اک بار مسکرادو

Updated: June 07, 2020, 4:06 AM IST | Prof Syed Iqbal

کیا آپ کو پتہ ہے ، مسکرانے سے آپ کا ذہنی تناؤختم ہوجاتا ہے۔ انرجی بڑھتی ہے اورکچھ تحقیقات تو یہ بھی بتاتی ہیں کہ ہردم مسکرانے والوں کو بلڈ پریشر کی شکایت بھی نہیں ہوتی۔ ایسے خوش باش افراد رونی صورت بنانے والوں کے مقابلے میں لمبی عمر تک جیتے ہیں۔ حیرت ہے، اس پر بھی آپ نہیں مسکرائے

Blood Pressure - Pic : INN
بلڈ پریشر ۔ تصویر : آئی این این

ہمارے ایک دوست اکثر خاموش رہتے ہیں، اور اتنی دیر تک خاموش رہتے ہیں کہ ہمیں ان کی سنجیدگی سے وحشت ہونے لگتی ہے۔ پتہ نہیں کیا وجہ ہے کہ وہ ہنستے ہی نہیں بلکہ ہم نے انہیں شاذہی مسکراتے دیکھا ہے۔ بسا اوقات ہم ان سے مذاقاًکہتے ہیں کہ خدانخواستہ آپ قبض کے شکار تو نہیں،لیکن وہ اپنی روایتی سنجیدگی سے یہی جواب  دیتے ہیں کہ انہیں یہ مرض لاحق نہیں۔ تب آپ مسکراتے کیوں نہیں؟’’ نہیں تو، میں مسکراتا بھی ہوں‘‘ یہ بتایئے آخری بار آپ کب مسکرائے تھے؟ ۱۸۵۷ء  میں یا ۱۹۴۷ء میں؟ اس پر وہ ایسا مسکرائے کہ ہمیں ڈھونڈھنے پر بھی ان کی مسکراہٹ نظر نہیں آئی۔ ہم نے ان سے کہا کہ آپ مسکراتے ہیں تو یہ مسکراہٹ آپ کے چہرے پر نظر کیوں نہیں آتی؟ ’’پتہ نہیں کیوں، شاید آپ اسے دیکھ نہیں پاتے۔‘‘ یعنی ان کی سنجیدگی کیلئے بھی ہم ہی ملزم ہیں۔
  ایک دن ہم نے جھلا کر کہا کہ اللہ کے بندے ، اسی طرح سنجیدہ بنے رہے تو کسی دن یہ سنجیدگی آپ کو لے ڈوبے گی۔ خدارا، مسکرانے کی کوشش کیجئے تاکہ آپ اپنی پیاری سنجیدگی کے ہاتھوں مرنے سے محفوظ رہیں۔ اس پربھی وہ نہیں مسکرائے۔  الٹا ہمیں گھورنے لگے۔ ہم نے انہیں یاد دلایا کہ میرے عزیز! آپ سے تو وہ روسی حکومت اچھی ہے جو اپنی سنجیدہ شبیہ کو بہتر بنانے کیلئے اولمپک کھیل کے انتظامیہ کو مسکرانے کی تربیت دے رہی ہے۔ چونکہ اولمپک مقابلوں کیلئے ساری دنیا سے لوگ یہاں آتے ہیں،  اسلئے میٹرو، ریلوے ،  ہوٹل  اور آفس کے سارے کارکنان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے سفید اور چمکیلے دانتوں کی کھل کر نمائش کریں تاکہ مہمانوں کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ اپنے گھر سے باہر کسی غیر ملک میں جی رہے ہیں۔
  چین میں ’کے ایف سی ‘ والے اپنے چند مسکراتے گاہکوں سے پیسے نہیں لیتے۔ جاپان نے اپنے نوجوانوں کیلئے ایسے کورس متعارف کروائے ہیں جہاں انہیں مسکرانا سکھایاجاتا ہے۔ اگرآپ کو ہماری مذکورہ خبروں پر ہنسی آرہی ہو تو براہ کرم ایک بار ہم پر ہنس دیجئے۔ ہنس نہیں سکتے تو مسکرادیجئےمگر مسکرایئے تو۔ برادر عزیز، آس پاس نظر ڈالئے اور دیکھئے کہ اس وقت کتنے لوگ مسکرارہے ہیں۔ یقیناً مسکرانے والوں کی تعداد نہایت کم ہوگی۔ شاید اسلئے کہ ہم ہندوستانی مسکرانے میں بھی بہت زیادہ بخل سے کام لیتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ مسکراہٹوں نے ہمارے ملک سے ہجرت کرلی ہو، یا ہم نے خود ہی انہیں ملک بدر کردیا ہو۔ بہرحال ، جوہوا، بہت براہوا۔ مسکراہٹ ایسی  آسان اور سستی چیز بھی ہم نے ضائع کردی ۔ تف ہے ہم پر۔
 کیا آپ کو پتہ ہے ، مسکرانے سے آپ کا Stress  اور ذہنی تناؤختم ہوجاتا ہے۔ انرجی بڑھتی ہے اورکچھ تحقیقات تو یہ بھی بتاتی ہیں کہ ہردم مسکرانے والوں کو بلڈ پریشر کی شکایت بھی نہیں ہوتی۔ ایسے خوش باش افراد رونی صورت بنانے والوں کے مقابلے میں لمبی عمر تک جیتے ہیں۔ حیرت ہے، اس پر بھی آپ نہیں مسکرائے۔ آخر کوئی وجہ تو ہوگی؟ ایسی کیا بات ہوگئی کہ آپ کا موڈ دن بھر خراب رہتا ہے جبکہ مسکرانے کے لئے خرچ بھی نہیں کرنا پڑتا اور آ پ مسکرانے لگیں تو آپ کو دیکھ کر دوسرے بھی مسکرانے لگتے ہیں۔ کہیں ایسا تونہیں کہ آپ کو مسکراتا دیکھ کر دوسرے جواباً مسکرانے لگیں توآپ کو اچانک اپنے سماجی رتبہ کا احساس ہونے لگتا ہے؟ یا آپ واقعی اتنے شرمیلے ، خود پسند اوراپنی ذات میں گم رہنے والے بندے ہیں کہ مسکراہٹ میں بھی آپ کو تکلیف ہوتی ہے ؟ ہوسکتا ہے لوگوں کو نظر انداز کرنے کیلئے آپ نے جان بوجھ کر مسکرانا بند کردیا ہو؟ یا آپ کو خدشہ ہو کہ آپ کی مسکراہٹ دیکھ کر لوگ آپ کو کمزور ، بیوقوف اور نااہل سمجھنے لگیں گے؟یا آپ نے قصداً سنجیدگی کا نقاب اوڑھ کر اپنے اطراف اتنی بڑی دیوار کھڑی کردی ہے کہ ایک ہلکی سی مسکراہٹ بھی اس دیوار کو پھلانگ نہیں سکتی؟
 چلئے صاحب، مان  لیتے ہیں کہ آپ کو قبض نہیں ہے ، آپ لوگوں سے دور بھاگنا بھی نہیں چاہتے، شرمیلے بھی نہیں ہیں، سماجی رتبہ بھی آڑے نہیں آتا، پھر مسکرانے میں کیا رکاوٹ ہے؟ کیا سرکاری پالیسیاں آپ کو مغموم کردیتی ہیں؟ کیا حکومت کا عوام مخالف رویہ آپ کیلئے پریشان کن ہے ؟ کیا نفرت اور تعصب کی فضا نے آپ سے مسکراہٹیں چھین لی ہیں اورآپ خود کو غیر محفوظ اور بے بس سمجھنے لگے ہیں؟ کیا ذلت کے خوف اور بے عزتی کے اندیش سے آپ ساری دنیا سے ناراض ہیں؟ بالفرض ایسا ہے بھی، توآپ کو ان لوگوں سے تحریک لینی چاہئے جو اس بنجر اور خزاں رسیدہ ماحول میں بھی مسکراہٹوں کے پھول بکھیر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نامساعد حالات کے باوجود اپنی مسکراہٹیں گروی نہیں رکھیں بلکہ آج بھی فراخ دلی سے  اپنی مسکراہٹیں لوگوں میں تقسیم کررہے ہیں۔
 کبھی یہ بھی سوچئے کہ آپ اسی طرح منہ بسور کر بیٹھے رہے تو آس پاس کی دنیا ماتمی مجلس میں نہیں بدل جائے گی۔ شاید آپ بھول گئے کہ دنیا میں آپ اکیلے ہی نہیں رہتے۔ ہاں! کسی سیارے پر آپ ایک مہذب سماج میں رہتے ہیں جہاں عزیز واقارب ہیں، دوست احباب ہیں، روزمرہ کی ضرورتیں ہیں اوران سب کو بحسن وخوبی انجام دینے کیلئے آپ کو مسکراہٹیں لٹانی پڑتی ہیں۔ کیا کسی اجنبی سے بنا مسکرائے آپ بات کرسکتے ہیں؟کیا مسکراہٹوں کے بغیر دنیا میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے ؟ جناب والا، مسکراہٹیں انسانی وجود کو روشن کرتی ہیں۔ ایک پیاری سی مسکراہٹ آنکھوں میں ایسی چمک پیدا کرتی ہے کہ سارا ماحول منور ہوجاتا ہے بلکہ آپ کی محبت بھری مسکراہٹ خوشیوں کی ایسی محفل سجاتی ہے کہ آپ کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ یہ قدرت کی جانب سے انسانوں کیلئے ایک ایسا انمول تحفہ ہے کہ جتنا وہ تقسیم کریں، اس سے کئی گنا زیادہ لوٹ آتا ہےلیکن آپ پھر بھی نہیں مسکراتے۔ کبھی مسکرا کر دیکھئے ، آپ اپنے اندر ضرور ایک خوشگوار تبدیلی محسوس کریں گے۔
  ہوسکے تو کبھی آئینہ کے سامنے کھڑے ہوکر مسکرانے کی مشق کیجئے۔ آپ کے چہرے کے خدوخال جو آج تک بزرگانہ سنجیدگی اوڑھے رہنے کی وجہ سے کھنچے کھنچے سے تھے، اچانک ڈھیلے ہونے لگیں گے اورآپ کو احساس ہوگا کہ وہ سنجیدہ اور متین چہرہ ، جس پر آ پ نے غصہ اور بے نیازی کی تہہ چڑھارکھی تھی، اترنے لگی ہے اوراس کی جگہ ایک موہنی صورت ابھرتی جارہی ہے۔ ہوسکتا ہے اس لمحے میں آپ کو ڈھیر سارے مسکراتے چہرے یادآئیں۔ وہ معصوم بچہ جو ٹافی دیکھتے ہی مسکرانے لگتا ہے ، وہ ماںجو اپنی شفقت بھری مسکراہٹ سے اولاد کو قریب کرلیتی ہے، وہ رفیق حیات جس کی دل پذیر مسکراہٹ سے ساری تھکن کافور ہوجاتی ہے ، وہ  ہمدردردوست  جن کی  اپنائیت اور خلوص سے بھری مسکراہٹیں  ہمیںجینےکا جواز عطا کرتی ہیں، ایسی ساری مسکراہٹوں کو محفوظ کرلیجئے گا کیوں کہ یہی مسکراہٹیں زندگی کو حسین بناتی ہیں۔ اس پر بھی یقین نہ آئے تو ذرا غور سے سامنے دیکھئے۔ دنیا کیمرے کی آنکھ سے آپ کو تک رہی ہے اور بار بار کہہ رہی ہے کہ اب تو تھوڑا سےمسکرادیجئے ، آپ بھی  اچھے لگیں گے  اور تصویر بھی اچھی آئے گی۔
  اس لاک ڈاؤن کے زمانے میں تویہ مسکراہٹیں یوں بھی قیمتی ہیں کہ یہی مسکراہٹیں آپ کو ہر طوفان سے نکال لے جائیں گی.... اور مسکرانا کوئی مشکل کام نہیں۔ طبیعت میں تھوڑی سی شوخی، مزاج میں تھوڑی سی نرمی اور دلوں میں خیر خواہی باقی ہو تو مسکراہٹیں اپنے آپ ہونٹوں پر رقص کرنے لگتی ہیں۔ ویسے بھی مسکراتے چہرے دن بھرمسرور رکھتے ہیں۔  اسے مثبت سوچ دیتے ہیں، دوسروں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں اور زندگی کو روئی کے گالوں کی طرح آسمانی محبت میں اڑائے اڑائے پھرتے ہیں۔ کیا اس کے بعد بھی آپ مسکراہٹوں پر پہرے بٹھایئے گا؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK