Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپریم کورٹ نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف سی بی آئی انکوائری کی درخواست مسترد کردی

Updated: May 25, 2026, 7:05 PM IST | New Delhi

چیف جسٹس سوریہ کانت نے اس معاملہ کی فوری سماعت سے انکار کردیا اور کہا کہ اس معاملے میں ”کوئی جلدی نہیں ہے۔“ انہوں نے واضح کیا کہ پٹیشن کی سماعت معمول کے مطابق ہوگی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے مزید تبصرہ کیا کہ ”اسے اتنے جذباتی انداز میں نہ لیں۔“

Photo: X
تصویر: ایکس

سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل طنزیہ تحریک ”کاکروچ جنتا پارٹی“ (سی جے پی) کے خلاف دائر کی گئی ایک پٹیشن پر فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ پیر کے دن چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت نے اس معاملے میں پیش ہونے والے ایک وکیل سے کہا کہ ”وہ اسے اتنے جذباتی انداز میں نہ لیں۔“

واضح رہے کہ یہ تحریک چیف جسٹس کے متنازع بیان کے بعد شروع ہوئی ہے۔ ایک کیس کی سماعت کے دوران انہوں نے کچھ بے روزگار نوجوان کارکنوں اور مبینہ طور پر قانون کی فرضی ڈگریاں استعمال کرنے والے افراد کو ”کاکروچ“ کہا تھا۔ یہ تبصرہ بعد میں انٹرنیٹ پر وائرل ہوگیا اور اس نے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر ردِعمل اور پیروڈی تحریکوں کو جنم دیا۔ ۱۶ مئی کو قائم کی جانے والی کاکروچ جنتا پارٹی کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف چند دنوں میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اس کے فالورز کی تعداد ۲ کروڑ ۳۰ لاکھ افراد تک پہنچ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کے گھر پر پولیس سیکوریٹی

پیر کی سماعت کے دوران، ایڈوکیٹ این کے گوسوامی نے سپریم کورٹ سے اس معاملے سے جڑی ایک درخواست کو فوری طور پر قبول کرنے کی استدعا کی۔ گوسوامی نے دلیل دی کہ چیف جسٹس کی جانب سے بعد میں دی گئی وضاحت کے باوجود، عدالت کے تبصروں کے گرد ایک ”مسخ شدہ اور بدنیتی پر مبنی بیانیہ“ مسلسل گردش کر رہا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے اس معاملہ کی فوری سماعت سے انکار کردیا اور کہا کہ اس معاملے میں ”کوئی جلدی نہیں ہے۔“ انہوں نے واضح کیا کہ پٹیشن کی سماعت معمول کے مطابق ہوگی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے مزید تبصرہ کیا کہ ”اسے اتنے جذباتی انداز میں نہ لیں۔“

ایڈوکیٹ راجا چودھری کی جانب سے دائر کی گئی ایک الگ پٹیشن میں عدالتی مشاہدات کو تجارتی برانڈنگ اور کمائی کیلئے آن لائن مواد میں تبدیل کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے، کاکروچ جنتا پارٹی کے خلاف کارروائی کی مانگ کی گئی ہے۔ اس پٹیشن میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ تشہیری مہمات، ٹریڈ مارک کے دعوؤں، تجارتی سامان اور ڈجیٹل مانیٹائزیشن کیلئے کمرہِ عدالت کے زبانی تبصرے کے استعمال پر پابندی عائد کرے۔ پٹیشن کے مطابق، اس تنازع کے نتیجے میں ”عدالتی تنازع اور کمرہِ عدالت کی زبانی گفتگو کا منظم تجارتی استحصال“ ہوا ہے۔ اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ عدالتی تبصروں کو ہیش ٹیگز، برانڈنگ مہمات اور اسپانسرشپ سے چلنے والے سوشل میڈیا مواد میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کاکروچ جنتا پارٹی پر ڈجیٹل کریک ڈاؤن

اس مفادِ عامہ کی درخواست میں، اس تنازع سے جڑے کچھ افراد کے ذریعے جعلی تعلیمی اسناد اور قانون کی فرضی ڈگریوں کے استعمال کی سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) سے ان الزامات کی جانچ کرانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ پٹیشن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ”جعلی وکلاء“ نے پیشہ ورانہ پہچان اور آن لائن اثر و رسوخ کیلئے اس معاملے کے گرد وائرل ہونے والی توجہ کا مبینہ طور پر فائدہ اٹھایا ہے۔ اس میں مزید دلیل دی گئی کہ آئینی کارروائیوں کی اس طرح تجارت کاری سے عدلیہ کی سنجیدگی اور ادارہ جاتی وقار کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

تاہم، سماعت کے دوران چیف جسٹس کے تبصرے سے واضح ہوتا ہے کہ جب تک مجرمانہ کاموں کے ٹھوس شواہد سامنے نہیں آتے، تب تک طنزیہ تحریک اور سیاسی پیروڈی کے معاملات میں ضرورت سے زیادہ مداخلت نہ کرنے کے حوالے سے عدالتی احتیاط برتی جا رہی ہے۔ عدالت کے مشاہدات نے عدالتی وقار، اظہارِ رائے کی آزادی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے والے سیاسی مواد کی تیزی سے ہونے والی تجارت کاری کے درمیان پائے جانے والے تناؤ کو اجاگر کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK