• Mon, 14 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

راہل گاندھی کی حکمت عملی اور بڑھتی مقبولیت

Updated: September 14, 2026, 5:37 PM IST | Inquilab News Network

چند روز پیشتر معروف اور بزرگ صحافی شروَن گرگ نے ایک یوٹیوب چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کانگریس کے تعلق سے دو بہت اہم باتیں کہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ’’ راہل گاندھی نے عوام کو مودی کے سامنے کھڑا کردیا ہے‘‘۔ آئیے، پہلے اس کا معنی سمجھ لیں۔

Rahul Gandhi. Picture: INN
راہل گاندھی۔ تصویر: آئی این این

چند روز پیشتر معروف اور بزرگ صحافی شروَن گرگ نے ایک یوٹیوب چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کانگریس کے تعلق سے دو بہت اہم باتیں کہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ’’ راہل گاندھی نے عوام کو مودی کے سامنے کھڑا کردیا ہے‘‘۔ آئیے، پہلے اس کا معنی سمجھ لیں۔ پارلیمانی جمہوریت میں اپوزیشن، حکمراں جماعت سے سوال کرتی ہے اور حکمراں جماعت اپوزیشن کو جواب دیتی ہے۔ راہل گاندھی نے بڑی حکمت سے کام لیتے ہوئے وزیر اعظم مودی کو عوام کے اور عوام کو مودی کے روبرو کردیا ہے یعنی عوامی مسائل کچھ اس طرح اُٹھائے کہ ماحول حکومت بمقابلہ عوام یا عوام بمقابلہ حکومت ہوگیا۔ جب طلبہ سوال کرینگے تو حکومت پر لازم ہوگا کہ طلبہ ہی کو جواب دے، وہ اپوزیشن کو جواب نہیں دے سکتی کیونکہ سوال اپوزیشن نے نہیں کیا، طلبہ نے کیا ہے۔ جب کوئی معاملہ حکومت بمقابلہ اپوزیشن ہوتا ہے تو حکومت اپوزیشن کو جواب دے کر ’’فرض‘‘ ادا کردیتی ہے خواہ اس کا جواب بے معنی ہو۔ براہ راست طلبہ یا عوام کے ساتھ ایسا نہیں ہوسکتا۔ اول تو یہ کہ جواب جیسا جواب دینا ہوگا دوئم یہ کہ جو ذریعہ اپوزیشن کو جواب دینے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے وہ طلبہ یا عوام کو جواب دینے کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا ثبوت جنتر منتر سے ملا جہاں طلبہ حکومت سے براہ راست سوال کررہے تھے۔ آپ خود تسلیم کریں گے کہ اگر اس وقت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفےٰ اپوزیشن پارٹیاں طلب کررہی ہوتیں تو کیا اُن کا استعفےٰ ہوتا؟ مگر، طلبہ (عوام) نے مطالبہ کیا اور اس میں شدت پیدا کی تو حکومت کو جھکنا پڑا لہٰذا شری دھرمیندر پردھان کو ’’تیاگ پتر‘‘ دینا ہی پڑا۔ یہ فرق ہے اور بقول شروَن گرگ یہ فرق راہل گاندھی کی اسٹراٹیجی کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ، اہل غزہ اور ایک دستاویزی فلم

دوسری بات جو شروَن گرگ نے کہی یہ تھی کہ فی الحال کانگریس کو تنظیمی ڈھانچہ مضبوط کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ دقت طلب، وقت طلب اور توجہ طلب کام ہے۔ اس میں دو چار سال لگ سکتے ہیں۔ اس لئے راہل گاندھی نے اس کام کو مؤخر کرتے ہوئے براہ راست عوام سے مکالمہ شروع کیا تاکہ عوام کو اعتماد میں لے کر غیر روایتی سیاست کو زیادہ سے زیادہ مؤثر بنایا جائے۔ اس سلسلے میں اُنہوں نے اندرا گاندھی کے دور کی مثال دی کہ جب پارٹی میں ایک دوسرا گروہ باغیانہ تیور اپنا چکا تھا اور جب پارٹی نجلنگپا، نیلم سنجیوار ریڈی اور کے کامراج جیسے لیڈران کی حامی کانگریس (او) اور اندرا حامی کانگریس (آر) میں تقسیم ہوئی، تب اندرا نے محض اپنی مقبولیت کے بل بوتے پر الیکشن جیتا تھا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ تنظیمی ڈھانچے سے زیادہ اہم کسی لیڈر کی ذاتی مقبولیت ہوتی ہے۔ راہل اسی ذاتی مقبولیت کا دائرہ روز بہ روز وسیع کر رہے ہیں اور اچھی بات یہ ہے کہ اُنہیں کامیابی مل رہی ہے۔ طلبہ سے براہ راست مکالمے کیلئے چھاتروں کی گونج ایک مؤثر پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ کوٹا، دہرا دون، پریاگ راج اور پونے کے بعد اب اندور میں یہ جلسہ سنیچر کو منعقد کیا جائیگا جس کیلئے کانگریسی ترجمانوں نے بتایا کہ جمعہ کی رات تک ڈیڑھ لاکھ طلبہ رجسٹریشن کروا چکے تھے۔معلوم ہوا کہ راہل کی حکمت عملی درست، بامعنی اور تیر بہدف ہے۔ یہ خلافِ معمول سیاسی حالات سے نمٹنے کا خلاف ِمعمول غیر سیاسی طریقہ ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK