شعبان، ماہ رمضان کی تیاری کا سنہرا موقع ہے

Updated: March 26, 2021, 10:58 AM IST | Mudassir Ahmed Qasmi

ماہ شعبان میں رمضان کی تیاری اس اعتبار سے بھی کرنی چاہئے کہ رمضان کی ضروریات کی تکمیل کیلئے اسی مہینے میں خریداری کر لیں۔ اِس سے جہاں ہم رمضان میں اضافی کاموں سے بچیں گے وہیں ہمیں اپنے اوقات کو عبادات سے مزین کرنے کازیادہ موقع بھی نصیب ہوجائے گا

Market - Pic : INN
مارکیٹ ۔ تصویر : آئی این این

وقت برف کی مانند ہے،اگر ہم نے اس کا استعمال کر لیا تو ہم خوش نصیب ہیں اور اگر استعمال نہ کر سکے تو تلافی ممکن نہیں ہے؛ کیونکہ جس طرح پگھلے ہوئے برف کو مطلوبہ مقصد کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا ،اسی طرح بیتے ہوئے وقت کو واپس نہیں لایا جاسکتا۔ اِس پس منظر میں جب ہم دینی معاملات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ بات با لکل واضح ہو جاتی ہے کہ دین کے اکثر احکامات کسی نہ کسے وقت کے ساتھ خاص ہیں، جن میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ وقت گذرنے کے بعد ان کی ادائیگی ہی ممکن نہیں ہوتی جیسے عیدین کی نماز ؛ہاں کچھ عبادات ایسی ہیں جن کی قضا بعد میںضروری ہے،لیکن قضا ، قضا ہے،ثواب کے اعتبار سے وقت پر ادائیگی کا ہم پلہ نہیں ہے۔
وقت پر کسی بھی حکم کو بجا لانے کے حوالے سے سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ہم اُس حکم کو کس قدر اہمیت دیتے ہیں؛یقیناً اگر کسی بھی حکم کوہم کما حقہ اہمیت دیتے ہیں تو وقت پر اُس حکم کی بجاآوری ہمارے لئے صرف ایک انتہائی آسان عمل ہی نہیں ہوجاتا بلکہ اس کی ادائیگی میںایک خاص قسم کا لطف بھی آتا ہے۔اس کے بر خلاف اگر کسی حکم کی اہمیت ہماری نظر میں نہیں ہے یا جاننے کے باوجود ہم غفلت کے شکار ہیں تو اس عمل کا لطف و مزہ تو کُجا ،اُس کی ادائیگی ہی ہمارے لئے ایک مشکل ترین امر ہوجاتا ہے۔ اِس حوالے سے ہم میں سے بہت سارے لوگوں کاایک انتہائی افسوس ناک طرز عمل یہ ہے کہ دنیوی معاملات میں ہم چھوٹی سی چھوٹی چیز کو بھی کافی اہمیت دیتے ہیں (جو شرعی حدود میں معیوب نہیں ہے)لیکن جب بات دینی معاملات کی ہوتی ہے تو ہم یہ کہہ کر اپنا پلہ جھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں کہ `یہ کوئی فرض نہیں ہے ،سنت یا نفل ہی تو ہے`۔ بلاشبہ یہ طرزِ عمل ہماری محرومی کا سبب ہے؛نفل یا سنت اعمال کو نظر انداز کرنے کا ایک انتہائی زبردست نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہم رفتہ رفتہ فرائض و وا جبات سے بھی دور ہونے لگتے ہیں۔ 
اسی پس منظر میںجب ہم ماہِ شعبان کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ پاتے ہیں کہ اِس مہینے کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ نے عملاً جو تعلیمات دی ہیں ، وہ کما حقہ ہماری زندگی میں نہیں ہیں۔یہاں بھی وقت کا ہی معاملہ ہے کہ شعبان کے مہینے کے جو ایام ہیں ،انہیں نبویؐ تعلیمات کی روشنی میں گزارنا ہے؛نہیں تو ایک اہم مقصد کی تکمیل یعنی رمضان کے روزے میں وہ توانائی اور آسانی نہیں پیدا ہوگی جس سے روزہ محبوب عمل بن جائے۔اسی نکتہ کو نبی اکرم ﷺ نے ایک حدیث میں انتہائی خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؑﷺ سے سوال کیاگیا کہ: رمضان المبارک کے بعد افضل روزہ کون سا ہے؟ ارشاد فرمایا: رمضان کی تعظیم کے لئے شعبان کا روزہ۔(ترمذی ( اسی طرح ایک دوسری حدیث میں نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’شعبان، رجب اور رمضان کے درمیان واقع ہوا ہے لوگ اِس سے غفلت برتتے ہیں مگر یہی مہینہ ہے جس میں بندوں کے اَعمال حضرتِ حق جل مجدہ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، میری تمنا ہے کہ میرے اَعمال جب پیش کئے جائیں تومیرا شمارہ روزہ داروں میں ہو۔‘‘(شعب الایمان)
مذکورہ دونوں احادیث سے دو اہم نکتوں کی طرف رہنمائی ہو رہی ہے:(۱)’’رمضان کی تعظیم کے لئے شعبان کا روزہ‘‘ اس جملے سے جہاں شعبان کے روزوں کی اہمیت اُجاگر ہے،وہیں اس میں یہ لطیف نکتہ بھی ہے کہ جس طرح کسی بھی اہم کام کو انجام دینے سے قبل اس کی تیاری ضروری ہے؛کیونکہ اس کے بعد ہی اُس اہم کام کو بحسن و خوبی انجام تک پہنچایا جاسکتا ہے، بالکل اسی طرح رمضان المبارک جیسے مقدس و عظیم الشان مہینے کو مکمل آداب کی رعایت کے ساتھ گزارنے اور اُس سے بھر پور مُستفیض ہونے کے لئے پہلے سے ہی تیاری ضروری ہے۔
 (۲)دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے رب کے سامنے اپنے اعمال کو بہتر سے بہتر طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ؛کیونکہ اس میں غفلت بڑی محرومی کا سبب بن سکتی ہے۔
یہ بات ہمارے ذہن میں رہنی چاہئے کہ جس طرح جسمانی طور پر تندرست و توانا رہنے کے لئے ہم مختلف اوقات میں مختلف النوع غذا کا استعمال کرتے ہیں،بالکل اسی طرح روحانی طور پر صحت مند رہنے کے لئے ہمارے واسطے یہ ضروری ہے کہ الگ الگ وقت میں شریعت کی جانب سے منتخب عبادات کو ہم اپنی زندگی کا اٹوٹ حصہ بنا لیں؛نہ جانے ہماری کون سی عبادت اللہ رب العزت کو پسند آجائے اور ہماری روحانی صحت میں چار چاند لگ جائے۔ اس کے بر خلاف اگر ہم صحت بخش غذا کا استعمال نہیں کرتے ہیں تو ہماری صحت میں گراوٹ یقینی ہے ،اسی طرح اگر روح کو عبادات کی غذا فراہم نہیں کرتے ہیں تو روحانیت میں کمزوری بھی یقینی ہے۔لہٰذا اِس نکتے کے تناظر میں،ہمیں چاہئے کہ ماہ شعبان کی عبادت کوہم اپنی روحانیت کی مضبوطی اور توانائی کا ذریعہ بنالیں تاکہ ہماری یہ صحت آنے والے رمضان کی بہار سے بھر پور مستفیض ہونے میں معاون بن جائے۔ 
شعبان میں رمضان کی تیاری ہمیں اس اعتبار سے بھی کرنی چاہئے کہ رمضان کی ضروریات کی تکمیل کے لئے اسی مہینے میں خریداری کر لیں۔ اِس سے جہاں ہم رمضان المبارک میں اضافی کاموں سے بچ جائیں گے وہیں ہمیں اپنے اوقات کو عبادات سے مزین کرنے کازیادہ موقع بھی نصیب ہوجائے گا۔ 
ہماری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے ،کیا معلوم آئندہ سال پھر ہمیں شعبان کے یہ ایام ملیں یا نہ ملیں،اس لئے آیئے! غفلت سے بیدار ہوجائیں اور اِس مہینے کے بقیہ ایام کو نبویﷺ ہدایات کے مطابق گزاریں۔اس کے لئے جہاں ہم بقدرِ وسعت بقیہ ایام میں روزوں کا اہتمام کریں وہیں بطورِ خاص پندرہویں شعبان کی رات کو عبادت و دعا سے سجا لیں اور دن کو روزہ رکھیں۔یہی رسول اللہ ﷺ اورصحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا طریقہ ہے اور اسی میں کامیابی کے راز پنہاں ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK