سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ آوارہ کتوں کی نس بندی ہو اورانہیں دوسرے مقامات پر بھیجاجائے مگرکچھ لوگوں کو سپریم کورٹ کے ان فیصلوں یا ہدایتوں سے زیادہ کتوں سے پیار تھا لہٰذا انہوںنے سپریم کورٹ میں درخواست دی تھی۔
EPAPER
Updated: May 27, 2026, 11:26 PM IST | New Delhi
سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ آوارہ کتوں کی نس بندی ہو اورانہیں دوسرے مقامات پر بھیجاجائے مگرکچھ لوگوں کو سپریم کورٹ کے ان فیصلوں یا ہدایتوں سے زیادہ کتوں سے پیار تھا لہٰذا انہوںنے سپریم کورٹ میں درخواست دی تھی۔
سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا کہ آوارہ کتوں کی نس بندی ہو اورانہیں دوسرے مقامات پر بھیجاجائے مگرکچھ لوگوں کو سپریم کورٹ کے ان فیصلوں یا ہدایتوں سے زیادہ کتوں سے پیار تھا، انہوںنے سپریم کورٹ میں درخواست دی مگر منگل ۱۹؍ مئی ۲۰۲۶ء کو سپریم کورٹ نے ایسی تمام درخواستوں کو مسترد کردیا۔ مسترد یا خارج کئے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اسپتالوں، اسکولوں، اسٹیشنوں، بس اڈوں سمیت سبھی مقامات پر نس بندی کرنے کے بعد آوارہ کتوں کو دوبارہ نہیں چھوڑا جاسکتا بلکہ انہیں ’’شیلٹر ہوم‘‘ میں رکھا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ اگر آوارہ کتوں سے انسانی زندگی یا عوامی سیکوریٹی کو خطرہ ہوتو چھوت والی یا خطرناک بیماریوں میں مبتلا کتوں کو مویشی معالجین کے مشورہ سے Euthansia یعنی رحم والی موت دے سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ نومبر ۲۰۲۵ء میں سنایا گیا تھا۔ کورٹ نے مزید کہا کہ اس فیصلے کو نافذ کرنے والے افسروں کو تحفظ فراہم کیاجائے گا اور جو افسران سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل نہیں کرتے ان کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔
اس دوران کورٹ کی توجہ اس طرف مبذول کی گئی کہ کئی تنظیمیں اور طلباء تنظیمیں بھی آوارہ کتوں کو پالنے اور ان کو کھلانے کا انتظام کرتی ہیں تو سپریم کورٹ کے فاضل جسٹس صاحبان نے کہا کہ طلباء اور رضا کار تنظیموں کو اداروں کے احاطے میں اسی صورت میں کتوں کو رکھنے کی اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ قانونی طورپر وعدہ کریں کہ اگرکسی کو کسی کتے نے کاٹا تو اس کیلئے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔ جج صاحبان کا یہ کہنا حقیقت پر مبنی تھا کہ کتوں کی پرورش وافزائش کو انسانوں کے تحفظ سے الگ نہیں رکھا جاسکتا۔ یہاں فیض احمد فیض کی مشہور نظم ’’کتے‘‘ کا تذکرہ بے محل نہ ہوگا جن کا یہ کہنا بھی بالکل درست ہے کہ یہ مظلوم مخلوق (کتے) سراٹھالے تو انسان سرکشی بھول جائے مگر ان کی یہ تمنا پوری نہیں ہوئی کہ:
کوئی ان کو احساس ذلت دلا دے
کوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلادے
حیرت وافسوس کی بات تویہ ہے کہ کتے تو کتے ہیں کتوں جیسی خصلت والوں نے بھی جو دھتکارے اور بھگائے جانے کے باوجود ہر جگہ موجود ہونا اپنا حق سمجھتے ہیں زندگی کے مختلف شعبوں میں ایسی ایسی غلاظت پیدا کی ہے کہ کتے بھی شرما جائیں۔ ان کا کیا علاج ہے؟ بہرحال یہ الگ مسئلہ ہے ۔ جہاں تک کتوں سے محفوظ رہنے کا سوال ہے سناگیا ہے کہ تین طرح کے ماڈل تجویز کئے گئے ہیں مگر کوئی ماڈل نہ تو حتمی قراردیا گیا ہے نہ اس پرعمل درآمد ہوا ہے۔
(الف) پہلا ماڈل یہ ہے کہ کتوں کے شیلٹر ہوم کے لئے زمین کارپوریشن دے گی اور تمام متعلقہ اخراجات بھی کارپوریشن یا حکومت اُٹھائے گی۔ صرف نگرانی کسی غیر سرکاری تنظیم کی ہوگی۔
(ب) زمین کارپوریشن مہیا کرے گی مگر شیلٹر ہوم بنانے کا کام اس غیر سرکاری تنظیم کا ہوگا جو شیلٹر ہوم چلانے کی خواہشمند ہوگی اور اس کام کا بیڑا اُٹھائے گی۔ چونکہ غیر سرکاری تنظیم کو خرچ کرکے شیلٹرہوم بنانا ہوگا اس لئے وہ ہرمہینہ ہرکتے کے عوض کارپوریشن سے طے شدہ رقم طلب کرسکتی ہے۔
(ج) ایک مشکل یہ ہوسکتی ہے کہ زمین اور زمین پر بنایا گیا ڈھانچہ (شیلٹر) دونوں غیرسرکاری تنظیم کا ہو۔ اس صورت میں کارپوریشن اس کے بدلے طے شدہ رقم ادا کرے۔
چونکہ ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ آئندہ کیا ہوگا۔ اس سے قبل ہم اپنے شہر، محلے یا گرد و نواح کے حوالے سے کچھ ایسی باتیں کرسکتے ہیں جو سب کے فائدے کی ہوں۔ مثلاً میں شہر ممبئی میں رہتا ہوں جہاں سالانہ ۸۰؍ ہزار سے ایک لاکھ معاملے ڈاگ ہائٹ یعنی کتوں کے کاٹنے کے سامنے آتے ہیں۔ کتے پالنے والے یا کتوں کو اپنی سماجی حیثیت کا استعارہ بنانے والے بھی اس شہر میں بہت ہیں۔ یہاں ممبئی میونسپل کارپوریشن نے ۲۰۱۴ء میں کتوں کی گنتی کروائی تھی جس میں ظاہر ہوا تھا کہ شہر میں ۹۵؍ ہزار ۱۷۲؍ کتے ہیں ۔ ۲۰۲۴ء میں دوبارہ ’’کتا شماری‘‘ کروائی گئی تو معلوم ہوا کہ کتوں کی تعداد ۹۰؍ ہزار ۷۵۷؍ ہے یعنی ممبئی میونسپل کارپوریشن نے کچھ ایسے اقدامات کئے ہیں جو کارگر ہوئے ہیں اور جن کے نتیجے میں شہر میں کتوں کی تعداد کم ہوگئی ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ کتوں سے چونکہ بیماری پھیلتی ہے اور ان کے کاٹنے کا بھی خطرہ رہتا ہے اس لئے عملی تدابیر کیا کی گئی ہیں کہ ان سے بچاؤ ہو؟
ممبئی میں چارزون میں چارگاڑیاںمہیا کرالی گئیں۔ کل ۳۸؍ کارپوریشن ملازمین اور ۱۱؍ گاڑیاں کتے پکڑنے پر متعین کی گئیں ۔ ۶؍ غیرسرکاری تنظیمیں بھی کتے پکڑ کر ان کی نس بندی کررہی ہیں کہ ان کی تعداد بڑھنے نہ پائے۔ کتوں کی نس بندی کا پروگرام ممبئی میونسپل کارپوریشن نے ۱۹۹۴ء میں شروع کیا تھا۔ ۳؍ لاکھ ۸۳؍ ہزار ۴۲۹؍ آوارہ کتوں کی نس بندی کی تھی۔ مسجد بندر، ملنڈ اور باندرہ میں ایسے سینٹر بھی بنائے تھے جہاں آوارہ کتوں کی شکایت کی جاسکتی ہے مگر آوارہ کتوں جیسی خصلت والے لوگوں کو حقیقی معنی میں انسان بنانے کے لئے جو پروگرام بنائے جاسکتے تھے یا کئے جاسکتے تھے ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اب تو یہ حال ہے کہ لوگ آر ٹی آئی کے ذریعہ سوال پوچھنے کا خوف دلا کر علمی ادبی سمیناروں میں مقالہ نگار کی حیثیت سے شامل ہونا چاہتے ہیں یا یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کو کوئی نہیں بلاتا اس لئے انہیں بھی بلایاجائے۔
یہاں چند ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمہ وقت منتظر رہتے ہیں کہ کوئی مرے یا کسی کا جشن منعقد ہو تو انہیں بھی اظہار خیال کا موقع ملے ۔ ایسے عناصر سے کیسے نمٹا جائے یہ اہم سوال ہے جس سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔ خاکسار کی رائے یہ ہے کہ ہمیں صحتمند معاشرہ بنانے کیلئے کتوں اوراس جیسی خصلت والوں سے ڈرنے کے بجائے ان کا علاج کرنے کی ضرورت ہے۔ n
(دفتر انقلاب میں جمعرات کو عید کی تعطیل کے سبب جمعہ کا اخبار شائع نہیں ہوگا اسلئے یہ مضمون آج ہی شامل اشاعت کرلیا گیا ہے)