• Mon, 23 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگلی کتے !

Updated: February 23, 2026, 12:28 PM IST | Azmat Iqbal | Mumbai

بیٹے کی ضد نے ماں کی خواہش کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ بیٹا دلّی میں کمپنی کی طرف سے فراہم کئے گئے ایک ہزار اسکوائر فٹ کے فلیٹ میں اپنے پریوار کے ساتھ رہتا تھا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

آج شام چہل قدمی کرتے کرتے وہ پگڈنڈی پر تھوڑا دور نکل گیا۔ سورج اپنی سنہری کرنوں کو سمیٹنے کی تیاری میں تھا۔ اس نے چلنے کی رفتار تھوڑی تیز کردی تاکہ اندھیرا ہونے سے قبل پگڈنڈی سے گزر کر سڑک پر پہنچ جائے جہاں سے اس کا فلیٹ بس سو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ بینک کی نوکری سے ریٹائرمنٹ کے بعد شام کی چہل قدمی اس کا روز کا معمول تھا۔ کبھی کبھی مالینی ساتھ ہوتی۔ جب سے گھٹنوں نے جسم کا بوجھ اٹھانے میں نخرے دکھانے شروع کئے مالینی باہر کم ہی نکلتی۔ گھر کے کام کے علاوہ ٹی وی پر پرانی فلمیں و گیت یا رامائن و مہابھارت دیکھ کر وقت گزارتی۔ کملیش کا بیشتر وقت مطالعے میں گزرتا۔ 
بیٹے کی ضد نے ماں کی خواہش کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ بیٹا دلّی میں کمپنی کی طرف سے فراہم کئے گئے ایک ہزار اسکوائر فٹ کے فلیٹ میں اپنے پریوار کے ساتھ رہتا تھا۔ 
بہو بیٹے کے بارہا اصرار کے بعد بھی دلّی آنے کی بجائے دونوں نے اپنے پرانے فلیٹ ہی میں رہنے کو ترجیح دی۔ وہ جانتا تھا کہ مالینی کے اس فیصلے کے پیچھے کوئی تو وجہ رہی ہوگی۔ 
شہر سے کچھ دوری پر عالیشان بنگلوں ، اونچی اونچی عمارتوں اور لگژریس فلیٹس پر مشتمل آبادی والا یہ پرسکون علاقہ صحت کے لئے اس لئے بھی مفید تھا کہ یہ فضائی و آبی آلودگی سے پاک پرسکون علاقہ تھا۔ 
نوکری لگنے کے دوسرے ہی سال اس نے فلیٹ اس وقت خریدلیا جب قیمتیں کم ہوا کرتی تھیں ورنہ اب تو ایک مڈل کلاس کے لئے اس علاقے میں گھر خریدنا چاند پر جانے جیسا ہے۔ 
پگڈنڈی پر چلتے ہوئے اسے صرف اپنے قدموں کی آہٹ سنائی دے رہی تھی۔ اچانک اسے نحیف سی آواز سنائی دی۔ 
’’میاؤں ‘‘، اس نے رک کر دائیں بائیں دیکھا۔ آواز دوبارہ سنائی دی۔ آواز پیچھے کی جانب سے آرہی تھی۔ واپس پلٹ کر کچھ قدم چلنے کے بعد آواز قریب سنائی دی۔ قریب جھاڑی سے ایک چھوٹا سفید رنگ کا، نیلی چمکدار آنکھوں والا بلی کا بچہ باہر آیا۔ سامنے آکر دبک کر ٹھہر گیا اور خوفزدہ نظروں سے اس کی جانب دیکھنے لگا۔ 
وہ یوں تو بڑا ہمت والا تھا مگر کتے بلیوں اور یہاں تک کہ چھپکلی اور جھینگر دیکھ کر اچھلنے لگتا۔ مالینی اس کی اس عادت پر کبھی غصہ ہوجاتی تو کبھی بے تحاشہ ہنس پڑتی۔ ’’میاؤں میاؤں ‘‘، بچے کی کمزور سی آواز بھی پرسکون ماحول میں کافی دور سے سنی جا سکتی تھی۔ 
بچہ شاید اپنی ماں سے بچھڑ گیا ہو۔ کسی بھی وقت کسی جنگلی کتے کا شکار بن سکتا ہے۔ یہ سوچ کر وہ سہم سا گیا۔ مجھے کیا کرنا چاہئے ؟ مالینی ہوتی تو کیا کرتی ؟وہ سوچنے لگا۔ وہ یقینا اب تک اس بچے کو اپنی گود میں اٹھا چکی ہوتی۔ اسے جنگلی کتوں کا نوالہ کبھی نہیں بننے دیتی۔ 
ہمت کرکے آگے بڑھا اور پچکارتے ہوئے بچے کی طرف اپنے ہاتھ بڑھائے۔ بغیر کوئی مزاحمت کئے بچہ اپنی جگہ دبک کر بیٹھا رہا۔ 
 جب اس نے اپنے ہاتھوں میں بچے کو پکڑ کر اٹھایا تو لگا کوئی ریشم کا کپڑا ہو۔ بالکل ہلکا، نرم و ملائم۔ امید کے مطابق مالینی اس پیاری سی مخلوق کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ 
 ’’ تم نے زندگی میں پہلی بار کوئی اچھا اور نیک کام کیا ہے۔ ‘‘مالینی نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا۔ 
 بلی کا بچہ پریوار کا حصہ بن گیا۔ چند روز ہی میں کافی صحت مند ہو گیا۔ مالینی کا وقت اس کے ساتھ کھیلنے اور اسے کھلانے پلانے میں گزر جاتا۔ ’’چنٹو یہاں آؤ، چنٹو میز سے اتر جاؤ، چنٹو سو سو کے لئے باتھ روم جایا کرو، چنٹو دودھ پی لو۔ ‘‘ بس چنٹو چنٹو اور چنٹو۔ 
اب تو گھٹنوں کا درد بھی غائب ہوگیا۔ سانس پھولنا کم ہوگئی۔ مالینی کا یہ روپ اس نے اس وقت دیکھا تھا جب شادی کے سات سال بعد بھگوان نے ان کے جیون کے آکاش کو چاند سے روشن کر دیا تھا۔ 
وہ خوش تھا، مطمئن تھا کہ چنٹو کی جان بچا کر اس نے ایک پنیہ کمایا اور بدلے میں مالینی کی طبیعت سے بے فکری ہوگئی۔ تین مہینے کے عرصے ہی میں چنٹو کسی پہلوان کی طرح لحیم شحیم ہو گیا۔ گول مٹول۔ اچھل کود، دوڑ بھاگ کرتا۔ کبھی کبھی دروازہ کھلا دیکھ باہر نکل جاتا اور پاس پڑوس کے فلیٹس میں موقع دیکھ گھس جاتا۔ 
بلڈنگ میں اکثر پڑھے لکھے، بڑی نوکریوں اور عہدوں پر فائز لوگ رہا کرتے تھے۔ اس طرح کی سوسائٹیوں میں ماں باپ کے پاس اپنے بچوں کو دینے کے لئے وقت نہیں ہوتا، جانور کے بچے کو کیا برداشت کرتے۔ چنٹو کو لے کر پڑوسیوں سے شکایت آنے لگی۔ 
مالینی اس بات کا خاص خیال رکھتی کہ چنٹو دروازے سے باہر نہ جانے پائے۔ مگر چنٹو بھی بہت شرارتی ہو گیا تھا۔ کچن کی گیلری سے چڑھ کر پڑوس کے فلیٹس میں داخل ہو جاتا۔ 
’’انا تمہارا شکایت ہے سوسائٹی کے لوگوں کی طرف سے۔ تم جو جانور گھر میں رکھا ہے اس کی وجہ سے دوسرے لوگو کو تکلیف ہو را ہے۔ تم سے ہمارا رِکویسٹ ہے کہ اس پلے کو کدھر دوسری طرف چھوڑ دو۔ ‘‘سوسائٹی کے سکریٹری نے بلا کر اس سے کہا۔ ’’سوری سر ! آگے سے ایسا نئی ہوگا ہم دھیان دینگے۔ ‘‘
کسی طرح سیکریٹری کو اس نے مطمئن کیا۔ وہ جانتا تھا کہ چنٹو مالینی کے لئے ضروری ہو چکا ہے۔ پھر دوسری، تیسری اور بار بار شکایت آنے لگی۔ چنٹو تھا کہ شرارت سے باز نہیں آتا۔ ایک بار توپڑوسی فلیٹ کے لوگ چیخ پکار کرنے لگے۔ ’’ہمارا بچہ لوگ باہر آنے سے ڈرنے لگے ہیں۔ اوپر سے کسی بھی فلیٹ میں گھس آتا ہے یہ پلا۔ گندگی بھی پھیلا رہا ہے۔ 
یا تو پلے کو کدھر چھوڑ کر آؤ یا تواس کو ساتھ لے کر کدھر شفٹ ہو جاؤ۔ ‘‘اب اس مسئلے کو لے کر وہ فکر مند ہوگیا اور مالینی پریشان۔ 
’’ٹینشن مت لو میں کوئی حل نکا لونگا۔ ‘‘اس نے مالینی کو تسلی دی۔ اس روز مال سے کرانہ لے کر گھر واپس آیا تو مالینی نے تقریبا روتے ہوئے بتایا۔ ’’ایک گھنٹے سے چنٹو لاپتہ ہو گیا ہے۔ آس پاس کے فلیٹ میں بھی جا کر پوچھا۔ کہیں نہیں ملا۔ ‘‘
اس نے خود دوبارہ جاکر تمام فلور پر تلاش کیا۔ سبھی سے پوچھا، ٹیرس پر، پارکنگ میں، نیچے گارڈن میں سب جگہ تلاش کیا۔ 
’’کہاں چلا گیا میرا چنٹو؟‘‘مالینی کی آواز کے کرب کو وہ محسوس کر سکتا تھا۔ اسے اس بات کی زیادہ فکر تھی کہ چنٹو سے جدائی مالینی کی صحت پر برا اثر ڈالے گی۔ پوری رات مالینی نے روتے ہوئے گزار دی۔ 
فلیٹ کا دروازہ بھی کھلا رکھا کہ کسی پل چنٹو واپس آجائے۔ ایسے میں وہ بھی کیسے سو پاتا۔ صبح ہوتے ہی مالینی نے کہا۔ ’’ چلو نیچے گارڈن میں تلاش کرتے ہیں۔ ‘‘لفٹ سے نکل کر پہلے پارکنگ اور پھر گارڈن میں گھوم گھوم کر وہ چنٹو کو تلاش کرتے رہے۔ ’’چنٹو ! چنٹو ! بیٹے کہاں ہو تم؟‘‘ مالینی آواز دیتی رہی۔ گیٹ کے قریب پہنچنے پر کچرا کنڈی کے پاس ایک چھوٹا تھیلا رسی سے بندھا پڑا دکھائی دیا۔ 
مالینی نے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’ وہ کیا ہے؟‘‘ ’’کچھ نہیں کسی نے کچرا بھر کر پھینکا ہوگا۔ ‘‘مالینی جواب سنے بغیر تھیلے تک پہنچ گئی۔ مشقت سے تھیلے پر لگی گانٹھ کھولنے لگی۔ اور جب گانٹھ کھلی وہ زور سے چیخی۔ ما لینی کی وہ آخری چیخ تھی جو اس نے سنی۔ اس کے بعد وہ بے ہوش ہوگئی۔ ہاسپیٹل میں دوبارہ ہوش میں آنے کے بعد وہ کبھی بول نہیں سکی۔ وہ اسے اپنے بیٹے کے پاس دلّی لے آیا۔ علاج میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ لیکن .....
مالینی کی گزر جانے کے بعد وہ واپس اسی فلیٹ میں آکر رہنےلگا ہے۔ روزانہ شام کو چہل قدمی کرتے ہوئے اسی پگڈنڈی سے گزرتا ہے۔ جب کبھی زیادہ دور نکل جاتا اور واپسی میں شام ہو جاتی ہے تو اسے درد بھری، کمزور آواز سنائی دیتی ہے۔ ’’ میاؤں میاؤں۔ ‘‘اور ہر دفع وہ بغیر رُکے تیز قدموں سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK