Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسپینش ادب سے ایک کہانی: جہاں گرد

Updated: March 01, 2026, 11:40 AM IST | Mumbai

پلیٹ فارم پر سناٹا تھا۔ وہ بنچ پر نیم دراز ہوگیا اور آنکھیں موند لیں۔ جماہی لیتے ہوئے اس نے دائیں بائیں نظر دوڑائی۔ مجھے یہ تک یاد نہیں کہ وہ شہر کیسا تھا جہاں میں پیدا ہوا، اس نے تھک کر سوچا۔ اس کے کانوں میں دروازہ کھلنے کی آہٹ آئی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

مصنف: کیم مونزو 
ترجمہ: زینت حسان
اس نے اپنی زندگی کے پہلے بیس سال سرکس میں گزارے۔ آج ایک جگہ پڑاؤ ہے تو کل دوسری سمت کوچ۔ ان بیس سالوں میں اس نے کبھی ایک شہر میں دوبارہ قدم نہ رکھا۔ کیا سرکس تھا وہ بھی، دیس دیس گھومتا ہوا، جیسے کوئی آوارہ گرد بے مقصد گلیوں گلیوں پھر رہا ہو۔ بازی گروں کا بیٹا، بچپن ہی سے وہ نت نئے اور انوکھے ماحول میں مست رہا۔ بونوں اور مسخروں سے اس کی یاری تھی؛ شیر اور اس کے سدھارنے والے، تار پر چلنے والے، کندوں پر جھولنے والے، آگ اگلنے والے، گھوڑے اور ہاتھی اس کے ساتھی تھے۔ وہ ایسے تین قبائلی امریکیوں اور دو انڈین رقاصاؤں سے واقف تھا جو چھریوں کی بوچھار سے زندہ سلامت نکل آتے۔ چودہ سال کی عمر میں اسے ایک لڑکی سے محبت ہوگئی، جو لگا تار تین دن دوسری قطار میں آکر بیٹھتی رہی تھی۔ 
جب وہ بیس کا ہوا تو سرکس پر زوال کا وقت شروع ہوچکا تھا۔ سب کا خیال تھا کہ سرکس سینما اور ٹی وی کا مقابلہ نہیں کرسکے گا۔ وہ جس سرکس میں ملازم تھا، اس نے اپنے خیمے ہمیشہ کے لئے لپیٹ لئے۔ جن کو کسی دوسرے سرکس میں نوکری مل سکتی تھی، وہ وہاں چلے گئے، لیکن سب ایسے خوش نصیب نہ تھے۔ اس عمر میں گو کہ اسے کسی اور سرکس میں اچھی جگہ مل سکتی تھی، اس نے آبائی پیشے کو خیر باد کہا اور کسی ایک جگہ پڑاؤ ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ وہ ایک ریلوے کمپنی میں کلرک لگ گیا۔ بیس سال تک اس نے اس شہر سے باہر قدم نہ نکالا۔ وہ اپنا ہر دن ٹرینوں کی آمدورفت کے اوقات ترتیب دیتے اور ان میں تبدیلیاں کرتے ہوئے گزارتا۔ ٹکٹوں پر چھپے ہوئے شہروں کے جانے پہچانے نام دیکھ کر اس کا دل کبھی نہ مچلتا کہ وہ دوبارہ وہاں جائے۔ جس نے آدھی دنیا بیس برس کا ہونے سے پہلے ہی دیکھ لی تھی، اُس نے اگلے بیس سال ایک خاموش، سنسان مکان اور آہنی دروازوں والے دفتر میں کاٹ دیئے۔ بیس سال تک وہ ایک ہی سڑک پر چل کر دفتر جاتا رہا۔ 
شروع کے دنوں میں شام کے وقت، بند دروازے کے پیچھے، تنہائی سے اکتا کر اس نے باری باری ان تمام شہروں کو یاد کرنا شروع کیا جو اس نے کبھی دیکھے تھے۔ پھر اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کا ماضی، دن بہ دن دور ہوتا جارہا ہو۔ شاید ٹھہری ہوئی زندگی گزارنے کے لئے ایک خاص قسم کی طبیعت درکار ہوتی ہے۔ شاید وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اس یکساں، ساکت زندگی کا عادی ہوجائے گا۔ وہ سوچتا۔ وہ اس ماحول اور یکسانیت کا جلد ہی عادی ہوگیا، جو اس کو اندر سے چاٹ کر کھوکھلا کئے دے رہی تھی۔ نہ صرف یہ کہ وہ یکسانیت کے خلاف کسی ردِعمل کے قابل نہیں رہا، بلکہ اس میں بیتے ہوئے دنوں کو یاد کرنے کی صلاحیت بھی ختم ہوگئی۔ لیکن ہر رات باقاعدگی سے، ایک کاریگر کی صناعی سے، وہ ایک متوازی زندگی خواب میں دیکھتا، وہ زندگی جو اس نے بیس سال تک دیس دیس گھوم کر گزاری تھی۔ اس طرح جب وہ چالیس برس کا ہوا تو اس نے خواب میں دیکھا کہ سرکس ختم ہوگیا ہے اور اس نے ایک جگہ سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آدھی رات کو اچانک اس کی آنکھ کھل گئی۔ وہ پسینے میں شرابور گہری گہری سانسیں لے رہا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ جیسے چھت کسی لمحے اس پر آ گرے گی۔ بیس سالہ خواب سے جاگنے پر اس نے اپنی ساری جمع پونجی بیچ ڈالی، اسٹیشن پہنچا اور پہلی ٹرین پکڑ لی۔ 
وہ شہر شہر گھومتا پھرا۔ اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ کھوئے ہوئے برسوں کا مداوا کرے گا۔ اس نے شہروں کی فہرست سے وہ نام کاٹ دیئے جہاں وہ پہلے جاچکا تھا۔ پچاس برس کا ہونے تک وہ دنیا کا باقی آدھا حصہ بھی گھوم چکا تھا جو اس نے اپنی زندگی کے اوائل میں نہیں دیکھا تھا۔ ہر شہر سے نکلتے ہوئے اسے احساس ہوتا کہ وہ وہاں سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہورہا ہے۔ اس کی پہلی نظر ہی آخری نظر ہوتی۔ تمام دنیا دیکھ لینے کے بعد، اب کسی اَن جانی جگہ پر قدم رکھنا اس کے لئے ممکن نہیں رہا تھا۔ کئی دنوں سے اسے خواب بھی نظر نہیں آرہے تھے۔ اس نے اس شہر کا نام یاد کرنے کی کوشش کی جہاں اس نے پہلی بار ایک لڑکی کو پیار کیا تھا۔ وہ لڑکی اس کی عَم زاد تھی، اور تاروں پر چلتی تھی۔ ذہن پر زور ڈالنے کے باوجود وہ یاد نہ کرسکا کہ آیا وہ شہر برلن تھا یا ڈان زِگ۔ کیا اس نے تمام چیزیں تفصیل سے دیکھی تھیں، اس نے خود سے سوال کیا۔ اگر ایسا تھا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ اسے شہر کا نام یاد نہ رہتا۔ بہت سی جگہیں ایسی تھیں جن کو یاد رکھنا اب اس کے لئے ممکن نہیں تھا۔ ماضی کے کچھ حصے معدوم ہوتے جارہے تھے۔ اسے احساس ہوا کہ دریاؤں کے رخ وہ نہ تھے جو کبھی اس کو یاد تھے۔ آخر دنیا دیکھنے کا کیا مقصد تھا جبکہ بالآخر یہ تمام شبیہیں ذہن سے معدوم ہوجانی تھیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: جنگلی کتے !

وہ پرما کی ٹرین کے انتظار میں بیٹھا تھا۔ اس کی فہرست کا سب سے پہلا شہر اس کے ذہن سے بالکل معدوم ہوچکا تھا۔ یہ وہ شہر تھا جہاں وہ پیدا ہوا تھا۔ اس کو احساس ہوا کہ اب اس کے لئے یہ یاد کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا تھا کہ اس کی ماں کیسی تھی۔ اسے یوں لگتا تھا جیسے اس کی ماں کی شبیہ ایک آبی آئینے میں تحریر ہواکر ہوا اور لہروں میں گُھل کر تحلیل ہوتی جارہی ہو۔ لکڑی کی بنچ پر بیٹھا وہ ریل کی پٹریوں کے بیچ اُگی ہوئی خود رَو گھاس کو تکتا رہا۔ اچانک وہ چونک اٹھا۔ اس کی نظروں کے سامنے کیا چیز تھی؟ وہ کیا دیکھ رہا تھا؟ کیا وہ جنگلی گھاس تھی؟ سرکنڈے تھے؟ کیا تھا؟ درختوں، پودوں اور جڑی بوٹیوں کے نام اس کے ذہن سے غائب ہوچکے تھے۔ وہ قطار میں لگے ہوئے سبز پودے کون سے تھے، اس نے خود سے پوچھا۔ اسے لگا کہ وہ کہیں کھوگیا ہے۔ اس نے نظریں اٹھائیں۔ پٹریوں کی دوسری طرف ایک سرکس کا بڑا سا، پھٹا ہوا پوسٹر چسپاں تھا۔ لمحے بھر کے لئے اسے خوشی کا احساس ہوا۔ اسے سرکس دیکھنے کا خیال آیا۔ اتنے سال بعد اسٹیج کے بجائے تماش بینوں کی قطار میں بیٹھ کر سرکس دیکھنے کا خیال کچھ ایسا برا نہ تھا۔ اس نے تاریخ اور مقام دیکھنے کے لئے پوسٹر پر دوبارہ نظر ڈالی، لیکن اس کی نگاہیں پوسٹر پر بنے ہوئے چہرے پر ٹک گئیں۔ سفیدی پھرے ہوئے چہرے کی ایک آنکھ پر کانٹی کا نشان تھا، دوسری آنکھ کے نیچے ایک لکیر تھی۔ وہ مسحور ہوکر چمکتی ہوئی تکونی ٹوپی، پھولی ہوئی ناک اور موٹے موٹے ہونٹوں کو تکنے لگا۔ اس نے دیکھا کہ ہونٹ دو دفعہ ہنسی کی شکل میں کھلے اور بند ہوگئے۔ 
پلیٹ فارم پر سناٹا تھا۔ وہ بنچ پر نیم دراز ہوگیا اور آنکھیں موند لیں۔ جماہی لیتے ہوئے اس نے دائیں بائیں نظر دوڑائی۔ مجھے یہ تک یاد نہیں کہ وہ شہر کیسا تھا جہاں میں پیدا ہوا، اس نے تھک کر سوچا۔ اس کے کانوں میں دروازہ کھلنے کی آہٹ آئی۔ ایک عورت نے گردن نکال کر دروازے سے باہر جھانکا اور دونوں اطراف نظر ڈالی۔ پھر وہ چہرہ غائب ہوگیا۔ جب اسے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی تو اس کا ذہن بالکل خالی تھا۔ اسے یہ بھی یاد نہیں آرہا تھا کہ وہ دروازہ ابھی کھلا تھا، کون اندر گیا تھا، کوئی اندر گیا بھی تھا، یا یہ کہ وہاں کوئی دروازہ تھا بھی یا نہیں۔ 
اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ اسے کیا ہورہا ہے۔ اس کے زہن میں ایک تصویر ابھری: ہرے بھرے بھیگے ہوئے جنگل کے کنارے رُو پہلے آسمان تلے چمکتا ہوا ایک سلیٹی تالاب۔ یہ تصویر اتنی واضح اور صاف تھی کہ اس کی سمجھ نہ آیا کہ یہ منظر اس وقت اس کی نظر کے سامنے تھا یا وہ صرف ایک شبیہ تھی جو اس کے ذہن کے دریچوں میں ابھر آئی تھی۔ پھر اسے یادوں پر قابو نہ رہا۔ ایک ایک کرکے شبیہیں ابھرنے لگیں، جیسے ہوا نکلتے ہوئے غبارے فضا میں بلند ہوتے ہیں۔ غبار میں اَٹا ہوا ہوٹل، سفید ویران دیواریں، کیوبِسٹ فرنیچر۔ اچانک تمام تصویریں غائب ہوگئیں۔ اس کا ذہن یک دم خالی ہوگیا۔ صرف ایک سیاہ مستطیل رہ گیا۔ وہ بھول گیا کہ وہ کون سے شہر جارہا تھا۔ اس نے حیرانی کے عالم میں اِدھر اُدھر دیکھا۔ اسے یاد نہ رہا کہ وہ کون سی جگہ تھی، دونوں اطراف افق میں گم ہوتی ہوئی فولاد کی متوازی پٹریاں کس لئے تھیں۔ جب ٹرین آئی تو وہ پہچان نہ سکا کہ وہ کیا شے تھی۔ نہ وہ اسے کوئی مشین لگی اور نہ کوئی عفریت۔ ان دونوں کے معنی وہ بھول چکا تھا۔ چونکہ اسے یہ بھی یاد نہ رہا تھا کہ خوف کیا ہوتا ہے، اس نے بچنے کی کوئی کوشش بھی نہ کی۔ 
(عالمی ادب کے اردو تراجم)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK