اتراکھنڈ میں ایک ہجوم نے معمر مسلم دکاندار کو دکان کا نام ’’بابا‘‘ بدلنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ دیپک نامی شخص نے بروقت مداخلت کر کے یہ ہراسانی روکی اور واضح کیا کہ انسانیت سب سے بالاتر ہے اور ہندوستان کو نفرت نہیں، محبت کی ضرورت ہے۔
EPAPER
Updated: January 30, 2026, 8:01 PM IST | Dehradun
اتراکھنڈ میں ایک ہجوم نے معمر مسلم دکاندار کو دکان کا نام ’’بابا‘‘ بدلنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ دیپک نامی شخص نے بروقت مداخلت کر کے یہ ہراسانی روکی اور واضح کیا کہ انسانیت سب سے بالاتر ہے اور ہندوستان کو نفرت نہیں، محبت کی ضرورت ہے۔
اتراکھنڈ کے ایک علاقے میں پیش آنے والے واقعے نے سماجی ہم آہنگی اور انسانیت کی ایک مضبوط مثال قائم کی۔ دیپک نامی شخص نے ایک معمر مسلم دکاندار کے حق میں کھڑے ہو کر ہجوم کی ہراسانی کو روک دیا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب چند افراد نے دکاندار کی دکان کے نام ’’بابا‘‘ پر اعتراض کرتے ہوئے اسے نام تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ عینی شاہدین کے مطابق، ہجوم کی جانب سے دکاندار پر زبانی دباؤ ڈالا جا رہا تھا اور ماحول کشیدہ ہو چکا تھا۔ اسی دوران دیپک نے مداخلت کی اور دو ٹوک انداز میں کہا کہ کسی شہری کو اس کے مذہب یا شناخت کی بنیاد پر ہراساں کرنا قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’انسانیت سب سے اوپر ہے، بھارت کو نفرت نہیں بلکہ محبت کی ضرورت ہے۔‘‘
Meet Deepak Bhai,
— محمد سلمان فارسی (@AlFarsi1201) January 30, 2026
Who stood like a wall for Baba ChaCha when 15–20 sanghis tried to spew hate and attacked his shop.
He shut them down, exposed their lies, & sent them packing.
This is courage. Salute to Deepak Bha pic.twitter.com/mI2pMmbts0
دیپک کی مداخلت کے بعد صورتحال قابو میں آ گئی اور ہجوم پیچھے ہٹ گیا۔ معمر دکاندار کو مزید ہراسانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور علاقہ دوبارہ پُرسکون ہو گیا۔ واقعے کے ویڈیو اور بیانات بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے جہاں بڑی تعداد میں صارفین نے دیپک کے اقدام کو سراہا اور اسے باہمی احترام کی مثال قرار دیا۔ سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ نفرت اور دباؤ کے مقابلے میں عام شہری کا پُرامن اور جرات مندانہ مؤقف بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق، دکان کے نام یا مذہبی شناخت پر اعتراض سماجی تقسیم کو بڑھاتا ہے، جبکہ انسانیت پر مبنی ردِعمل معاشرے کو جوڑتا ہے۔
Location: Kotdwar, Uttarakhand
— The Muslim (@TheMuslim786) January 28, 2026
My name is Mohammad Deepak. Don`t bring up Hindu-Muslim issues here.
Members of the Bajrang Dal asked an elderly Muslim shopkeeper, who runs his shop under the name "Baba," to change the name of his shop. When a man named Mohammed Deepak… pic.twitter.com/TEKcBzfj0Q
انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی اس واقعے پر ردِعمل ظاہر کیا کہ ہندوستان ایک کثیر مذہبی ملک ہے جہاں آئین ہر شہری کو اپنے مذہب اور شناخت کے ساتھ جینے کا حق دیتا ہے۔ ان کے مطابق، اس طرح کی ہراسانی نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔معمر دکاندار کے قریبی افراد کے مطابق، دیپک کی بروقت مداخلت نے انہیں تحفظ کا احساس دلایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف عزت اور امن کے ساتھ اپنا روزگار جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ واقعے نے یہ بھی واضح کیا کہ مشکل حالات میں ایک فرد کی جرات پورے منظرنامے کو بدل سکتی ہے۔ دیپک کا پیغام کہ ’’بھارت کو محبت چاہیے، نفرت نہیں‘‘ اس واقعے کے بعد ایک علامتی جملہ بن گیا ہے، جو معاشرے میں برداشت، احترام اور مشترکہ اقدار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ نفرت کے مقابلے میں انسانیت کی آواز آج بھی طاقت رکھتی ہے۔