اخلاقیات کا منبع حالات نہیں؛ حکمِ خداوندی ہے

Updated: February 26, 2021, 10:59 AM IST | Mudassir Ahmed Qasmi

خوشگوار حالات میں اخلاقیات کو ملحوظ رکھنا اور حالات بگڑنے پر اخلاقیات کا دامن چھوڑ دینا درست نہیں۔ سچا پکا مسلمان وہ ہے جو ہر حال میں اخلاق کا مظاہرہ کرے۔ یہ اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ ہے۔

Family - Pic : INN
فیملی ۔ تصویر : آئی این این

جب حالات موافق اور معمولات زندگی نارمل ہوں تو کسی کے لئے بھی بہترین اخلاق کا مظاہرہ مشکل نہیں ہوتا لیکن جب بادِ مخالف کا سامنا ہو اور زندگی کی گاڑی دشوار گزار راہوں پر ہو تب انسان کے حقیقی معنوں میں بااخلاق یا بد اخلاق ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ چنانچہ ہم اپنے معاشرے میں کچھ ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ جب وہ پر سکون ہوتے ہیں اور اُن کے آس پاس کے حالات درست ہوتے ہیں تو وہ اخلاق کے اعلیٰ معیار پر ہوتے ہیںلیکن وہی لوگ جب غصے کی حالت میں ہوتے ہیں، اُنہیں مشکلات کا سامنا ہوتاہے اور حالات اُن کے حق میں نہیں ہوتے تب وہ بالکل بدلے ہوئے نظر آتے ہیں اور آپ کو اُن میں اخلاق کا عکس بھی نظر نہیں آتا۔ ہم یہ افسوسناک تبدیلی اکثر اپنے معاشرے میں دیکھتے ہیں اور یہ ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ انسان کا کردار حالات کے بدلنے سے بدل جائے۔ اِ س تعلق سے جب ہم اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم پر یہ منکشف ہوتا ہے کہ اسلام میں اخلاقیات کا منبع حالات نہیں بلکہ حکم ِخداوندی ہے؛ اس لئے اسلام پر دل و جان سے نیز آخرت کے خوف سے عمل پیرا مسلمان مشکل حالات سے سنورتے ہیں بکھرتے نہیں۔
یوں تو ہمارے دل و دماغ میں یہ تصور جاگزیں ہے کہ کم علم یا جاہل لوگ عموماً بد اخلاق اور بد تہذیب ہوتے ہیں لیکن یہ تصور اُس وقت غلط ٹھہرتا ہے جب ہم اکثر ایسے لوگوں کو بد اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاتے ہیں جو تعلیم یا فتہ ہیں اور مہذب کہلاتے ہیں۔ ایسے مواقع پر کچھ لوگ یہ کہتے ہوئے ملتے ہیں کہ کبھی کبھار بداخلاقی مجبوری بن جاتی ہے مثلاً جب کوئی شخص آپ سے بد تمیزی کرے یا بداخلاقی کا مظاہرہ کرے تو ایسے مواقع پر خاموشی یا سادگی نقصان دہ بن جاتی ہے۔ یہ سوچ بالکل غلط ہے جس کے بُرے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ انتہائی حکیمانہ انداز میں نبی اکرم ﷺ نے مذکورہ سوچ کی تردید کی ہے، چنانچہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’اگر کوئی شخص تمہیں کسی ایسی چیز کے بارے میں زبان سے بُرا بھلا کہے یا شرم دلائے جو چیز تمہارے اندر پائی جاتی ہے اور وہ اس کو جانتا ہے تو تم اُس کو کسی ایسی چیز کے بارے میں شرم نہ دلائو جو اُس کے اندر ہے جس کو تم جانتے ہو۔ تم اُسے ان کی برائی(گالی) کا نتیجہ بھگتنے دو اور تم ثواب حاصل کرتے رہواور گالی نہ دو۔‘‘ (صحیح الترغیب) اِس حدیث کے واضح پیغام پر غور فرمائیں کہ ہمیں بداخلاقی کے جواب میں بد اخلاق ہوجانے کی تعلیم نہیں دی گئی ہے۔ یقیناً یہی وہ طریقہ ہے جس سے لوگوں کے شر کو شرارہ بننے سے روکا جاسکتا ہے اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے میں اپنا کردار ادا کیا جاسکتا ہے ۔
موجودہ زمانے کے تناظر میں ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بداخلاقی صرف یہ نہیں ہے کہ انسان سامنے والے کے ساتھ بد زبانی کرے، بُرابھلا کہے یا اِس سے آگے بڑھ کر ہاتھا پائی پر اُتر آئے بلکہ آج کے زمانے میں بداخلاقی کے مظاہرے کے لئے نئے مواقع پیدا ہو گئے ہیں اور وہ ہیں سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم جہاں طوفانِ بدتمیزی برپا کرنے والے جاہل کم اور پڑھے لکھے زیادہ ہیں۔ کبھی اِن پلیٹ فارموں سے عظیم شخصیات کے خلاف بد اخلاقی کا مظاہرہ ہوتا ہے تو کبھی بِلا وجہ غیر معقول طریقے سے کسی خاص طبقے کو ٹرول کیا جاتا ہے یعنی ہدفِ تنقید بنایا جاتاہے۔
اِس پس منظر کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ زبانی بد اخلاقی تو لوگ کبھی کبھار کرتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر بد اخلاقی کرنا بہت سارے لوگوں کے روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔ یہاں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ’’جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اُسے یا تو اچھا بولنا چاہئے یاخاموش رہنا چاہئے۔‘‘ (بخاری) اِس کا مفہوم صرف زبان سے بُرا بولنا نہیں ہے بلکہ اس میں قلم، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور موبائل سے بُرا لکھنا بھی شامل ہے۔ حدیث پاک کے اِس مفہوم سے ہمیں اسلام کی تعلیمات کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے اور ہر زمانے میں ان تعلیمات کے قابلِ عمل ہونے کا بھی علم ہوتا ہے۔ 
اخلاقیات کے حوالے سے موجودہ زمانے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ انسانی سماج کے وہ افراد جنہیں اللہ رب العزت نے غیر معمولی طور پر عقل و دانش سے نوازا ہے اور جن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام الناس کو اخلاقیات کا درس دیں، جب وہ عملی میدان میں قدم رکھتے ہیں تو اُن کا رویہ کچھ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اُن سے اخلاقیات سیکھنے کے بجائے اُنہیں بد اخلاقی کا نمونہ سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں بلکہ حقیقت ہے، آپ کسی بھی عہدے پر فائز یا اعلیٰ صلاحیتوں اور خوبیوں کے مالک لوگوں کا اپنے ماتحتوں اور متبعین کے ساتھ سلوک دیکھ لیجئے (سب نہیں مگر بہت سے لوگ)، آپ کو بخوبی علم ہوجائے گا کہ بد اخلاقی کسے کہتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ہم میں سے صاحبِ اختیار اور باصلاحیت لوگوں کو یہ بات گراں گزرے، لیکن اِس حوالے سے ہمیں اپنا احتساب ضرور کرنا چاہئے۔ اگر ہم اپنے آپ کو بد اخلاقی سے پاک پاتے ہیں تو اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہئے؛ بصورتِ دیگر اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہئے۔ 
اخلاقیات کے باب میں ایک خصوصی امرپر ہمیں اپنی توجہ ضرور مرکوز رکھنی چاہئے کہ بچوں کو بااخلاق بنانے کے لئے گھر میں بڑوں کا اور اسکولوں اور مدارس میں اساتذہ کا با اخلاق ہونا ضروری ہے؛ کیونکہ بچے اپنے بڑوں اور اساتذہ سے ہی سیکھتے ہیں۔ مبادا کہیں ایسا ہو کہ ہم گھر اور اسکول میں بچوں کو اخلاقیات سکھانے میں بھی بد اخلاقی پر اُتر آئیں جس کا منفی اثر بچوں پر پڑے! 
خلاصہ ٔ کلام یہ ہے کہ ہم ہر جگہ اور ہر حالت میں اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں، اس سے جہاں ہماری زندگی مثالی اور پُر سکون ہوگی وہیںہمارے ارد گرد بسنے والے افراد بھی ہماری اِس خوبی سے فیضیاب ہوںگے۔ یاد رہے کہ ہمیں اپنے آپ کو مطلوبہ اخلاق سے مزین کرنے کیلئے نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ عالی کو اپنا رول ماڈل بنانا ہوگاکیونکہ آپ ﷺ ہی کی ذات پاک اخلاق کے بلند معیار پر ہے، اس کا اعلان اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: ’’بلاشبہ آپؐ اخلاق کے اعلیٰ معیار پر فائز ہیں۔‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK