Inquilab Logo Happiest Places to Work

مَیں گمراہ نوجوانوں کو معاف کرتا ہوں: نریندر مودی کا طلبہ مظاہرین سے متعلق پیغام

Updated: August 01, 2026, 3:03 PM IST | New Delhi

وزیر اعظم نریندر مودی نے حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران ان اور ان کی والدہ کے خلاف نعرے بازی اور نازیبا زبان استعمال کرنے والے نوجوانوں سے متعلق نرم مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انہیں ’’گمراہ بچے‘‘ سمجھتے ہیں اور انہیں معاف کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سزا دینے، عدالتوں کے چکر لگوانے یا سماجی طور پر نشانہ بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ نوجوانوں کی درست رہنمائی کرنا ہی اصل ذمہ داری ہے۔

Prime Minister Narendra Modi. Photo: INN
وزیر اعظم نریندر مودی۔ تصویر: آئی این این

وزیر اعظم نریندر مودی نے حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران اپنے خلاف نعرے بازی اور نازیبا زبان استعمال کرنے والے نوجوانوں کے بارے میں مصالحت آمیز مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انہیں ’’گمراہ بچے‘‘ سمجھتے ہیں اور انہیں معاف کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو سزا دینا یا انہیں مسلسل عدالتوں کے چکر لگوانا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ انہیں صحیح راستہ دکھانا معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’’یہ گمراہ بچے ہیں۔ انہیں صحیح راستہ دکھانا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہیں سزا دینا، عدالتوں کے چکر لگوانا یا سماج میں انہیں پریشان کرنا حالات کو نہیں بدلے گا۔‘‘  انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں انہیں معاف کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ معاشرہ بھی میرے اس مؤقف کو قبول کرے گا۔‘‘ 

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Narendra Modi (@narendramodi)

وزیر اعظم مودی نے اپنے پیغام میں اس بات پر بھی زور دیا کہ نفرت انگیز یا توہین آمیز زبان کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ’’گالیاں کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتیں۔ آئیے گمراہ لوگوں کی رہنمائی کریں۔ آئیے مل کر بھارت کے لیے کام کریں۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قومی سطح پر امتحانی پیپر لیک کے معاملے کے بعد ملک بھر میں طلبہ کے احتجاج ہوئے تھے۔ کئی مقامات پر مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جبکہ بعض مظاہروں میں وزیر اعظم کے خلاف نعرے بازی اور نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔ 

حکومت نے بعد ازاں امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک سے متعلق سخت قوانین اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے بعض مطالبات پر پیش رفت کا اعلان کیا۔ اس دوران وزیر تعلیم کے استعفے اور امتحانی اصلاحات سے متعلق قانون سازی بھی عمل میں آئی، جس کے بعد احتجاجی تحریک ختم ہونے کا اعلان کیا گیا۔  وزیر اعظم کے بیان پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری جئے رام رمیش نے اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم ’’متاثرہ فریق‘‘ کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ حکمراں جماعت کے حامیوں نے اسے مفاہمت اور برداشت کا پیغام قرار دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: یو پی میں بی جے پی کو ۵۲؍ تا ۶۷؍ سیٹوں کے نقصان کا اندیشہ

وزیر اعظم کے تازہ بیان کو حالیہ طلبہ تحریک کے بعد حکومت کی جانب سے سامنے آنے والا ایک اہم سیاسی اور سماجی پیغام قرار دیا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے سخت قانونی کارروائی کے بجائے نوجوانوں کی رہنمائی، مکالمے اور اصلاح پر زور دیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK