• Fri, 30 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اترپردیش: ہردوئی میں بدعنوانی کی شکایات درج کرانے والی خاتون وکیل پر حملہ

Updated: January 30, 2026, 6:15 PM IST | Lucknow

اس واقعہ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہو رہا ہے جس میں لاٹھیوں اور لوہے کی سلاخوں سے لیس حملہ آوروں کو وکیل کی کار کے شیشے توڑتے اور ان کے اہل خانہ پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

A Still from the Viral Video. Photo: X
وائرل ویڈیو کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس

اتر پردیش کے ضلع ہردوئی کی ایک خاتون وکیل نے الزام لگایا ہے کہ گاؤں کی سطح پر بدعنوانی کو بے نقاب کرنے کیلئے شکایات درج کرانے کے بعد، دن دہاڑے ان پر اور ان کے اہل خانہ پر وحشیانہ حملہ کیا گیا۔ ایڈووکیٹ فردوس جہاں نے بتایا کہ ان پر بدھ کے دن حملہ کیا گیا جب وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ کار میں سفر کر رہی تھیں۔ ان کی شکایت کے مطابق، ایک گاؤں کے پردھان کے شوہر، جس کی شناخت نسیم کے نام سے ہوئی ہے، نے اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ مل کر گاڑی کو گھیر لیا، اسے نقصان پہنچایا اور اندر موجود افراد پر تشدد کیا۔

فردوس جہاں نے کہا کہ اس تشدد کا براہِ راست تعلق ان بدعنوانی کی شکایات سے ہے جو انہوں نے قانونی ذرائع سے گاؤں کی انتظامیہ کے خلاف درج کرائی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ کوئی ذاتی تنازع نہیں تھا۔ الزامات کی جانچ کرنے پر وہ درست پائے گئے۔ اس کے بعد گاؤں کے پردھان کے مالی اختیارات واپس لے لئے گئے تھے۔ یہ حملہ انتقامی کارروائی تھی۔“

اس واقعہ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہو رہا ہے جس میں لاٹھیوں اور لوہے کی سلاخوں سے لیس حملہ آوروں کو وکیل کی کار کے شیشے توڑتے اور ان کے اہل خانہ پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک شخص کو زبردستی گاڑی سے باہر نکال کر کئی حملہ آور مل کر پیٹ رہے ہیں، جبکہ دو خواتین متاثرہ شخص کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ویڈیو میں ٹوٹے ہوئے شیشے اور کار کے نقصان کو دیکھا جا سکتا ہے۔ 

فردوس جہاں نے الزام لگایا کہ”وہ ہمیں کھلے عام دھمکیاں دے رہے تھے اور مسلسل کہہ رہے تھے کہ جب تم شکایت کرو گے تو یہی انجام ہوگا۔ ان کا مقصد مجھے ڈرا کر خاموش کرانا تھا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ انصاف کی بات ہے۔ اگر قانون سچ کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کی حفاظت نہیں کر سکتا، تو خوف اور بدعنوانی ہمارے دیہاتوں پر حاوی رہے گی۔“

یہ بھی پڑھئے: اتراکھنڈ: ۱۸؍ سالہ کشمیری شال فروش پر وحشیانہ ہجومی حملہ، ملزم گرفتار

مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ ایک شہری نے کہا کہ ”اگر قانون کی پیروی کرنے والے ایک وکیل پر اس طرح حملہ کیا جا سکتا ہے، تو عام لوگوں کے تحفظ کی امید کیسے کی جاسکتی ہے؟“

اب تک پولیس کی جانب سے اس معاملے میں گرفتاری یا سخت کارروائی کئے جانے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ فردوس جہاں اور ان کے حامی فوری تحفظ، تمام ملزمان کی گرفتاری اور اس بات کی یقین دہانی کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ بدعنوانی کو بے نقاب کرنے والوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK