سری لنکا:راج کرے گی خلقِ خدا

Updated: July 20, 2022, 11:11 AM IST | Pravez Hafeez | Mumbai

سری لنکا کے معاشی اور سیاسی بحران سے ایک بار پھریہ ثابت ہوگیا کہ عوام اگر صف آرا ہوجائیں تو جابر حکمرانوں کے محلوں کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔ پچھلے سو دنوں سے سری لنکا کے عوام صدر کے استعفے کے لئے مظاہرے کررہے تھے۔۹؍ جولائی کو مظاہرین نے ان کے قصر شاہی پر چڑھائی کرکے قبضہ کرلیا۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 جنہیں کبھی یہ گمان تھا کہ سورج ان کا چہرہ دیکھ کر ہی طلوع ہوتاہے انہیں رات کے اندھیرے میں منہ چھپاکر ملک سے فرار ہونا پڑا۔ جو کل تک شاہی محل کے مکین تھے وہ مفرور مجرموں کی طرح جان بچانے کیلئے ایک ملک سے دوسرے ملک کی خاک چھان رہے ہیں۔ سری لنکا کے عوام کی آخر کار جیت ہوئی: صدر گوٹابایا راجاپکشے نے جمعرات کو استعفیٰ دے دیا۔ گوٹابایا سمجھ نہیں پارہے ہیں کہ جو عوام کل تک ان کی پرستش کرتے تھے وہ آج ان کے خون کے پیاسے کیسے ہوگئے۔  ہندی کے انقلابی شاعر رامدھاری سنگھ دنکر نے بہت پہلے تاناشاہوں کو یہ وارننگ دے دی تھی:’’سنگھاسن خالی کروکہ جنتا آتی ہے۔‘‘اچھا ہوا دیر سے ہی صحیح گوٹابایا نے زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھ کر سنگھاسن خالی کردیا ورنہ عوام کے تیوروں سے لگ رہا تھا کہ اگر انہوں نے اقتدار نہیں چھوڑا تو وہ انہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ سری لنکا کے معاشی اور سیاسی بحران سے ایک بار پھریہ ثابت ہوگیا کہ عوام اگر صف آرا ہوجائیں تو جابر حکمرانوں کے محلوں کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔ پچھلے سو دنوں سے سری لنکا کے عوام صدر کے استعفے کے لئے مظاہرے کررہے تھے۔۹؍ جولائی کو مظاہرین نے ان کے قصر شاہی پر چڑھائی کرکے قبضہ کرلیا اور گوٹابایا کو پہلے مالدیپ اور پھر سنگاپور بھاگنا پڑا۔  گوٹابایا نے’’ پھوٹ ڈالواور حکومت کرو‘‘کی پالیسی اپناکر پندرہ برسوں میں پورے ملک کو نسلی اور مذہبی خطوط پر پولرائز کردیا لیکن مصائب اور مفلسی نے تفریق و تعصبات کی دیواریں گرادیں۔ خوراک اور ایندھن کی قلت، ضروری اشیا کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور بجلی، گیس اور دواؤں کی عدم موجودگی نے ملک کے ہر شہری کو یکساں طور پر متاثر کیا۔ اس لئے پوری سول سوسائٹی متحد ہوکر گوٹابایا اور راجاپکشے خاندان کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے سڑکوں پر اتر آئی۔ گوٹابایا سے پہلے ان کے بڑے بھائی مہندا راج پکشے۲۰۰۵؍ سے ۲۰۱۵ء تک ملک کے صد ر تھے۔ انہوں نے گوٹابایا کو ڈیفنس سیکریٹری بناکر تمل ٹائیگرزسے نپٹنے کی ذمہ داری انہیں سونپ دی۔ طویل جدوجہد کے بعد ۲۰۰۹ء میں سری لنکن آرمی نے ایل ٹی ٹی ای کا قلع قمع کردیا لیکن اس کا پورا کریڈٹ گوٹابایا کو مل گیا۔تمل دہشت گردوں سے مقابلہ آرائی کے نام پر گوٹابایا نے بے گناہ تمل شہریوں کا قتل عام کروایا۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ۴۰؍ہزار تمل شہری مارے گئے۔ اس قتل و غارتگری کے بعد گوٹابایا کاایک مضبوط لیڈرکا امیج بن گیااور وہ سنہالی اکثریت کے قومی ہیرو بن گئے۔ دس برسوں میں راجاپکشے خاندان ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بن گیا۔ وہ اقربا پروری اور کرپشن کا ارتکاب کرنے لگے۔ ان کے غلط فیصلوں سے ملک کی معیشت زوال پذیر ہوتی چلی گئی۔ اپنی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی خاطر راجا پکشے خاندان پھر زور شور سے نسل پرستی اور مذہبی منافرت کا کارڈ کھیلنے لگا۔ تمل ہندوؤں پر استبداد ڈھانے کے بعد انہوں نے مسلمانوں اور عیسائیوں کو نشانہ بنایا۔ گارجین کے مطابق مہندا اور گوٹابایا  نے ۲۰۱۰ء  کے بعد سری لنکا کو’’متعفن نسل پرستانہ ریاست‘‘ میں تبدیل کر دیااور سنہالی بودھ بھکشوؤں کونہتے اقلیتوں کو ہراساں کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی۔  ۷۰؍ فیصد سری لنکن آبادی بودھ ہے اس کے باوجودانتہاپسند بھکشوؤں نے ’’بودھ دھرم، ثقافت اور اقدار خطرے میں ہیں‘‘  کا بے بنیاد ہوا کھڑا کر کے ۲۰۱۲ء میں’’بودو بالا سینا‘‘ نام کی ایک عسکریت پسند تنظیم بنالی جس کامقصد ہی مسلمانوں کونشانہ بنانا تھا۔ اس تنظیم کو راجاپکشے حکومت کی مکمل حمایت اور سرپرستی حاصل تھی۔ سینا نے گودی میڈیا کی مدد سے مسلمانوں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرکے ان پر ملک دشمنی کا لیبل چپکا دیا۔یہ جعلی پرچارکیا گیا کہ مسلمانوں کی آبادی اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ بہت جلد بودھ اقلیت میں رہ جائیں گے۔مسلمانوں پر کورونا کا وائرس پھیلانے کا الزام بھی لگایا گیااور مساجد اورمسلم املاک پر حملے کئے گئے۔مذہبی نفرت کی اس مہم کواپریل ۲۰۱۹ء  میں کافی تقویت ملی جب عیسائیوں کے تہوار ایسٹر سنڈے کے دن متعدد گرجاگھروں اورفائیو اسٹار ہوٹلوں میں ہوئے خود کش بم دھماکوں میں ۲۷۰؍ لوگ مارے گئے  ان حملوں کے بعد گوٹابایانے اعلان کردیا کہ انہوں نے جیسے تمل دہشت گردی کا صفایا کیا تھا اسی طرح اسلامی دہشت گردی کا نام و نشان مٹادیں گے۔ اس عہد کے ساتھ انہوں نے صدارتی انتخاب میں حصہ لیا اور فتح حاصل کی۔
 ۲۰۱۹ء  میں صدارتی انتخابات میں بھاری جیت کے بعد گوٹابایا نے کھل کر سنہالی قوم پرستی اور بودھ شدت پسندی کا کارڈ کھیلنا شروع کردیا۔ دو کروڑ بیس لاکھ کی آبادی والے ملک میں مسلمانوں کی تعداد بیس لاکھ ہے جن کی زندگی پچھلے تین برسوں میں مزید اجیرن کردی گئی۔ حلال گوشت اوربرقعے پر ہی نہیں مسلمانوں کی میتوں کی تدفین پر بھی پابندی لگادی گئی۔ گوٹابایا نے ’’ایک ملک ایک قانون‘‘کا شوشہ بھی چھوڑا جس کا اصلی مقصد مسلمانوں کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو ختم کرنا تھا۔  سری لنکا کے اقتصادی بحران کے اسباب کا تفصیلی تجزیہ میں’’سونے کی لنکا کس نے ڈھادی؟‘‘ (انقلاب ۳۰؍مارچ) میں کر چکا ہوں۔مہندا اور گوٹابایا جیسے نااہل اور متعصب حکمرانوں کی تباہ کن اقتصادی پالیسیوں، بے تحاشہ بیرونی قرضوں اور نسلی اور مذہبی منافرت کی سیاست نے اس جزیرہ کا بیڑہ غر ق کردیا۔ رہی سہی کسر کورونا،لاک ڈاؤن اور یوکرین کی جنگ نے پوری کردی۔سری لنکا کی معیشت کا پورا انحصار سیاحت اور چائے کے ایکسپورٹ کی آمدنی پر ہے اوریہ دونوں صنعتیں پوری طرح زمین بوس ہوچکی ہیں۔ کبھی سونے کی لنکا کہلانے والے ملک میں لوگ آج دانے دانے کو محتاج ہیں۔  جارح سنہالی قوم پرستی کے تمام حربے اپنانے کے باوجود راجاپکشے حکومت بھی عوام کے غیظ و غضب سے محفوظ نہیں رہ سکی۔ وزیر اعظم مہندا اور وزیر خزانہ باسل راجاپکشے استعفیٰ دے چکے تھے۔ گوٹابایا کو بھی استعفیٰ دینا ہی پڑا۔ وزیر اعظم اور عبوری صدر رانیل وکرماسنگھے کے گھر کو نذر آتش کیا جاچکا ہے اور ان کے استعفے کا مطالبہ جاری ہے۔ سری لنکا کے موجودہ بحران سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا ہے کہ نفرت کے سوداگر تانا شاہ کتنے ہی ناقابل تسخیر کیوں نہ لگتے ہوں عوامی مزاحمت کے سامنے انہیں ایک دن شکست تسلیم کرنا پڑتی ہے۔پس نوشت: میرا یہ مضمون مکمل طور پرسری لنکا کے متعلق ہے۔ اسے پڑھتے وقت اگرکوئی مشابہت محسوس ہو تو اس کے لئے مضمون نگار ذمہ دار نہیں ہے۔

sri lanka Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK