Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپریم کورٹ نیٹ یو جی ۲۰۲۶ء پیپر لیک پر برہم، این ٹی اے سے جواب طلب

Updated: May 25, 2026, 6:03 PM IST | New Delhi

ہندوستانی سپریم کورٹ نےNEET-UG 2026 پیپر لیک معاملے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’’افسوسناک‘‘ ہے کہ سابقہ واقعات سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ عدالت نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے)، مرکزی حکومت اور وزارت تعلیم سے جواب طلب کیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہندوستانی سپریم کورٹ نے آج NEET-UG 2026 امتحان کے مبینہ پیپر لیک اور اس کے بعد امتحان کی منسوخی پر شدید مایوسی اور تشویش کا اظہار کیا، اور کہا کہ یہ ’’افسوسناک‘‘ ہے کہ متعلقہ حکام نے ماضی کے ایسے واقعات سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ جسٹس ایس پی نرسمہا اور جسٹس الوک ارادھے پر مشتمل بنچ نے اس معاملے کی سماعت کے دوران National Testing Agency، وزارت تعلیم اور مرکزی حکومت سے تفصیلی جواب طلب کیا۔ یہ سماعت فیڈریشن آف آل انڈیا میڈیکل اسوسی ایشن کی جانب سے دائر درخواست پر ہوئی، جس میں این ٹی اے پر امتحانی عمل میں ’’انتظامی ناکامی‘‘ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ عدالت نے تمام درخواستوں کی نقول سالیسٹر جنرل تشار مہتا کو فراہم کرنے کی ہدایت دی جبکہ این ٹی اے کو حکم دیا گیا کہ وہ ۲۰۲۴ء میں سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ اصلاحاتی ہدایات پر عملدرآمد سے متعلق تفصیلی حلف نامہ جمع کرائے۔

یہ بھی پڑھئے: آسام میں یو سی سی بل پیش، مسلم تنظیموں کا مشاورت کا مطالبہ

سماعت کے دوران جسٹس نرسمہا نے سخت تبصرہ کیا کہ ’’ہم بہت غمزدہ ہیں۔ انہوں نے اپنا سبق نہیں سیکھا۔ ہم نے پہلے بھی اصلاحات کے لیے کمیٹی بنانے کا حکم دیا تھا، جسے قبول کیا گیا تھا۔‘‘ عدالت نے این ٹی اے کو ۱۴؍ نومبر ۲۰۲۴ء کو تشکیل دی گئی مانیٹرنگ کمیٹی کی موجودہ صورتحال اور اس کی سفارشات پر عملدرآمد سے متعلق تفصیلات جمع کرانے کا حکم دیا۔ ساتھ ہی سابق چیئرمین کے رادھا کرشنن کو بھی تین دن کے اندر ایک حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی گئی، جس میں بتایا جائے کہ اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔ درخواست گزار تنظیم ایف اے آئی ایم اے نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ نیٹ امتحانات کے انعقاد کی ذمہ داری این ٹی اے سے واپس لے کر ایک ’’زیادہ مضبوط، تکنیکی طور پر جدید اور خود مختار ادارے‘‘ کے سپرد کی جائے۔

واضح رہے کہ این ٹی اے نے ۳؍ مئی کو منعقد ہونے والے نیٹ یو جی ۲۰۲۶ء امتحان کو مبینہ پیپر لیک کے بعد منسوخ کر دیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق وہاٹس ایپ اور ٹیلی گرام پر گردش کرنے والے ’’گس پیپرز‘‘ کے ۱۰۰؍ سے زائد سوالات اصل امتحانی پرچے سے مماثلت رکھتے تھے۔ معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ درخواست میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک اعلیٰ اختیاراتی مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی جائے، جس میں سائبر سیکوریٹی ماہرین اور فارنسک سائنسداں بھی شامل ہوں تاکہ دوبارہ امتحان کے پورے عمل کی نگرانی کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے: پیٹرول -ڈیزل کی قلت:بلڈانہ میں پمپوں پر بھیڑاور جھگڑے سے بچنے کیلئےکوپن سسٹم !

ایف اے آئی ایم نے مزید مطالبہ کیا کہ نیٹ یو جی ۲۰۲۶ء کا دوبارہ انعقاد عدالتی نگرانی میں کیا جائے اور امتحان صرف اس وقت منعقد ہو جب مجوزہ نگرانی پینل نئے حفاظتی نظام کی تصدیق کر دے۔ درخواست میں امتحانی نظام میں بڑی تکنیکی اصلاحات کی بھی سفارش کی گئی ہے، جن میں سوالیہ پرچوں کی ڈجیٹل لاکنگ، پرچوں کی جسمانی نقل و حمل ختم کرنا، اور امتحان کو کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ (سی بی ٹی) فارمیٹ میں منتقل کرنا شامل ہے تاکہ پیپر لیک جیسے خطرات کم کیے جا سکیں۔ عدالت نے این ٹی اے کو جوابی حلف نامہ جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مانیٹرنگ کمیٹی کے چیئرمین اس بات کو یقینی بنائیں کہ عدالت کی سابقہ ہدایات پر مکمل عمل کیا جائے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت ۲۹؍ مئی کو ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK