Inquilab Logo Happiest Places to Work

فتاوے: رمضان میں ایک سے زیادہ مرتبہ بھی مکمل قرآن ختم کیا جا سکتا ہے

Updated: March 13, 2026, 4:41 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai

شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱)تراویح میں تکمیل قرآن۔ (۲)قرأت میں غلطی۔ (۳)سامان تجارت اور زکوٰۃ۔

The arrangement of Surah An-Nas, which is well known from Al-Tar, is for the convenience of the people. Photo: INN
الم تر سے سورہ الناس کی جو ترتیب مشہور ہے وہ عوام کی سہولت کے مد نظر ہے ۔ تصویر: آئی این این

تکمیل قرآن کے بعد اس وقت سورہ تراویح کی ترتیب چل رہی ہے، دو حافظ ہیں۔ گزشتہ کل ایک نے  دس رکعات میں  الم تر سے سورہ ناس تک پڑھائی جبکہ بعد والے حافظ صاحب نے ۲۹؍ ویں (انتیسویں) پارے کی ایک سورہ پڑھی۔ کیا یہ قرأت خلاف ترتیب ہوئی اور کیا اس طرح پڑھنے سے نماز میں کراہت آجائے گی؟ 

نوید الحسن ،ممبئی

 باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: تراویح میں ختم قرآن مستقل ایک سنت ہے۔ پورے رمضان المبارک میں ایک سے زیادہ مرتبہ بھی مکمل قرآن ختم کیا جاسکتا ہے تاہم مسنون یہ ہے کہ پورے مہینےمیں کم از کم ایک قرآن ضرور ختم کرلیا جائے  لہٰذا چونکہ پورے کلام پاک کا ختم مطلوب ہے اس ترتیب وغیرہ کی رعایت بھی ختم قرآن ہی میں ہوگی لیکن ختم قرآن مقصود نہ ہو تو سورہ تراویح کی ترتیب کا کہیں کوئی  ذکر نہیں ۔الم تر سے سورہ الناس کی جو ترتیب مشہور ہے وہ عوام کی سہولت کے مد نظر ہے کہ یہ سورتیں عام طور سے لوگوں کو یاد ہوتی ہیں  اس لئے کوئی حافظ دستیاب نہ ہو تب بھی کئی  ناظرہ خواں ایسے موجود ہوسکتے ہیں جو اس ترتیب سے مکمل تراویح پڑھا دیں، تاہم اگر کوئی ان سورتوں کی جگہ کسی دوسری بڑی  سورہ یا چند چھوٹی سورتیں پڑھ کر تراویح پڑھا دے تو کوئی حرج نہیں لہٰذا صورت مسئولہ میں دوسرے حافظ صاحب نے اپنی باری میں  انتیسویں پارہ کی سورہ پڑھ کرتراویح مکمل کردی تو اس میں بھی کسی قسم کی کوئی کراہت نہیںہے ۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: کمیشن پہ چندہ، زکوٰۃ کا ایک مسئلہ، مستحق کا قرض ادا کرنا

قرأت میں غلطی 

تراویح میں قرأت فاسد ہو گئی تو کیا رکعات کا اعادہ ضروری ہے؟  دو رکعت میں پڑھا گیا قرآن کا بھی اعادہ ضروری ہے نیز یہ اعادہ جماعت ہی کی شکل میں ہوگا یا الگ الگ بھی کر سکتے ہیں؟  

محمد ندیم ،تھانہ 

باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: فاسدہونے کی ایک صورت تو یہ ہے کہ مثلاً تین رکعت پڑھا دی مگر دو پر نہیں بیٹھا، اس صورت میں نماز ہی نہیں  ہوئی،  ایک صورت یہ ہے کہ قرأت وغیرہ میں ایسی غلطی ہوگئی کہ نماز ہی فاسد ہوگئی ، ان صورتوں میں نماز کا اعادہ ہوگا۔ اس میں تفصیلات ہیں ۔ بہ نیت تراویح اعادہ سے بقول فقہائے کرام رکعات میں  زیادتی لازم آئےگی۔ درمختار وغیرہ میں قضاء نہ کرنے کی بھی تصریح ہے ، نہ تنہا نہ باجماعت مگر بعض نے انفرادی قضا کی اجازت دی ہے تاوقتیکہ دوسری تراویح کا وقت نہ آ جائے اور بقول بعض رمضان نہ گزر جائے ۔ بہر حال یہ تو تسلیم شدہ ہے کہ جماعت کے ساتھ اعادہ نہیں اور انفرادی بھی مشروط ہے کوئی  قضا کرے بھی تو نفل کی نیت کرے قرآن جو پڑھاگیا اس کا بعد میں کسی دن تراویح میں اعادہ کرلیا جائے ۔واللہ اعلم وعلمہ اتم

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: دلالی کی اجرت، وتر میں سہو، حرام آمد سے تنخواہ دینا

سامان تجارت اور زکوٰۃ 

تجارت کی زکوٰۃ میں نفع کے ساتھ قیمت پکڑی جاتی ہے اور  اسی نفع سے سال بھر میں مزدوروں کی مزدوری اور دکان کے اخراجات نکالے جاتے ہیں تو نفع پکڑی  ہوئی قیمت سے ان اخراجات کو منہا کیا جائے گا یا نہیں؟ 

عبد اللہ، ممبئی

باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق:  مال کی زکوٰۃ میں اصل یہ ہے کہ مالِ زکوٰۃ کا چالیسواں حصہ (ڈھائی  فیصد) مستحق کو دے دیا جائے۔ قیمت کا سوال بعد کا ہے، مال کے چالیسواں حصہ کے بجائے  اس کی قیمت دینی ہو تو اس وقت یہ سوال ہوگا کہ کون سی قیمت معتبر ہوگی، قیمت خرید یا قیمت فروخت؟ فقہاء نے قیمت فروخت کا اعتبار کیا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ مال جس شہر یا مارکیٹ میں ہے وہاں اس کی جو قیمت ہوگی زکوٰۃ کی قیمت متعین کرنے میں اسی کا اعتبار ہوگا، ظاہر ہے تاجر حضرات قیمت ِفروخت کے متعین کرنے میں مزدوری اورکرایہ وغیرہ کو بھی شامل کرتے ہیں اس لئے قیمت فروخت میں یہ اخراجات بھی شامل رہیں گے۔ قیمت متعین کرتے وقت انہیں منہا نہ کیا جائے گا۔ مارکیٹ میں تاجر حضرات بیچنے کے لئے  جو قیمت طے کرتے ہیں ادائے زکوٰۃ کے لئے  وہی معتبر ہوگی۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK