• Sat, 31 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اتراکھنڈ: انسانیت کی مثال، دیپک نے معمر مسلم دکاندار کو ہجوم سے بچایا

Updated: January 30, 2026, 8:01 PM IST | Dehradun

اتراکھنڈ میں ایک ہجوم نے معمر مسلم دکاندار کو دکان کا نام ’’بابا‘‘ بدلنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ دیپک نامی شخص نے بروقت مداخلت کر کے یہ ہراسانی روکی اور واضح کیا کہ انسانیت سب سے بالاتر ہے اور ہندوستان کو نفرت نہیں، محبت کی ضرورت ہے۔

Deepak. Photo: X
دیپک۔ تصویر: ایکس

اتراکھنڈ کے ایک علاقے میں پیش آنے والے واقعے نے سماجی ہم آہنگی اور انسانیت کی ایک مضبوط مثال قائم کی۔ دیپک نامی شخص نے ایک معمر مسلم دکاندار کے حق میں کھڑے ہو کر ہجوم کی ہراسانی کو روک دیا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب چند افراد نے دکاندار کی دکان کے نام ’’بابا‘‘ پر اعتراض کرتے ہوئے اسے نام تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ عینی شاہدین کے مطابق، ہجوم کی جانب سے دکاندار پر زبانی دباؤ ڈالا جا رہا تھا اور ماحول کشیدہ ہو چکا تھا۔ اسی دوران دیپک نے مداخلت کی اور دو ٹوک انداز میں کہا کہ کسی شہری کو اس کے مذہب یا شناخت کی بنیاد پر ہراساں کرنا قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’انسانیت سب سے اوپر ہے، بھارت کو نفرت نہیں بلکہ محبت کی ضرورت ہے۔‘‘

دیپک کی مداخلت کے بعد صورتحال قابو میں آ گئی اور ہجوم پیچھے ہٹ گیا۔ معمر دکاندار کو مزید ہراسانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور علاقہ دوبارہ پُرسکون ہو گیا۔ واقعے کے ویڈیو اور بیانات بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے جہاں بڑی تعداد میں صارفین نے دیپک کے اقدام کو سراہا اور اسے باہمی احترام کی مثال قرار دیا۔ سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ نفرت اور دباؤ کے مقابلے میں عام شہری کا پُرامن اور جرات مندانہ مؤقف بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق، دکان کے نام یا مذہبی شناخت پر اعتراض سماجی تقسیم کو بڑھاتا ہے، جبکہ انسانیت پر مبنی ردِعمل معاشرے کو جوڑتا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی اس واقعے پر ردِعمل ظاہر کیا کہ ہندوستان ایک کثیر مذہبی ملک ہے جہاں آئین ہر شہری کو اپنے مذہب اور شناخت کے ساتھ جینے کا حق دیتا ہے۔ ان کے مطابق، اس طرح کی ہراسانی نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔معمر دکاندار کے قریبی افراد کے مطابق، دیپک کی بروقت مداخلت نے انہیں تحفظ کا احساس دلایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف عزت اور امن کے ساتھ اپنا روزگار جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ واقعے نے یہ بھی واضح کیا کہ مشکل حالات میں ایک فرد کی جرات پورے منظرنامے کو بدل سکتی ہے۔ دیپک کا پیغام کہ ’’بھارت کو محبت چاہیے، نفرت نہیں‘‘ اس واقعے کے بعد ایک علامتی جملہ بن گیا ہے، جو معاشرے میں برداشت، احترام اور مشترکہ اقدار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ نفرت کے مقابلے میں انسانیت کی آواز آج بھی طاقت رکھتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK