• Sat, 31 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی کے چار ہزار مدارس’ اے ٹی ایس‘ کے نشانے پر،جانچ میں تیزی

Updated: January 30, 2026, 10:12 PM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow

سبھی ضلع اقلیتی بہبود افسران سے غیرملکی فنڈنگ سےمتعلق جانچ رپورٹ اور دستاویزات طلب کئے گئے ،مدارس کے ذمہ داران میں تشویش کی لہر

Islamic schools are a pain in the ass for sectarians.
مدارس اسلامیہ فرقہ پرستوں کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں

یوپی کی یوگی  حکومت کی ہدایت پر ریاست میں جاری تقریباً  ۴؍ ہزار مدارس کی فنڈنگ اور قانونی حیثیت کی جانچ کے لئے کارروائی تیز کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں یوپی کے محکمہ اقلیتی بہبودکی جانب سے سبھی ضلع اقلیتی بہبودافسران کومکتوب بھیج کرکہا گیا ہے کہ وہ  اے ٹی ایس کی جانچ میں تعاون کریں اور ضروری دستاویزات اورجانچ رپورٹ فراہم کرائیں۔ حکومت کی جانب سے اے ٹی ایس کی جانچ میں تیزی لانے سے ایک بار پھر مدارس کے ذمہ دارن میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
  یوپی کے محکمہ اقلیتی بہبود کے ڈائریکٹر انکت کمار اگروال کی جانب سے سبھی ضلع اقلیتی بہبود افسران کو بھیجے گئے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں تقریباً ۴۰۰۰؍مدارس کو ملنے والی فنڈنگ کی تحقیقات کے لئے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی کی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیاہے کہ اے ٹی ایس کی تمام فیلڈ یونٹس کو ان کے دائرہ کار میں چلنےوالے منظورشدہ اور غیر منظورشدہ مدارس کی فہرست فراہم کراتے ہوئے ان کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ تصدیقی عمل کے دوران، مدارس، اداروں اور ان کے منتظمین کے بینک کھاتوں میں لین دین کی تفصیلات حاصل کی جائیں اور ان کی تصدیق کی جائے اور تصدیقی رپورٹ ہر صورت میں دو ہفتوں کے اندر فراہم کی جائے۔مکتوب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کچھ مدارس کے پاس بڑی بڑی عمار تیں ہیں تاہم منتظمین ان عمارتوں کی تعمیر کے حوالے سے آمدنی کا کوئی مستند ذریعہ فراہم نہیں کرتے ہیں۔ ایسے مدارس کی تعمیر کے ماخذ کی مکمل تصدیق کی جائے اور رپورٹ پیش کی جائے۔
   مذکورہ مدارس میں غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے مقامی ذرائع، انٹیلی جنس یونٹ اور ضلعی سطح سے معلومات حاصل کی جائیں اور اسے تیار کیا جائے اور اس سے محکمہ کو آگاہ کیا جائے تاکہ سامنے آنے والے حقائق پر قابل عمل کارروائی کی جا سکے۔مذکورہ بالا نکات میں سے ہر ایک کی جانچ پڑتال کے بعد اس بات کو یقینی بنائیں کہ سفارشات کے ساتھ رپورٹ بغیر کسی تاخیر کے فراہم کی جائے اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ اگر اے ٹی ایس کی کوئی فیلڈ یونٹ ضلع سے رابطہ کرتی ہے تو مدارس کی تحقیقات میں مکمل تعاون فراہم کیا جائے۔
 واضح رہے کہ ڈائریکٹر کے مکتوب میں ۱۷؍ دسمبر ۲۰۲۵ء کو ہوئی ایک اہم میٹنگ کا ذکرکیا گیا ہے جس کی صدارت ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (اے ٹی ایس) نے کی تھی۔میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مدارس کے آمدنی کے ذرائع ،خاص کر غیرملکی فنڈنگ اور تعمیرات کی تفصیلی جانچ کی جائے۔کمیٹی نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ مقامی انٹیلی جنس یونٹس کے ذریعے معلومات اکٹھا کی جائیں اور مدارس  کے مالی لین دین، تعمیراتی اجازت ناموں اور انتظامی ڈھانچے کی مکمل جانچ کی جائے۔ اگر کسی بھی مدرسے کا تعلق غیر قانونی یا ملک مخالف سرگرمیوں سے پایا گیا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK