• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

سوشل میڈیا راؤنڈ اَپ: ’ہندوستانی گیندبازوں کی تکڑی بلے بازی کو تہس نہس کررہی ہے‘

Updated: November 05, 2023, 1:42 PM IST | Azhar Mirza | Mumbai

یہ ہفتہ کرکٹ اور کرکٹروں کے نام رہا۔ جیسے جیسے کرکٹ ورلڈ کپ اہم مراحل کی طرف بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے میچز دلچسپ ہوتے جارہے ہیں۔

Mohammed Shami. Photo: INN
محمد سمیع۔ تصویر:آئی این این

یہ ہفتہ کرکٹ اور کرکٹروں کے نام رہا۔ جیسے جیسے کرکٹ ورلڈ کپ اہم مراحل کی طرف بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے میچز دلچسپ ہوتے جارہے ہیں۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بھی گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے۔
ہندوستانی تیزگیندبازوں کی تکڑی (سمیع، بمراہ ،سراج) خوب واہ واہی لوٹ رہی ہے۔بالخصوص ہفتے بھر سے محمد سمیع نیٹیزنس کے دلارے بنے ہوئے۔ابتدائی چار میچوں میں بینچ پر بیٹھنے کے بعد جب سمیع کو نیوزی لینڈ کیخلاف موقع ملا تو انہوں نے ’موقع پر چوکا نہیں پنجہ لگایا ‘‘پھر انگلینڈ کے مقابل چار وکٹ اور سری لنکا کے خلاف تو وہ قہربن کر ٹوٹے اور ۵؍ وکٹیں حاصل کیں۔ اس طرح محض تین میچوں میں ۱۴؍ وکٹیں حاصل کرکے انہوں نے تہلکہ مچادیا ہے۔ اس صورتحال کی منظر کشی کرکٹ فین نامی ٹویٹر صارف نے یوں کی کہ ویب سیریز مرزا پور کا ایک مِیم شیئر کیا جس میں مُنابھیا کی جگہ سمیع کہہ رہے ہیں کہ’’جلوہ ہے ہمارا یہاں۔‘‘
گروگلاب نامی صارف نے اعداد وشمار شیئر کرتے ہوئے سوال قائم کیا کہ ’’ایک بار پھر، آخر کیوں سمیع کا شمار ورلڈ کپ کے بہترین گیندبازوں میں نہیں کیا جاتا؟ اس (ناانصافی) کی وجہ بتائیے یا پھر انہیں صحیح رینکنگ دیجئے‘‘ 
کھیل شائقین کیساتھ ساتھ کرکٹ پنڈت بھی سمیع کی مسحور کن ’سِیم‘ بالنگ کے دیوانے بن گئے ہیں۔ 
پاکستان کے سابق وکٹ کیپر راشد لطیف نے لکھا کہ ’’محمد سمیع کی کلائی کی پوزیشن اوربال ریلیز ایکدم درست ہے، اسی سبب وہ موجودہ وقت کے بہترین سِیم بالر ہیں۔‘‘ٹیم انڈیا کے سابق تیزگیندباز مناف پٹیل نے ایکس پر لکھا کہ ’’تو عرض کیا ہے اپنے بھائی محمدسمیع کیلئے۔ کامیابی کی جنگ اکیلے ہی لڑنی پڑتی ہے، سیلاب امڈتا ہے جیت جانے کے بعد۔‘‘ ہربھجن سنگھ نے لکھا کہ ’’سمیع بھائی کا جبرافین،شاندار اسپیل‘‘ وریندرسہواگ نے لکھا کہ ’’محمد سمیع ورلڈ کپ کے بڑے کھلاڑی ہیں ۔۱۴؍میچوں میں ۴۵؍وکٹ شاندار کارنامہ ہے۔ ورلڈ کپ میں ہمارا سب سے زیادہ وکٹ لینے والا گیندباز۔ جتنی کریڈٹ اسے دی گئی ہے یہ اس سے زیادہ کا حقدار ہے۔‘‘جانس نامی صارف نے لکھا کہ’’بمراہ ۱۵؍ وکٹ،سمیع ۱۳؍وکٹ، سراج ۹؍وکٹ۔ہندوستانی تکڑی ورلڈکپ سبھی ٹیموں کی بلے بازی کو تہس نہس کررہی ہے۔ ‘‘
ان دنوں  گیند باز محمدسمیع کی واہ واہی میں وہ لوگ بھی پیش پیش ہیں جو ایک خراب پرفارمنس پر انہیں ’دیش دروہی‘ اور نہ جانے کیا کیا کہہ جاتے ہیں ۔ اسی حوالے سے فیس بک پر سینئر صحافی مہتاب عالم نے لکھا کہ ’’ جنتا محمد سمیع کے پرفارمنس پر لٹو ہورہی ہے۔ مزے دار بات یہ ہے کہ اس میں زیادہ تر لوگ ابھی دو سال پہلے سمیع کو غدار بلارہے تھے، ان سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ مانگ رہے تھے۔‘‘
 محمد سمیع سے ایک اور بات یاد آئی کہ سری لنکا کے سامنے انہوں نے وکٹوں کا’پنجہ‘ مکمل کرنے کے بعد میدان پر گھٹنوں کے بل بیٹھے، دونوں ہاتھ ٹیکے، لوگوں کو لگا کہ وہ ’سجدۂ شکر‘ کرنے جارہے ہیں لیکن پھر وہ رک گئے۔ سوشل میڈیا پر بحث چھڑی کہ انہوں نے ٹرولنگ اور نفرتی چنٹوؤں کے سبب سجدۂ شکر کا ارادہ ترک کردیا۔ اس کا ثبوت سوشل میڈیا پر نظر آگیا۔ صحافت کے نام پر منافرت پھیلانے والے سریش چوانکے نے اس منظر کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’یہ کیا کرنے جارہا تھا؟‘‘اس پر چوانکے کو لوگوں نے خوب کھری کھوٹی سنائی۔
صحافی اشوک کمار پانڈے نے اس پر لکھا کہ ’’اپنے خدا کو شکریہ کہنے جارہا تھا کہ اس کے بخشے ہوئے ہنر سے اپنے محبوب وطن کی خدمت کر کے جیت حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکا،کوئی دقت ہے تمہیں ؟‘‘بات کرکٹ کی ہورہی ہے تو عرفان پٹھان کا بھی ذکر ہوجائے۔ وہی عرفان جو کرکٹ سے سبکدوشی کے بعد کمنٹری باکس میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوارہے ہیں۔ ان دنوں عرفان اسلئے بھی موضوع بحث ہیں کہ وہ ’پڑوسیوں (پاکستانیوں )‘ کو چڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ جس پر غیر جانبداروں کی جانب سے انہیں مشورہ بھی دیا گیا کہ وہ جنہیں خوش کرنے کیلئے یہ سب کررہے ہیں وہ موقع آنے پر انہیں ’غدار‘ اور اس طرح کے لیبل چپکانے سے بازنہیں آئیں گے۔
 اس ہفتے جس بات کا خدشہ تھا وہی ہوا۔ عرفان پٹھان کے پیچھے نفرتی چنٹوؤں کا ٹولہ پیچھے پڑگیا۔ ہوا یوں کہ عرفان نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف لب کشائی کی ، لکھا کہ ’’ہر دن معصوم بچے غزہ میں اپنی جان گنوارہے ہیں اور دنیا خاموش ہے۔ بحیثیت ایک کھلاڑی میں آواز اٹھاسکتا ہوں لیکن عالمی لیڈروں کے لئے یہ وقت ہے کہ وہ متحد ہوں اور اس بہیمانہ قتل و غارت گری کو بند کرائیں۔‘‘
عرفان نے ہمت تو دکھا دی لیکن جاہلوں کے ٹولے کو یہ بات راس نہیں آئی۔ مجبوراً عرفان کو متذکرہ ٹویٹ کا کمنٹ سیکشن تبصرے بازی کے لئے بند کرنا پڑا۔ اس آواز کو دبانے کیلئے ایسا لگا کہ منظم حملہ کیا جارہا ہے ، اندازہ اس بات سے لگائیے کہ عرفان کی اس ایکس پوسٹ کوپانچ ہزار سے زائد افراد نے ’کوٹس‘ کیا۔ ان میں اکثریت منافرت پھیلانے والوں کی نظر آئی ۔جو انہیں اسرائیلی مظالم کے خلاف بولنے پر دنیا بھر کے معاملات یاد دلارہے تھے کہ اس پر کیوں کچھ نہیں کہا؟
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مشرقی دنیا میں نامور شخصیات کیوں چپ رہنے میں عافیت سمجھتی ہیں؟ مغربی دنیا کے سیلبریٹیز تو ببانگ دہل کہتے بھی ہیں۔ اداکارہ و سماجی رضاکار انجیلینا جولی کی ہی مثال لیجئے، ان سے پہلے بھی کئی نامور کھلاڑیوں ، اداکاروں اور دیگر مشہور شخصیات نے اہل فلسطین کیلئے صدائے احتجاج بلند کی۔ موضوعات اور بھی ہیں ، جن پر لکھنا تھا ، خیر اگلے ہفتے ملتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK