Inquilab Logo Happiest Places to Work

والدین، ازواج اور اولاد پر مال خرچ کرنا فرائض اور ذمہ داریوں میں شامل ہے

Updated: February 28, 2020, 11:29 AM IST | Dr. Hasanuddin Ahmed

آیت البرّ کے دوسرے جزومیں اللہ تعالیٰ نے جن چند لوگوں پر مال خرچ کرنے کا تذکرہ کیا ہے وہ بالترتیب یہ ہیں: قرابت دار ، یتیم، مسکین، مسافر، فقیر اور غلام۔ ہم اسی ترتیب سے ان کے حقوق اور ان پر مال خرچ کرنے کی اہمیت کا مطالعہ کریں گے ۔

اپنے اہل و عیال پر بھی خرچ کرناضروری ہے۔ تصویر : آئی این این
اپنے اہل و عیال پر بھی خرچ کرناضروری ہے۔ تصویر : آئی این این

 آیت البرّ کے دوسرے جز و میں اللہ تعالیٰ نے جن چند لوگوں پر مال خرچ کرنے کا تذکرہ کیا ہے وہ بالترتیب یہ ہیں: قرابت دار ، یتیم، مسکین، مسافر، فقیر اور غلام۔ ہم اسی ترتیب سے ان کے حقوق اور ان پر مال خرچ کرنے کی اہمیت کا مطالعہ کریں گے ۔ لیکن یہ بات سمجھ لی جائے کہ ان کے علاوہ اور بھی اللہ کے بندے ہیں جن پر وہ مناسب جگہوں پر مال خرچ کرنے کی تلقین کرتا ہے ۔ جیسے سورۂ نساء کی آیت نمبر ۳۶؍ میں ہمسایوں اور ہم نشینوں کا بھی تذکرہ ہے۔ اسی طرح سورۂ دہر کی آیت نمبر ۸؍ میں قیدی کا بھی تذکرہ ہے۔ سورۂ حدید کی آیت نمبر ۱۰؍ میں مجاہدین فی سبیل اللہ اور سورۂ بقرہ کی آیت نمبر ۲۷۳؍ میں اللہ کی راہ میں مصروف ضرورت مندوں وغیرہ کا بھی ذکر ہے۔ 
قرابت داروں پر خرچ
  اللہ نے فرمایا : ذوی القربیٰ : اس سے مراد قرابت دار ہیں۔ قرابت دار میں والدین، بیوی، شوہر، اولاد، دادا ، دادی ، نانا ، نانی، ماں ، باپ کے بھائی ، بہن اور ان کی اولادیں وغیرہ سب  ہی شامل ہیں۔ اللہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارے حسن سلوک یعنی انفاق کے لئے ہمارے اولوالارحام  ، یعنی اقرباء،  دوسرے تمام مومنین اور مہاجرین کے مقابلے میں فوقیت رکھتے ہیں: ’’کتاب اللہ کی رو سے عام مومنین و مہاجرین کی بہ نسبت رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، البتہ اپنے رفیقوں کے ساتھ تم کوئی بھلائی (کرنا چاہو تو) کر سکتے ہو۔‘‘ (الاحزاب:۶)والدین، ازواج اور اولاد پر مال خرچ کرنا فرائض اور ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ ان کے ساتھ حسن سلوک اوران کے حقوق ایسے  موضوعات ہیں جن پر طویل مقالے لکھے جاسکتے ہیں۔
والدین پر خرچ
 اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر جہاں بھی اپنی عبادت کا حکم دیا ہے وہاں  فوراً بعد ہی والدین کے ساتھ حسن سلوک کا بھی حکم دیا ہے ، مثلاً :’’اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو۔‘‘ (النساء:۳۶) والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ ہماری توجہ ان کے احسانات کی طرف بار بار دلاتا ہے کہ کس طرح تکالیف اٹھا کر انہوں نے ہماری پرورش اور تربیت کی ہے، مثلاً ایک جگہ فرمایا:’’اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے اُس کی ماں نے ضعف پر ضعف اُٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اُس کا دودھ چھوٹنے میں لگے (اِسی لیے ہم نے اُس کو نصیحت کی کہ) میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجا لا، میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے ۔‘‘ (لقمان:۱۴) اس آیت سے معلوم ہوا کہ دراصل والدین کی ضروریات ِ زندگی پر مال خرچ کرنے کو اللہ نے انفاق نہیں بلکہ ان کے احسانات کا اظہارِ شکر قرار دیا ہے۔ ایک حدیث کے مطابق بھی سب سے اچھا عمل اللہ کی بندگی اختیار کرنا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا ہے اور اس کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے۔ اسلام کی نظر میں والدین کا مقام یہ ہے کہ نہ صرف دنیا میں ان کے ساتھ سب سے بڑھ کر نیکی کی جائے بلکہ ان کے مرنے کے بعد بھی ان کے حقوق باقی رہتے ہیں۔  اولاد کے لئے ضروری ہے کہ ان کے حقوق کو پورا کرے۔ بعد از موت بھی والدین کے جو حقوق باقی رہتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے لئے دعائے مغفرت کی جاتی رہے اور اس کے لئے اس سے اچھی دعا اور کیا ہوگی جو اللہ نے خود سکھائی ہے: ’’پروردگار، ان پر رحم فرما  جس طرح انہوں نے رحمت اور شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا۔‘‘بنی اسرائیل:۲۴
اہل و عیال پر خرچ
  اللہ تعالیٰ نے عورتوں پر خواہ وہ بیوی ہو یا بیوہ یا مطلقہ ہو،  مال خرچ کرنے کی تلقین کی ہے۔ بیوی پر خرچ کرنا تو فرض ہے جیسا کہ اللہ پاک کا حکم ہے:  ’’ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔‘‘ (النساء:۱۹)ایک حدیث کے مطابق رسولؐ اللہ نے بھی مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ جو کھائیں وہی اپنی بیویوں کو بھی کھلائیں اور جو پہنیں ویسا ہی اپنی بیویوں کو بھی پہنائیں۔ ایک اور حدیث کے مطابق جو لقمہ بھی کوئی شوہر اپنی بیوی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کھلاتا ہے وہ صدقہ ہے۔ اسی طرح شوہر کی وراثت میں بیوہ کو حصہ دیا جانا بھی فریضہ ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے سورہ نساء:۱۲) ایک متفق علیہ حدیث کے مطابق بیواؤں اور مسکینوں کے لئے دورڑ دھوپ کرنے والا مجاہد فی سبیل اللہ کے مانند ہے۔ مطلقہ عورتوں کے لئے فرمایا کہ متقیوں کے مال میں ان کا بھی حق ہے ، یعنی طلاق دے کر خالی ہاتھ ان کو میکے نہ بھیجا جائے بلکہ کچھ مال دے کر رخصت کیا جائے :’’اِسی طرح جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، انہیں بھی مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے یہ حق ہے متقی لوگوں پر ۔‘‘
 ایسی عورتوں کو سہارا دینے کے لئے جن کا کوئی ولی یا مددگار نہ ہو، ایک دارالامان کا تصور سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے دیا جب آپؐ نے ایک خاتون کو اپنی عدت حضرت ابن ام مکتومؓ کے گھر گزارنے کا حکم دیا۔ جاہلیت کے زمانے میں عرب کے لوگ ہمہ و قت جنگجویانہ  زندگی بسر کرتے تھے۔ لڑکے جنگ میں ان کے لئے قوت کا باعث تھے جب کہ وہ لڑکیوں کو اپنے  لئے کمزوری سمجھتے تھے اور اسی خوف سے لڑکیوں کو زندہ درگور کردیا کرتے تھے۔  اللہ نے لوگوں کو اس قتل سے منع کیا اور ان کو بتایا کہ اللہ جب انہیں رزق دے رہا ہے تو اولاد کے پیدا ہونے پر وہ انہیں بھی ضرور بہ ضرور رزق دے گا۔ اس کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ  والدین کو جو رزق ملتا ہے اس میں اولاد کا حصہ بھی ہے جو ان پر خرچ ہونا چاہئے
 ’’اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی۔‘‘ بنی اسرائیل:۳۱
  ایک حدیث کے مطابق صدقے کا وہ دینار سب سے اچھا ہے جو اپنی اولاد پر خرچ کیا جائے۔ 
رشتے داروں پر خرچ
  اسلام کی دعوت کا ایک اہم نکتہ صلہ رحمی کی تبلیغ بھی ہے۔ رسولؐ اللہ نے جب قیصر روم کو ایک خط کے ذریعے اسلام کی دعوت دی تو اس نے حضرت ابوسفیانؓ کو بلایا جو اس وقت اس کے شہر میں تجارت کی غرض سے موجود تھے۔ ان سے قیصر نے پوچھا کہ رسولؐ اللہ کس بات کی تبلیغ کرتے ہیں؟ انہوں نے بتایا: وہ کہتے ہیں کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ شرک نہ کرو، نماز قائم کرو، سچائی اختیار کرو اور صلہ رحمی کرو۔‘‘ اقربا پر مال کس طرح خرچ کیا جائے؟ اس کی چند مثالیں ہمیں رسولؐ اللہ کی تعلیمات سے ملتی ہیں۔ ایک حدیث کے مطابق آپؐ نے حضرت اسماء بنت ابوبکر کو ہدایت فرمائی کہ وہ اپنی مشرکہ ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں۔ ایک اور حدیث کے مطابق آپؐ نے حضرت عمرؓ کو ہدایت کی کہ وہ ایک ریشمی قمیص جو خود نہیں پہن سکتے تھے، اپنے مشرک بھائی کو تحفتاً دے دیں۔ ایک تیسری حدیث کے مطابق آپؐ نے حضرت ابوطلحہؓ کا باغ صدقے میں لینے سے انکار کیا اور ان سے فرمایا کہ وہ اس باغ کے پھل میں اپنے عم زاد کو بھی شریک کریں۔ پہلی دونوں احادیث سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اقرباء کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے وقت یہ نہ دیکھنا چاہئے کہ ان کا کردار یا مذہب کیا ہے۔ انفاق سے کسی کی اصلاح مقصود نہیں بلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے، ہدایت دینا نہ دینا تو اللہ کا کام ہے: البقرہ : ۲۷۲
یتیموں پر خرچ
 اقرباء پر مال خرچ کرنے کی تلقین کے بعد اللہ ہماری توجہ یتامیٰ پر مال خرچ کرنے کی طرف دلاتا ہے۔ یتامیٰ جمع ہے یتیم کی۔یتامیٰ وہ نابالغ بچے ہیں جن کے باپ انتقال کرگئے ہوں۔ اس طرح نہ صرف یہ کہ یہ بچے مال کے اس ذریعے سے محروم ہوجاتے ہیں جو فطر ی طور پر ان کی ضروریاتِ زندگی کو پورا کرتا تھا بلکہ وہ باپ کی شفقت اور تربیت سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔ اس طرح وہ مکمل طور پر معاشر ے کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ اب اگر معاشرہ ان کی صحیح پرورش اور نگہداشت نہ کرے تو یا تو وہ اپنی جان کھو بیٹھتے ہیں یا پھر معاشرے میں غیرصالح عنصر بن کر ابھرتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسولؐ نے خاص طور پر ان یتیموں کی پرورش اور تربیت پر مال خرچ کرنے اور ان کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آنے کی تلقین کی ہے۔ 
 اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔‘‘ (الدھر:۸)اور ان کے  ساتھ سختی کا برتاؤ نہیں کرتے : ’’لہٰذا یتیم پر سختی نہ کرو ۔‘‘  (الضحیٰ:۹)اور جو ان کی مدد کرنے کے بجائے ان کو دھتکارتے ہیں وہ اپنے دین و ایمان کی نفی کرتے ہیں: ’’تم نے دیکھا اُس شخص کو جو آخرت کی جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے؟ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا دینے پر نہیں ابھارتا۔‘‘  (الماعون: ۱؍تا۳) اور جو ان کے اچھے مال کو اپنے خراب مال سے بدل دیتے ہیں یا ان کا مال زبردستی ہڑپ کرلیتے ہیں یا اور دوسرے ناجائز طریقوں سے یتیموں کا مال کھاتے ہیںوغیرہ، دراصل وہ خود کو ایک بھڑکتی آگ میں ڈالے جانے کا سامان کرتے ہیں: ’’جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں در حقیقت وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں اور وہ ضرور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے ۔‘‘ (النساء:۱۰)احادیث میں بھی یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم ملتی ہے۔ ایک حدیث کے مطابق مسلمانوں کے گھروں میں بہترین گھر وہ ہے جہاں کوئی یتیم ہو اور اس کی اچھی پرورش ہورہی ہو ۔ اس کے برعکس مسلمانوں کے گھروں میں بدترین گھر وہ ہے جہاں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ بدسلوکی کی جارہی ہو۔
مضمون کا تیسرا اور آخری حصہ آئندہ ہفتے ملاحظہ فرمائیے جس میں  مساکین  ، مسافروں،  مدد کیلئے ہاتھ پھیلانے والوں اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کی بابت بیان کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK