• Sun, 20 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

قصہ تعلیم کے گونجنے کا، عنوان بننے کا!

Updated: September 20, 2026, 2:23 PM IST | Mumbai

اب بھی وہی کیفیت ہے۔ ایک طرف ’’چھاتروں کی گونج‘‘ کے تحت راہل کے سلسلہ وار جلسے بھی جاری ہیں اور دوسری طرف کاکروچ جنتا پارٹی کی ’’اسکول ٹھیک کرو‘‘ مہم بھی جاری ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

طلبہ کو ساتھ لے کر چلنے، اُن کے مسائل کو سمجھنے، پرچہ لیک کے خلاف آواز اُٹھانے اور شعبۂ تعلیم کی بے ضابطگیوں کو مدعا بنانے کی ابتداء راہل گاندھی نے کی تھی جو لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں۔ اس کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی اچانک میدانِ عمل میں آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے میدان مار لیا۔ نئی نسل کی اس مہم کو، جو جنتر منتر پر جاری ہوئی تھی، ابتداء میں راہل گاندھی کی مہم کے خلاف ایک متوازی تحریک کے طور پر دیکھا جارہا تھا۔ خود ہمیں ’ کاکروچوں ‘ کی مہم سے شکایت تھی مگر جب کوئی کام بھلائی کیلئے کیا جاتا ہے تو اس میں برکت ہوتی ہے۔ اس معاملے میں برکت اس طرح ہوئی کہ راہل کی مہم اور جنتر منتر کی مہم ایک دوسرے کے معاون بن گئے۔ جہاں تک ہمیں یاد ہے جنتر منتر کا احتجاج جاری ہی تھا تب کوٹا (۱۷؍ جون) اور دہرادون (۱۷؍ جولائی) میں ’چھاتروں کی گونج‘ کے تحت راہل کے جلسے منعقد ہوئے تھے۔ چونکہ دونوں کے مقاصد طلبہ سے وابستہ تھے، شرکاء بھی طلبہ تھے اور لاکھوں کی تعداد میں ان سے آن لائن ’’کنیکٹ‘‘بھی طلبہ ہی ہورہے تھے اس لئے متوازی ہونے کے باوجود ایک مہم دوسری کی مدمقابل نہیں بنی، فائدہ پہنچانے والی بن گئی۔ اس دوران کاکروچ جنتا پارٹی نے اس شک و شبہ کو بھی دور کردیا جو اُس کے تعلق سے لاحق ہوا تھا کہ اس کے لیڈران عام آدمی پارٹی کی ایماء پر کام کررہے ہیں جس سے ابھیجیت دیپکے وابستہ رہ چکے تھے۔ 
اب بھی وہی کیفیت ہے۔ ایک طرف ’’چھاتروں کی گونج‘‘ کے تحت راہل کے سلسلہ وار جلسے بھی جاری ہیں اور دوسری طرف کاکروچ جنتا پارٹی کی ’’اسکول ٹھیک کرو‘‘ مہم بھی جاری ہے۔ اس دوران ایک تیسرا زاویہ بھی پیدا ہوا۔ جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کرنے والے طلبہ میں شامل باصلاحیت اور بے خوف طالبہ نیہا بورا نے ایک مہم ’’جین زی رائزنگ‘‘ شروع کی جس کے تحت مختلف شہروں میں تعلیمی مسائل اُجاگر کرنے والے گروپوں سے اظہار یکجہتی ہی نہیں کی گئی، ہر شہر میں نیہا بورا کی دھواں دھار تقریر نے طلبہ کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کی۔ اِن دنوں اُن کے جلسے اُترپردیش کے مختلف شہروں میں جاری ہیں۔ معلوم ہوا کہ تعلیم کے عنوان پر جو ماحول راہل کی ریلیوں اور جنتر منتر کی ’اٹکھیلیوں ‘ سے تیار ہوا تھا، چند ہفتوں میں سمٹ کر نہیں رہ گیا بلکہ اس کے اثرات نہ صرف یہ کہ باقی ہیں بلکہ مستحکم ہورہے ہیں۔ گزشتہ روز اندور میں ’’چھاتروں کی گونج‘‘ کو زبردست کامیابی ملی۔ اس مہم کے تعلق سے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ پہلی ریلی جو کوٹا میں منعقد کی گئی تھی، کامیاب تو وہ بھی تھی مگر جیسے جیسے یہ ’’گونج‘‘ آگے بڑھ رہی ہے، کامیابی شہر بہ شہر نیا ریکارڈ قائم کررہی ہے۔ 
راہل چھاتروں کی گونج کو غیر سیاسی کہتے ہیں اور رَیلی کے دوران کوئی سیاسی بات نہیں کرتے (ایک آدھ بات استثنیٰ ہوسکتی ہے) اسکے باوجود اُنہیں جو سیاسی فائدہ مل رہا ہے ناقابل انکار ہے۔ طلبہ، نوعمروں اور نوجوانوں میں اُن کی مقبولیت بلند ہورہی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ مہم مکمل غیر سیاسی نہیں مگر غلط بھی نہیں ہے کیونکہ ا س کا عنوان تعلیم ہے اور اچھی بات ہے کہ اس کی پزیرائی ہو رہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK