہے جس کی تحویل میں منٹو کے افسانے کی تشریح، توضیح، تعبیر آتی ہے، نیز سماجی، سیاسی، تاریخٰی، سیاسی اور ادبی پس منظر میں مختلف ناقدین نے اپنے مذاق اور ناقدانہ استعداد کے مطابق منٹو کے متن تک رسائی حاصل کرنے کی سعی کی۔ انیس ناگی، وارث علوی، شمیم حنفی، شمس الحق عثمانی، شکیل الرحمٰن نے یکے بعد دیگرے کئی مضامین لکھ کر منٹو فہمی کے دائرے کی افقی اور عمودی سطح کو وسیع کیا اور اسے اعتبار اور کسی حد تک استناد کی سطح پر لا کھڑا کیا مگر مین را اس لحاظ سے منفرداور ممتاز ہیں کہ انہوں نے ایک طرف غیر اردو داں طبقے کے ادیبوں اور قارئین کو منٹو کے افسانوں ، خاکوں ، ڈراموں ، مضامین، خطوط و دیگر تحریروں سے متعارف کروایا تو دوسری طرف کئی اہم اُردو نقادوں کو بھی اصل منٹو اور منٹو کی اصل سے روشناس کروایا۔’’شعور‘‘ کے شماروں میں منٹو کو جس طرح فوکس کیا اور مختلف ناقدوں سے منٹو پر مضامین لکھوائے، تصویریں اور اسکیچ بنوائے وہ سب منٹو کے تئیں بلراج مین را کی جذباتی و ذہنی قربت نیز سچے، گہرے اور بے لوث لگائو کی اعلیٰ مثال ہے ۔ 
  مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجھک یا عار محسوس نہیں ہوتا کہ منٹو شناسی کی اصل شروعات اوراس کے متن کی مائیکرو ریڈنگ ’’شعور ‘‘ کے چوتھے شمارے سے ہوئی۔ یہ خصوصی شمارہ مرتب کر کے مین را نے منٹو کے افسانہ ’’ہتک‘‘ کو دوبارہ لکھنے کی معنی خیز اور کامیاب کوشش کی ۔ یہ شمارہ ایک بڑے افسانہ نگار کے بڑے افسانے کے بڑے کردار کی عظمت کے موافق خراج عقیدت پیش کرنے کے جذبے اور سلیقہ سے سرشار ہی نہیں بلکہ ادبی صحافت میں منٹو شناسی کی نہایت عمدہ اور نظری مثال بن کر ابھرتاہے۔ اس شمارے کے علاوہ ’’دستاویز ‘‘کے عنوان سے مملکت ِفرنگ اور مملکت ِخداداد میں منٹو کے افسانوں پر چلائے گئے مقدمات کی تفصیلات مرتب کیں اور یوں ادبی صحافت میں ایک ٹرینڈ سیٹر صحافی کی حیثیت سے اپنی شناخت درج کروا دی۔ یوں تو منٹو کی وفات کے بعد ہی منٹو نمبر وں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جو ہنوز جاری ہے۔ 
 نقوش، پگڈنڈی، افکار، شاعر اور انگارے جیسے ادبی جرائد سے لے کر روبی اور حرفِ آخر جیسے کمرشیل رسائل تک نے منٹو کی شخصیت اور فن پر خصوصی نمبروں کی اشاعت کے ذریعہ منٹو کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی لیکن ان رسائل کے مشمولات کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ بیشتر رسائل چند مخصوص افسانوں اور تنقیدی مضامین اور تجزیاتی مطالعوں پرپلتے اور پنپتے چلے آ رہے ہیں ۔ لیکن مین را نے ’’شعور‘‘ کا شمارہ ’’سوگندھی‘‘ سے معنون کر کے ’’ہتک‘‘ کو دیکھنے اور سمجھنے کا ایک نیا زاویہ تو عطا ہی کیا، یہ بھی بتایا کہ ’’ہتک ‘‘ جیسا بڑا افسانہ کیسے پڑھا جائے۔ کہتے ہیں دلّی کے ایک سیمینار میں جب مین را نے یہ شمارہ عصمت چغتائی کویہ لکھ کر نذر کیا ’’منٹو کی ایک نئی کہانی: بلراج مین را‘‘ تو عصمت نے اُسے دیکھتے ہی استہزائیہ لہجہ میں کہا’’نئی کہانی ۔۔۔؟ تمہاری پیدائش سے پہلے منٹو نے یہ کہانی لکھی تھی۔‘‘ لیکن دوسرے دن جب سیمینار میں وہ مین را سے ملیں تو اعتراف کیا: مین را تم نے سچ مچ منٹو کی ایک نئی کہانی مجھے دی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK