طالب علم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ حکومت ان کے مظاہروں سے آگاہ ہونے کے باوجود مسائل کے حل پر مرکوز نہیں ہے بلکہ پہلے اس نے مظاہروں کو نظر انداز کیا، پھر ان کو روکنا چاہا، پھر انہیں دبانے اور مظاہرین کو دھمکانے کی کوشش کی۔
EPAPER
Updated: August 02, 2026, 11:44 AM IST | Mumbai
طالب علم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ حکومت ان کے مظاہروں سے آگاہ ہونے کے باوجود مسائل کے حل پر مرکوز نہیں ہے بلکہ پہلے اس نے مظاہروں کو نظر انداز کیا، پھر ان کو روکنا چاہا، پھر انہیں دبانے اور مظاہرین کو دھمکانے کی کوشش کی۔
ہمارے اہل اقتدار طلبہ کو سمجھنے میں ناکام ہیں کہ ان کے ذہنوں میں کیا ہے، وہ اپنی حکومت سے کیا چاہتے ہیں اور اگر ان میں ناراضگی پائی جا رہی ہے تو اس کا سبب کوئی ایک مسئلہ (مثلاً نیٹ امتحان کا پرچہ لیک) ہے یا بہت سے مسائل ہیں۔ ہمارے خیال میں ان کے صبر کا پیمانہ کسی ایک مسئلہ (مثلاً پیپر لیک) کی وجہ سے لبریز نہیں ہوابلکہ کئی دیگر مسائل کی وجہ سے ہوا ہے جو پہلے سے ان کے صبر کا امتحان لے رہے تھے۔ چونکہ یہ نسل باخبر ہے اس لئے اسے تعلیمی نظام کے نقائص کا اچھا خاصا علم ہے۔ انٹرنیٹ کی سہولت اور سوشل میڈیا کے استعمال کی وجہ سے اسے دیگر ملکوں کے حالات کا بھی علم ہے۔ یہ نسل جاننا چاہتی ہے کہ ہمارا ملک تعلیم کا بہتر انتظام کیوں نہیں کرسکتا۔ نظام ِ تعلیم کے مسائل اور نقائص کو سمجھنے اور ان پر غور کرنے کے بعد اس نسل پر واضح ہو جاتا ہے کہ وکست بھارت کا جو خواب دکھایا جارہا ہے وہ کسی حال میں شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا کیونکہ نہ تو ہماری تعلیم نہ ہی نظام ِتعلیم اس قابل ہیں کہ وکست بھارت کیلئے درکار افراد پیدا کرسکیں۔ جب ملک کے ایک لاکھ سے زائد اسکول ایک ٹیچر پر چل رہے ہوں اور ٹیچروں کی ایک لاکھ اسامیاں خالی ہوں، جب تقرری کی واحد شرط اساتذہ کی قابلیت نہیں بلکہ کئی دیگر شرطیں ہوں، جب اسکولوں کا انفراسٹرکچر ناکارہ ہو، جب نصاب نظریاتی بنیاد پر مرتب کیا جاتا ہو، جب طلبہ کی فکر کی بالیدگی پر توجہ نہ دی جاتی ہو، ان میں مسابقت اور مقابلے کے جذبہ کو پروان چڑھانے کی فکر نہ کی جاتی ہو، جب تعلیم کو اتنا مہنگا کر دیا گیا ہو کہ سب کیلئے تعلیم کا نظریہ حاشئے پر آ چکا ہو اور محنت، صلاحیت، ذہانت اور جذبے کی قدر نہ کی جاتی ہو تو وکست بھارت کا نعرہ بے چارہ ہی بنا رہے گا اور بھرپور امکانات کے باوجود ہم ترقی کی شاہراہ پر فراٹے بھرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔
طالب علم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ حکومت ان کے مظاہروں سے آگاہ ہونے کے باوجود مسائل کے حل پر مرکوز نہیں ہے بلکہ پہلے اس نے مظاہروں کو نظر انداز کیا، پھر ان کو روکنا چاہا، پھر انہیں دبانے اور مظاہرین کو دھمکانے کی کوشش کی۔ عالم یہ ہے کہ وزیراعظم طلبہ کو اعتماد میں لینے کیلئے ریل پر ریل بنا رہے ہیں جبکہ وہ ان کے نمائندوں کو’’چائے پر چرچا‘‘ کیلئے بُلا سکتے تھے جس سے اعتماد بحال ہوتا۔ ایسے حالات پیدا ہی نہ ہونے چاہئے تھے کہ طلبہ کو سڑکوں پر آنا پڑتا۔ جب طلبہ سڑک پر آگئے تھے تو ان سے فوری رابطہ کرکے انہیں اعتماد میں لینے کی ہر ممکن تدبیر ہونی چاہئے تھی۔ ایسا کیا جاتا تو سونم وانگ چک اور اُن کے ساتھ نیہااور دیگر طلبہ کو بھوک ہڑتال نہ کرنی پڑتی۔ نہ تو سنسد چلو کا اعلان ہوتا نہ ہی ۲۰؍ جولائی کے وہ واقعات رونما ہوتے جن سے حکومت کا وقار مجروح ہوا اور اپوزیشن وزیر داخلہ کا استعفیٰ مانگ رہا ہے۔ اس سےقبل دھرمیندر پردھان (وزیر تعلیم) کو اسلئے استعفےٰ دینا پڑا کہ ۲۰؍ دن سے زیادہ گزر جانے کے باوجود حکومت کا کوئی ادنیٰ نمائندہ بھی طلبہ سے ملاقات کیلئے جنتر منتر نہیں گیا تھا۔ اس طرح حالات خراب تو ہوئے مگر اب بھی بہتری کی اُمید پیدا نہیں ہوئی ہے کیونکہ نظام ِ تعلیم کی درستی پر اب بھی توجہ نہیں ہے۔