Inquilab Logo Happiest Places to Work

رمضان ڈائری (۲۳): بچی نے سوال کیا: ’’ابو! آپ روزہ کیوں نہیں رکھتے؟‘‘

Updated: March 14, 2026, 11:01 AM IST | Zulqarnain Ansari | Mumbai

بھیڑ اتنی تھی کہ گویا آج خریداری کا آخری دن ہو اور اس کے بعد بازار نام کی کوئی چیز کبھی کسی کو دیکھنے نہیں ملے گی۔ مختلف رنگوں کے قمقمے اور لوگوں کی چہل پہل نے وہ سماں باندھا تھا کہ دل اور نظر کو موہ لیتا تھا۔ یہ شام کا نہیں، صبح کا منظر محسوس ہو رہا تھا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

مجھے اس دن اس بات کا قطعی اندازہ نہیں تھا کہ اکثر سنی ہوئی کہاوت ’’بچے من کے سچے‘‘ کی ایک دن تصدیق ہو جائے گی۔ 
چند روز پہلے کی بات ہے۔ مَیں افطار خریدنے کیلئے بازار گیا تھا۔ عصر پڑھ کر بازار کی جانب اکیلا ہی نکلا تھا کہ ایک دوست بھی مل گیا۔ تقریباً پانچ منٹ میں ہم بازار میں تھے۔ بھیڑ اتنی تھی کہ گویا آج خریداری کا آخری دن ہو اور اس کے بعد بازار نام کی کوئی چیز کبھی کسی کو دیکھنے نہیں ملے گی۔ مختلف رنگوں کے قمقمے اور لوگوں کی چہل پہل نے وہ سماں باندھا تھا کہ دل اور نظر کو موہ لیتا تھا۔ یہ شام کا نہیں، صبح کا منظر محسوس ہو رہا تھا۔ 
بازار میں کچھ دکانوں پر حاضری لگانے کے بعد ماجد بھائی سے ملاقات ہو گئی جو تقریباً چار سال پہلے ہمارے پڑوسی تھے۔ ماجد بھائی کے ساتھ ان کی بیٹی بھی تھی جو چار سے پانچ سال کی تھی۔ مَیں نے اسے گود میں اٹھا لیا تو کہنے لگی:’’بھائی! یہاں اتنی بھیڑ کیوں ہے؟‘‘ مَیں نے جواب دیا: ’’رمضان میں لوگ افطار لینے آتے ہیں، اس لئے بھیڑ ہے۔ ‘‘ 
کچھ دور چلنے کے بعد ہم ایک کباب والے کی دُکان پر رک گئے۔ کباب خریدتے وقت ماجد بھائی کہنے لگے، ’’اتنی مہنگائی آج سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ ‘‘ مَیں نے بھی ہاں میں سر ہلایا، پھر ہم آگے بڑھ گئے۔ مارکیٹ کے ہنگامے سے توجہ ہٹانے کیلئے مَیں نے بچی سے بات چیت شروع کردی، ’’تمہارا نام کیا ہے، بیٹا؟ ‘‘
’’فلک، اچھا نام ہے نا بھائی؟‘‘ بچی نے نام کے ساتھ نام کیلئے توصیفی کلمات کا بھی مطالبہ کیا۔ 
مَیں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، ’’بہت پیارا نام ہے، کس نے رکھا ہے؟‘‘
اس نے جواب دیا کہ ’’ابو نے۔ ‘‘ 
جوں جوں وقت گزر رہا تھا بھیڑ بڑھتی جا رہی تھی۔ فالودہ والے کی دکان پر لوگوں کا ہجوم اس قدر تھا کہ اسے دیکھ کر ہی سانس رکتا محسوس ہونے لگا۔ یہاں پر پانچ لوگ فالودہ کی تھیلیاں اتنی پھرتی سے باندھ رہے تھے کہ جیسے انہیں ہم سے پہلے گھر پہنچنے کی جلدی ہو۔ ایسی رونق رمضان کے علاوہ کسی اور ماہ میں دیکھنے نہیں ملتی۔ وہاں سے آگے بڑھنے لگے تو فلک نے ضد شروع کر دی کہ مجھے فالودہ چاہئے۔ 
بھیڑ دیکھتے ہوئے ماجد بھائی نے کہا، ’’بیٹا! فالودہ کل لیں گے۔ ‘‘ مگر بچی نے ضد پکڑ لی۔ چار نا چار ہم قطار میں لگ گئے۔ تقریباً ۵؍ سے ۷؍ منٹ بعد جب ہمارا نمبر آیا تو فالودے کی تھیلی تقریباً جھپٹتے ہوئے وہاں سے بھاگے۔ بس اب تربوز خریدنا باقی رہ گیا تھا۔ ٹھیلے والے سے مول تول کرنے کے بعد تربوز لے کر گھر کی طرف جلدی جلدی قدم بڑھانے لگے کہ اذان کا وقت بالکل قریب تھا۔ 
راستے میں ہم یہاں وہاں کی باتوں میں مشغول تھے کہ فلک نے بڑی سنجیدگی سے سوال کیا، ’’بھائی یہ روزہ کیا ہوتا ہے؟‘‘
مَیں نے کہا، ’’رمضان میں اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کیلئے ہم مسلمان روزہ رکھتے ہیں۔ ‘‘
وہ سوالیہ نظروں سے یوں دیکھنے لگی جیسے اس کی سمجھ میں نہ آیا ہو۔ لہٰذا مَیں نے اسے سمجھایا کہ ’’ہمارے مذہب میں بتایا گیا ہے کہ رمضان میں صبح سے لے کر سورج ڈھلنے تک کچھ بھی کھایا پیا نہ جائے۔ اسے روزہ کہتے ہیں۔ ‘‘
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد فلک نے اچانک ماجد بھائی سے پوچھا، ’’پھر آپ روزہ کیوں نہیں رکھتے ابو؟ کیا ہمارا مذہب الگ ہے؟‘‘
 فلک کے اس سوال کے بعد ہم سب خاموش ہوگئے۔ میرا دوست سمیر کہنے لگا، ’’بیٹا! ایسے نہیں کہتے۔ آپ کے ابو مسلمان ہیں، ان کا مذہب بھی اسلام ہے۔ ‘‘ فلک نے پھر پوچھا’’تو پھر ابو روزہ کیوں نہیں رکھتے؟‘‘ ماجد بھائی نے اسے سمجھایا، ’’بیٹا! مَیں دن بھر سفر میں رہتا ہوں اور مجھے دوائیں کھانی پڑتی ہیں۔ اسلئے مَیں روزہ نہیں رکھ سکتا۔ ‘‘ جب مَیں نے ماجد بھائی سے دواؤں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ’’پچھلے کچھ دنوں سے اپینڈکس کی شکایت ہے۔ پیٹ میں وقفہ وقفہ سے درد اٹھتا ہے اور کبھی کبھی تو شدت اختیارکر جاتا ہے۔ ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اگر دوا سے بات نہ بنی تو آپریشن کرنا ہوگا۔ ‘‘
اس پس منظر کو سامنے رکھ کر میں سوچنے لگا کہ واقعی بچے من کے سچے ہوتے ہیں اور جو دل میں ہوتا ہے، زبان پر لے آتے ہیں خواہ کوئی بات اُن کے ابو، امی کے خلاف ہی کیوں نہ جاتی ہو!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK