معاشرے سے بُرائیوں کے ازالے اور خاتمے کے لئے جدوجہد کرنا ایمان کی علامت ہے

Updated: December 03, 2021, 2:10 PM IST | Atiq Ahmad Shafiq Barelvi

گزشتہ جمعہ کو شائع ہونے والے مضمون ’’امت مسلمہ کابنیادی فریضہ یہی ہے کہ وہ تمام انسانوں کی اصلاح کی فکر کرے‘‘ کا دوسرا اور آخری حصہ

Islam is a blessing. It must be acknowledged and passed on to others.Picture:INN
اسلام ایک نعمت ہے۔ اس کو تسلیم کرلینے کے بعد دوسروں تک پہنچانا لازمی ہے۔ تصویر: آئی این این

غیرمسلم دنیاکو اسلام کی دعوت دینا اور اس کی طرف بلانا دنیا کا سب سے بڑا کام ہے۔ اسی سے دنیا وآخرت میں انسانیت کی فلاح وابستہ ہے۔ اقامت دین کے لئے پہلا مرحلہ دعوت کا ہی ہے کیونکہ اس کے بغیر لوگ اسلام کے نظام رحمت سے واقف ہی نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا امت مسلمہ کااوّلین فریضہ ہے کہ وہ دعوت کے کام کو انجام دے: ” اور اس طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ایک ’امت وسط‘  بنایاہے تاکہ تم دنیا والوں پر گواہ بنو۔“(البقرہ: ۱۴۳﴾)  امت وسط کا مفہوم یہ ہے کہ تم ایک ایسا گروہ ہو جو سب سے افضل و بہتر ہے۔ اس امت کے مزاج میں اعتدال وتوازن رچابسا ہے۔ امت وسط کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ اپنے قول وعمل سے دین حق کی گواہی دے اورلوگوںکے درمیان عدل وقسط کے قیام کو یقینی بنائے۔ تعلیمات الٰہی اور احکام خداوندی جو رسول کے ذریعے اس تک پہنچے ہیں ،ان کو بالکل واضح انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرے۔ لوگوں کے افکار ونظریات، اقدار واعمال، عادت واطوار، رسوم ، رواج کو ٹھیک کرے اور بتائے کہ درست کیاہے اور غلط کیاہے۔ اس امت کا مقصد دنیا والوں کو اللہ کی اطاعت کی طرف بلانا ،اللہ کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا نظام استوار کرناہے۔گویاامت وسط کی بڑی اہم ذمے داری یہ ہے کہ وہ شہادت کا فریضہ اسی طرح ادا کرے، جس طرح اللہ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ نے ادا کیا۔جس طرح اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ نے اللہ کے دین کو اپنی مکمل شکل میں اپنی امت تک نہ صرف اپنے قول سے پہنچایابلکہ اپنے عمل سے بھی کرکے دکھایا، ٹھیک اسی طرح امت مسلمہ کو دنیا کے ہر ملک اور قوم کے سامنے شہادت حق کا فریضہ ادا کرنا اور دین حنیف کو اس کے اصل روپ میں پہنچاناہے۔
 قیامت کے روزجس طرح سے مسلمانوں سے دیگر فرائض و واجبات کے تعلق سے جواب طلبی ہوگی، اسی طرح امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے متعلق بھی پرسش ہوگی۔ پوچھاجائے گاکہ نبی عربی ختم الرسل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دین رحمت تم تک پہنچایاتھا، اس کے لئے تم نے کیا سرگرمیاں دکھائیں۔
 امربالمعروف و نہی عن المنکر کی ذمہ داری ادا کرنے پر جہاں دنیا و آخرت کی کامیابی و فلاح کی بشارتیں دی گئی ہیں،وہیں اس فریضے سے غفلت اور بے پروائی برتنے پر سخت وعیدیں بھی ہیں۔ اس کام کو بالکل چھوڑ دینا یا اس میں کوتاہی کرنا اللہ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ سابقہ ملتوں نے جب اس کام کو چھوڑدیا تو ان پر اللہ  تبارک و تعالیٰ کاغضب نازل ہوا اور ان پر ذلت و مسکنت طاری کردی گئی۔ قرآن مجید بنی اسرائیل کی اس طرح تصویر کشی کرتاہے:
 ”بنی اسرائیل میں جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی اس پر دائوداور عیسیٰؑ  بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی۔ کیونکہ وہ سرکش ہوگئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے، انھوںنے ایک دوسرے کو برے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑدیاتھا، بہت ہی بُرا طرزعمل تھا جو انہوںنے اختیار کیا۔ “(المائدہ:۷۹۔۷۸) اس آیت میں نبی اسرائیل کی سب سے بڑی خرابی یہ بتائی گئی ہے کہ انہوں نے نہی عن المنکر کے فریضے کو چھوڑ دیا تھا۔ اس وجہ سے وہ مزید معصیت و گمراہی میں پھنستے چلے گئے جس کے نتیجے میں ان پر اللہ کا عذاب مسلط ہوا اور انبیاء کی زبان سے ان پر لعنت بھیجی گئی۔ سورۂ اعراف (آیات : ۱۶۳؍تا۱۶۶)میں ہے کہ سماج میں ان کے تین طرح کے گروہ تھے۔ ایک کھلم کھلا حدودالٰہی کو توڑتا تھااور نافرمانی و سرکشی کی روش اختیار کئے ہوئے تھا۔ دوسرا گروہ ان لوگوں کا تھا جو معروف کا حکم دیتے تھے، احکام الٰہی کی پابندی کی طرف متوجہ کرتے تھے اور حکم الٰہی کو توڑنے والوں کو اس حرکت سے روکنے کی کوشش کرتے تھے۔ جب کہ تیسرا گروہ ان لوگوں کاتھا جو خود تو اطاعت گزار تھے مگر سرکش لوگوں کی سرکشی، حکم عدولی اور نافرمانی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔ بلکہ وہ لوگ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے والوں کو یہ نصیحت بھی کرتے تھے کہ تم اس کے چکر میں کیوں پڑتے ہو؟ مگر مصلحین کاگروہ ان کو یہ جواب دیتاکہ ہم اپنی ذمے داری ادا کررہے ہیں۔ ممکن ہے وہ مان جائیں۔ اگر وہ نہیں مانتے تو کم ازکم ہم تو اپنی ذمے داری سے سبکدوش ہوجائیںگے۔ چنانچہ جب احکامِ الٰہی کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہونے لگی تو اللہ کی جانب سے ان پر عذاب آیا اور اس عذاب سے وہی لوگ بچے جو بھلائی اور اطاعت الٰہی کی نصیحت کا کام انجام دے رہے تھے۔
 ان آیات سے واضح ہوجاتاہے کہ اللہ کے عذاب سے صرف وہی لوگ بچائے گئے جو احکام الٰہی کے خود تو پابند تھے ہی ساتھ ہی نافرمانوں کو بھی اطاعت رب اور اتباع احکام ربانی کی طرف توجہ دلاتے تھے اور ان کو منکرات سے روکنے کی کوشش کرتے تھے۔ بقیہ وہ دونوں گروہ جو نافرمانی کرتے تھے یا بُرائیوں کو ہوتا دیکھ کرخاموش رہتے تھے اور ان کو مٹانے کی کوئی فکر ان کو لاحق نہیں ہوتی تھی دونوں عذاب الٰہی میں مبتلا ہوئے۔
 ایک دوسرے مقام پر ان کے علماءکی اپنی ذمے داری سے غفلت ، معروف کے فروغ اور منکرات کے ازالے سے تساہُل اور بے توجہی پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا:
 ”تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اورظلم و زیادتی کے لئے دوڑدھوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام مال کھاتے ہیں بہت ہی بُری حرکات ہیں جو یہ کررہے ہیں ۔  ان کے علماء، مشائخ ان کے قولِ گناہ اور اکلِ حرام سے منع کیوں نہیں کرتے؟ یقیناًبہت ہی بُرا کارنامۂ زندگی ہے جو وہ کررہے ہیں۔ “ (المائدہ:۔۶۳۔۶۲)
 حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ضرور معروف کا حکم دو اور منکر سے روکو ورنہ وہ وقت دور نہیں کہ خدائے تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل کردے۔ اس وقت تم اس سے دعا کروگے لیکن تمہاری دعا سنی نہیں جائے گی۔“ اسلام ایک نعمت ہے۔ اس کو تسلیم کرلینے کے بعد دوسروں تک پہنچانا لازمی ہے۔ اس سے غفلت کو قرآن نے ظلم سے تعبیر کیاہے: ”ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتاہے جو اللہ کی کسی شہادت کو جو ان کے پاس ہے چھپائیں؟ اللہ اس چیز سے بے خبر نہیں ہے جو تم کررہے ہو۔“ (البقرہ:۱۴۰﴾) مندرجہ بالا آیات اور احادیث سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ بُرائیوں کو مٹانے کی جدوجہد اور کوشش لازمی ہے اور اس کام کے لئے کسی بڑے مدرسے کا سندیافتہ ہونا، جیدعالم دین ہونا شرط نہیں ہے بلکہ جتنا کچھ بھی دین کی تعلیمات آپ کو معلوم ہیں ان کو دوسروں تک پہنچانا لازم ہے۔ بغیر اس کے انسان نہ تو اللہ کی رضاحاصل کرسکتاہے اور نہ آخرت میں کامیاب ہوسکتا ہے۔معاشرے سے بُرائیوں کے ازالے اور خاتمے کے لئے جدوجہد کرنا ایمان کی علامت ہے۔ یہ ایمان کا بنیادی تقاضا ہے کہ انسان جتنی بھی صلاحیت و قوت رکھتاہے اس کو بھلائیوں کے نشر کرنے اور بُرائیوںکے ازالے کے لئے لگادے۔
 امر بالمعروف و نہی عن المنکر اہل ایمان کی مخصوص صفات ہیں۔ ارشاد ربانی ہے:
 ”مومن مرد اور عورتیںایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے ہیںاور بُرائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی اطاعت نازل ہوکر رہے گی۔ یقیناً اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے۔“  (التوبہ:۷۱) ان آیات میںمومنات اور منافقات کالفظ بھی غورو فکر کی دعوت دیتاہے۔ عورت ہر سماج کو بنانے اور بگاڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دنیا کاکوئی بھی کام عورت سے خالی نہیں۔ شہادت حق بھی ایک اہم کام ہے۔ اس سے خواتین کو کیوں محروم رکھاجاتاہے جب کہ اسلام کے نزدیک خیروشر اور حق و باطل کے معرکے میں وہ مردوں کے برابر کے کردار ادا کرنے کا حق رکھتی ہیں۔
امربالمعروف ونہی عن المنکر : ایک سماجی ضرورت
 امربالمعروف ونہی عن المنکر کاکام صرف دینی وملی فریضہ ہی نہیں ہے بلکہ معاشرتی اور سماجی ضرورت بھی ہے۔ کیونکہ ماحول کا انسانی زندگی پرکافی اثر پڑتا ہے جس سوسائٹی اور ماحول میں انسان پیداہوتا ہے، پروان چڑھتااور رہتا بستا ہے  اس کے اثرات سے وہ بچ نہیں سکتا۔ لہٰذا ماحول کو اپنے موافق بنانا ضروری ہے۔ اس بات کی پوری کوشش ہونی چاہئے کہ سماج میں بھلائیاں کرنے کے لئے حالات سازگار ہوں، بھلائی کرنے والوں کو سہارا اور ہمت ملے اور اگرایسا ماحول نہیں بنتا تو پھر آدمی کو خدا بیزار سماج کے غلط اثرات سے بچانا بڑا مشکل ہوجائے گا۔ نیک اور دین دار آدمی کا ایسے سماج میں رہنا آسان نہیں ہے جو صالح اور پاکیزہ نہ ہو۔  ٹھیک اسی طرح جس طرح کوئی شخص خود تو صفائی ستھرائی رکھے اور صاف ستھرے کپڑے پہنے مگر اس کا گھر گندا رہے تو بھلا بتائیے کہ اس کی ذاتی صفائی اس کو کیا فائدہ پہنچائے گی۔یہی معاملہ سماج میں معروف یا منکر کا بھی ہے۔
 سماج میں بھلائی ہوگی تو ایک صالح انسان کااس میں جینا آسان ہوگا لیکن اگر معاشرہ بُرائیوں سے لت پت ہوتو خود کو بُرائیوں سے محفوظ رکھنا بڑا مشکل ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK