• Fri, 18 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فٹبال کھلاڑی اور لفافہ: ممتا بنرجی کے کیمپ اور باغیوں کو نیا نام اور نشان الاٹ

Updated: September 18, 2026, 4:11 PM IST | New Delhi

الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے جمعرات۱۷؍ ستمبر کو ممتا بنرجی کے کیمپ اور باغیوں کو نیا نام اور نشان الاٹ کیا گیا؛یہ کارروائی ترنمول کانگریس کے مشہور ’دو پھول اور گھاس‘ کے نشان اور نام کو منجمد کرنے کے۲۴؍ گھنٹوں کے ہنگامہ خیز واقعات کے بعد کی گئی ہے۔

Mamata Banerjee. Photo: INN
ممتا بنرجی ۔ ۔تصویر: آئی این این

’’کھیلا ہو بے ‘‘ انداز میں، الیکشن کمیشن آف انڈیا نے عارضی طور پر اروپ رائے کی قیادت والے گروپ کو ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس نام اور لفافہ کے نشان کے ساتھ الاٹ کیا ہے، جبکہ ممتا بنرجی کے گروپ کو ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس نام فٹبال کھلاڑی کے نشان کے ساتھ الاٹ کیا گیا ہے، یہ عبوری انتظامات اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک کہ پارٹی کی اصل شناخت پر بنیادی ملکیت کے تنازعہ کا حل نہیں نکل جاتا۔واضح رہے کہ یہ الاٹمنٹ۱۷؍ ستمبر کوالیکشن کمیشن کی جانب سے ترنمول کانگریس کے مشہور دو پھول اور گھاس کے نشان اور نام کو منجمد کرنے کے بعد۲۴؍ گھنٹوں کے ہنگامہ خیز واقعات کا اختتام ہے، جس میں ممتا بنرجی دھڑے اور ریتبرتا بنرجی دھڑے دونوں کو نندی گرام اور ریجی نگر میں۶؍ اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں اصل پارٹی کی شناخت استعمال کرنے سے روک دیا گیا تھا، ایسے انتخابات جن کی اہمیت وزن ممتا کے ریاستی حکومت پر۱۵؍ سالہ اقتدار کے بعد بہت زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دوسری پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کیلئے استعفیٰ دینا جمہوریت کا مذاق اڑانے کے مترادف: ہائی کورٹ

جمعہ کی صبح۱۱؍ بجے کی ڈیڈ لائن تک، دونوں خیموں نے کمیشن کو اپنی خواہشات کی فہرستیں جمع کرا دی تھیں۔ ریتبرتا دھڑا، جسے زیادہ تر موجودہ قانون سازوں کی حمایت حاصل ہے، چاہتا تھا کہ اسے جو بھی نام دیا جائے اس میں’’ ترنمول‘‘ کو زندہ رکھا جائے۔ اس کے برعکس ممتا کیمپ نے اپنے نام کو سب سے آگے رکھنے پر زور دیا، اپنے اختیارات میں’’ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس‘‘ کی تجویز کے ساتھ ہی فٹبال کھلاڑی کو اپنے ترجیحی نشان کے طور پر، اور کرکٹ بیٹ کو بیک اپ کے طور پر پیش  کیا۔ بعد ازاں ریتبرتا بنرجی نے، یہ پوسٹ کرتے ہوئے کہ سیاست ایک مستقل جنگ ہے؛ ہر گھنٹے ایک جنگ؛ ہر منٹ ایک جنگ، اس فیصلے کو  آئینی عمل کی توثیق کے طور پر پیش کیا۔ اپوزیشن چیف وہپ اکھروزمان، جو ریتبرتا کے وفادار ہیں، نے کہا کہ ان کا فریق فی الحال حکم کی تعمیل کرے گا ساتھ ہی کہا کہ جب کمیشن اپنا حتمی فیصلہ دے گا تو ہمیں سرکاری اور اصل نام اور نشان ملے گا۔
دوسری طرف، ممتا کے وفادار اور ایم پی کلیان بنرجی نے حکم کو سراسر مسترد کر دیا، اسے قانون کے منافی قرار دیا اور اس میں قانونی خامیوں کا حوالہ دیا جسے انہوں نے اس کی تشکیل میں بیان کیا، جبکہ اگلی صبح تک جواب دینے کا اشارہ دیا۔ ساتھی وفادار کنال گھوش نے زیادہ جارحانہ، تقریباً تھیٹر والا انداز اپنایا، مبینہ طور پر تجویز پیش کی کہ حریف دھڑے کوتکیہ کے نشان کے لیے درخواست دینی چاہیے، جو لفظی طور پرالیکشن کمیشن کی فہرست میں نمبر ۱۱۶؍ پر درج ہے، اور اصرار کیا کہ ممتا کے پاس اب بھی بیک اپ پلان موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مہوا موئترا کوپھر اپنے ہی لوک سبھا حلقہ میں احتجاج کا سامنا، انڈے پھینکے گئے

علاوہ ازیں ذرائع بتاتے ہیں کہ ممتا کیمپ، بشمول ایم پی کلیان بنرجی اور مہوا موئترا نے دہلی میں، اس بات کا اندازہ کرتے ہوئے کہ آیا عدالتی لڑائی ضمنی انتخابات سے پہلے حقیقت میں ریلیف دے سکتی ہے، یا صرف تاخیر کو دعوت دے سکتی ہے ،طویل قانونی مشاورت کی کہ آیاالیکشن کمیشن کے عبوری حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے۔ اس تعطل میں قومی جہت کا اضافہ کرتے ہوئے، کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے مبینہ طور پر جمعرات کی رات دیر گئے ممتا بنرجی کو فون کر کے کہا کہ ترنمول کی شناخت کی لڑائی صرف ان کی نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا مقصد ہے جس کی وسیع تر اپوزیشن حمایت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: شندے سینا سے کہا جاتا کہ وہ اپنا نشان خود منتخب کرے اپنے دم پر لڑے نہ کہ بالا صاحب ٹھاکرے کے نام پر

ذہن نشین رہے کہ دو پھولوں والا نشان۱۹۹۷ء میں کانگریس سے علیحدگی اور یکم جنوری۱۹۹۸ء کو ترنمول کانگریس کے آغاز کے بعد سے ممتا کے سیاسی سفر کی نمائندگی کرتا رہا ہے۔ اٹھائیس سال، کولکاتا میونسپل کارپوریشن کی جیت، سنگور اور نندی گرام تحریکیں، اور بطور وزیر اعلیٰ تین میعادوں کے بعد، وہ نشان اب کم از کم کمیشن کے حتمی فیصلے تک ان کے کنٹرول سے باہر ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK