Updated: August 01, 2026, 10:43 PM IST
| New Delhi
نیٹ پیپر لیکس اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف سی جے پی کی قیادت میں دہلی میں طلبہ مظاہروں میں حصہ لینے والی نوجوان خواتین کو پی ایم مودی پر تنقید کرنے والی ان کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد، مسلسل جان سے مارنے اور ریپ کی دھمکیوں، منظم آن لائن ہراسانی، متعدد ایف آئی آر اور جسمانی طور پر ڈرانے دھمکانے کے عمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
روچیکا سنگھ اور شردھا سنگھ۔ تصویر: ایکس
نیٹ پیپر لیکس اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف سی جے پی کی قیادت میں دہلی میں طلبہ مظاہروں میں حصہ لینے والی نوجوان خواتین کو وزیرِ اعظم نریندر مودی پر تنقید کرنے والی ان کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد، مسلسل جان سے مارنے اور ریپ کی دھمکیوں، منظم آن لائن ہراسانی، متعدد ایف آئی آر اور جسمانی طور پر ڈرانے دھمکانے کے عمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والی ۲۳ سالہ کونٹینٹ کریئیٹر اور یوگا انسٹرکٹر شردھا سنگھ نے کناٹ پلیس پر صفائی کے ایک پروڈکٹ کے اشتہار کا ساؤنڈ ٹریک استعمال کرتے ہوئے سات سیکنڈ کی ایک انسٹاگرام ریل پوسٹ کی جس میں جب آڈیو میں کہا گیا کہ ”نیلا رنگ ٹوائلٹ کیلئے ہے“ تو انہوں نے نیلے لباس میں ملبوس ’ریپڈ ایکشن فورس‘ کے اہلکاروں کی طرف اشارہ کیا۔ چند ہی گھنٹوں میں گمنام میم پیجز نے اس ویڈیو کو یہ دعویٰ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر شیئر کیا کہ سنگھ نے مسلح افواج کیلئے برے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ نیوز ۱۸ انڈیا اور دوردرشن نے اس ریل کو نشریات میں شامل کرتے ہوئے اسے ”قابلِ اعتراض“ قرار دیا۔ اس کے بعد بی جے پی حامیوں نے ان کی ایک پرانی پوسٹ سے ان کی گاڑی کا نمبر پلیٹ تلاش کیا، ان کا موبائل نمبر اور گھر کا پتہ حاصل کر لیا اور انہیں دھمکی آمیز کالز موصول ہونا شروع ہوگئیں جن میں کہا گیا کہ ”جس لمحے ہم تم سے ملیں گے تمہیں جان سے مار دیں گے، ہم تمہارا ریپ کریں گے۔“ شردھا سنگھ نے اسکرول (Scroll) کو بتایا کہ وہ اب اپنے گھر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتیں۔ گالی گلوچ کرنے والے زیادہ تر اکاؤنٹس کے صفر پوسٹس اور صفر فالورز تھے، جسے انہوں نے ”منظم ٹرول فارمز کا طرۂ امتیاز“ قرار دیا۔ انسٹاگرام نے مظاہروں سے متعلق ان کی ۳۳ پوسٹس کو اپیل کے کسی موقع کے بغیر ہٹا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مَیں گمراہ نوجوانوں کو معاف کرتا ہوں: نریندر مودی کا طلبہ مظاہرین سے متعلق پیغام
۱۵ سالہ لڑکی کو ایف آئی آرز اور جسمانی طور پر ڈرانے دھمکانے کا سامنا
مظاہروں میں حصہ لینے والی ۱۵ سالہ روچیکا سنگھ کو بھی ایسے ہی شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جنتر منتر پر مودی کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے والی ان کی ویڈیوز وائرل ہوگئیں، جس کے بعد بی جے پی حامیوں نے ان کے گھر کا پتہ، فون نمبر، خاندان کے افراد کے نام اور ان کی تصویر کے ساتھ اے آئی سے تیار کردہ ”موسٹ وانٹڈ“ (Most Wanted) پوسٹر شیئر کرنا شروع کر دیا۔ ۲۹ جولائی کو ’جنسٹا دل (لوک تانترک)‘ کے خواتین ونگ کی غازی آباد ضلع صدر سمریتی سنگھ نے نوئیڈا میں روچیکا کے خلاف چھ ایف آئی آرز درج کرائیں۔ ان میں دہلی پولیس کو منتقل کی گئی ’زیرو ایف آئی آر‘ بھی شامل ہے، جس میں ان پر بھارتیہ نیائے سنہیتا کی دفعات ۳۵۲، ۳۵۳(۱)، اور ۳۵۶(۱) کے تحت الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ سمریتی سنگھ لوگوں کے ایک گروپ کے ساتھ روچیکا کے نوئیڈا والے پتے پر بھی گئیں اور ایک پڑوسی پر زور دیا کہ وہ اس کمسن لڑکی کو فون کرے اور ویڈیو معافی کا مطالبہ کرے، جس سے روچیکا نے انکار کر دیا۔ ۳۱ جولائی کو سی این این نیوز ۱۸ پر معافی کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں روچیکا نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ وہ احتجاج کے دوران دوسروں کے ”اثر و رسوخ میں آ گئی تھیں۔“
یہ بھی پڑھئے: ۱۵؍سالہ لڑکی کی معافی پر کنگنا رناوت کا ردِعمل، کہا ’اپنی بیٹیوں کا تحفظ کریں‘
تنازع کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی نے روچیکا سنگھ کا دفاع کیا۔ پارٹی کے ترجمان سورو داس نے کہا کہ ”پولیس کے ذریعے مظاہرین کو نشانہ بنانے اور ہراساں کرنے کیلئے فوجداری انصاف کی مشینری کا استعمال بالکل نا قابلِ قبول ہے۔“
مظاہرین کے خلاف ایف آئی آرز خامیوں سے پُر: قانونی ماہرین
آئینی قانون دان شاہ رخ عالم نے اسکرول کو بتایا کہ مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج میں جن قانونی دفعات کا سہارا لیا گیا ہے وہ شدید مسائل کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ ۳۵۲، جو کسی کی توہین کرنے اور اسے عوامی امن برباد کرنے پر اکسانے سے متعلق ہے، کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ مودی خود امن برباد کرنے پر اشتعال میں آ جائیں گے جو کہ اس قانون کا ”انتہائی غیر مناسب“ استعمال ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روچیکا کے تبصرے ”واضح طور پر مبالغہ آرائی، خاکہ اور عوامی شخصیت کا مذاق تھے“، نہ کہ ایسا بیان جو حقیقت ہونے کا دعویٰ کرتا ہو۔
یہ بھی پڑھئے: حکومت مخالفین کو خاموش کرنے کیلئے ہرقانون اور حربہ استعمال کررہی ہے: سابق جج
دفعہ ۳۵۶ کے تحت ہتکِ عزت کے الزام پر عالم نے کہا کہ پولیس ایف آئی آر میں اس کا بالکل اطلاق نہیں کرسکتی، صرف وہی شخص جس کی ہتک ہوئی ہو مجسٹریٹ کے سامنے ذاتی شکایت درج کروا سکتا ہے یعنی خود پی ایم مودی کو یہ کیس درج کرانے کی ضرورت پڑے گی۔