Inquilab Logo

طلبہ میانہ روی سے کام لیں اور حکمت عملی کا مظاہرہ کریں،سیاست دان خواہ کتنا ہی اشتعال کیوں نہ دلائیں

Updated: October 01, 2023, 1:16 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

تعلیمی کیمپس کے نوجوانوں کو بہکانے، بھٹکانے اور اشتعال دلانے کیلئے لگ بھگ سارے سیاستداں مختلف ہتھکنڈے اپناتے رہتے ہیں۔

Our effort should be that we do not provoke anyone, nor provoke anyone. Photo: INN
ہماری کوشش یہی ہونی چاہئے کہ ہم نہ کسی کے اشتعال میں آئیں ، نہ کسی کو اشتعال دلائیں۔ تصویر:آئی این این

تعلیمی کیمپس کے نوجوانوں کو بہکانے، بھٹکانے اور اشتعال دلانے کیلئے لگ بھگ سارے سیاستداں مختلف ہتھکنڈے اپناتے رہتے ہیں۔ ہم اُن کی تفصیلات بیان کرنا چاہیں گے اور انہیں آگاہ بھی کریں گے کہ اس ضمن میں ہمارے نوجوانوں کی حکمت عملی کیا ہونی چاہئے تاکہ وہ اپنے اہداف سے بھٹکنے کی کبھی کوئی بھول نہ کرسکیں : 
 مسجدوں سے لاؤڈ سپیکر پر اذان
 اس ملک میں تنازعات کا ایک سبب ہے ہماری مساجد سے لائوڈ اسپیکر کی آواز۔ہمیں یاد پڑتا ہے آج سے چار دہائی قبل ہمارے محلوں اور چوپالوں پر یہ موضوع زیر بحث رہا کرتا تھا کہ کیا لاؤڈاسپیکر پر اذان جائز ہے۔اُن دنوں کچھ لوگوں نے اسے ایک شیطانی آلہ بھی قرار دے دیا تھا لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ اسپیکر پر اذان کیلئے ہم سرسے کفن باندھے تیار بیٹھے ہیں ۔ ہم نے برطانیہ میں دیکھا جہاں لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی اجازت نہیں ہے مگر وہاں پر ظہر و عصر کی نمازوں میں بھی (جب لوگ دفتروں میں مشغول رہتے ہیں )کئی مساجد میں بڑی بڑی آٹھ دس صفیں نمازیوں سے بھری رہتی ہیں۔ اسپیکر سے زیادہ وہاں پر موبائل پر’ اذان کے ایپ‘ زیادہ کامیاب ہو رہے ہیں ۔
گائے اوربیل کے ذبیحہ
 اس پر اکثریتی فرقے کے افراد بہت جذباتی ہیں ، جس میں شر کا پہلو ہی پوشیدہ ہے ، ورنہ کیا وجہ ہے کہ مہاراشٹر کی بی جے پی حکومت نے گائے کی ذبیحہ پر مکمل پابندی عائد کررکھی ہے جبکہ پڑوس کی ریاست گوا کی بی جے پی حکومت نے اس کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔اسے خوف ہے کہ ایسا کرنے سے گوا میں ٹورازم کے پیشے پر برا اثر پڑے گا۔ ہماری تھوڑی سی جرأت اس سیاست کو دفن کرسکتی ہے اگر ہم خود ہی حکومت سے یہ مطالبہ کرنے لگیں کہ گائے وبیل کے ذبیحہ پر مکمل پابندی عائد ہو جائے اور اس کا گوشت ایکسپورٹ بھی نہ ہو۔ خیال رہے کہ ڈبہّ بند گوشت کے ایکسپورٹ کے کاروبار میں اکثریتی فرقے کے افراد ہی وابستہ ہیں ،اسلئے سارے برآمدی کاروبار ٹھپ ہو جا ئیں گے۔ گائے بیل کے ذبیحہ کو ہندو مسلم مسئلہ بنا کر پیش کرتے ہیں تو قیامت آجاتی ہے۔ اُسے کاروباری مسئلہ بنا کر پیش کیا جائے تو حکومت کے ہوش ٹھکانے آسکتے ہیں۔
 ہمیں علم ہے کہ ذبیحہ میں ہماری قوم کے غریب افراد بھی وابستہ ہیں مگر کیوں اور کب تک؟ دوتین نسلیں اس پیشے سے وابستہ تھیں ، ٹھیک بات ہے ، اب کیوں ؟ تیسری چوتھی نسل اسکول میں کیوں نہ داخلہ لے، پڑھائی کرے، اعلیٰ تعلیم حاصل کرے؟ مویشیوں کا ذبیحہ کیا واحد پیشہ رہ گیا ہے؟ ہماری قوم کی نئی نسل تعلیمی دھارا میں کیوں شامل نہیں ہوتی ؟
فرقہ وارانہ کشیدگی
نوجوانو! فرقہ واران کشیدگی بھی ایک وجہ ہے۔ اس میں بلاوجہ کی شرانگیزی ہوتی ہے۔،لنچنگ ہوتی ہے، معاشی بائیکاٹ کا اعلان بھی ہوتا ہے مگر نوجوانو! یقین رکھئے کہ کسی بھی نظام میں اس طرح کی شر انگیزیاں مستقل نہیں ہوسکتیں ، کبھی نہیں! 
سوشل میڈیا
 ہمارے نوجوانوں کو اشتعال دلانے کیلئے شرپسندوں کے پاس نیا ہتھیار ہے، سوشل میڈیا۔ اس میں دین کا مذاق اُڑانے والے پوسٹ ڈالے جاتے ہیں ، ایک سوچی سمجھی شرانگیز ذہنیت کے تحت یہ سب کچھ ہوتا ہے۔اس ضمن میں بہت زیاد ہ شر پھیلانے اور دلآزاری کیلئے وہ کارٹون وغیرہ کا بھی سہارا لیتے ہیں ۔ ہمارے نو جوانوں میں سے کچھ لوگ آؤ دیکھتے ہیں نہ تا ؤ اور ان شرپسندوں کے دام میں آجاتے ہیں ۔ نو جوا نو!ہم قرآن کے حوالوں سے آپ کی رہنمائی کرنا چاہیں گے۔ قرآن کہتا ہے کہ ’’پچھلی کتابوں کے حاملین پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی تھی کہ وہ اپنی کتاب کی حفاظت کریں ‘‘ البتہ قرآن کے تعلق سے ارشادِربّانی ہے کہ ’’اللہ نے قرآن کو اتارا ہے اور اللہ ہی اس کی حفاظت کرنے والا ہے‘‘ جب اللہ ہی نے قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے تو ہمیں چاہئے کہ اپنے اعمال میں قرآن اور اس کی تعلیمات کو قائم کریں ، اس کیلئے راستے پر آ کر ہنگامہ آرائی کرنے کی ضرورت نہیں ۔ اس ضمن میں بھی قرآن سے رہنمائی لیجئے’’ سارے رسولوں کا مذاق اُڑایا‘‘دراصل ہمیں یہ رکھنا ہے کہ ابو جہل و ابو لہب ہر دَور میں رہے ہیں اور رہتے ہیں۔
  اس ضمن میں آج ہم ہمارے نو جوانوں کو ایک ایجنڈا دینا چائیں گے ۔ ہماری قوم کا ہر پڑھالکھا نو جوان اپنی زندگی میں اسلام کے ضمن میں کم از کم ایک ویب سائٹ کھولے اور اسے متحرک اور زندہ رکھے۔ دوسرے مذاہب اور ان کے عقائد کا مذاق اڑانے والا ایک بھی پوسٹ اس پر نہ ڈالیں کیوں کہ اس ضمن میں بھی قرآن نے رہنمائی کی ہے ’’ورنہ جہالت میں اور آپ کے خدا کو برا کہیں گے۔‘‘
 نوجوانو !اس ملک کے ایک بڑے مفکّر سوامی وویکانند کی بات بھی سُن لیں جو انھوں نے اپریل۱۸۹۱ء میں ایک عالمی ہندو کا نفرنس میں بنارس میں کہی تھی۔ اُنھوں نے کہا تھا کہ’’ اسلام کو کوئی مٹانہیں پائے گا، کیوں کہ ابھی تک اس کی آسمانی کتاب قرآن میں کوئی ملاوٹ نہیں ہوئی ہے۔‘‘ لہٰذا موجودہ دَور اور موجودہ ماحول میں بھی ہمیں گھبرانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ہم فہم و ادراک ، حاضر دماغی اور حکمت کو اپنا ہتھیار بنائیں۔ 
کالج کے کیمپس

ہمارے یہاں طلبہ کی تنظیمیں خصوصاً کالج کے کیمپس میں محترک نظر آتی ہیں ، البتہ انھیں چاہئے کہ وہ پورے اخلاص کے ساتھ صرف دو محاذ پر کام کریں (الف) تزکیۂ نفس اور (ب) تعلیمی ومعاشی ترقی۔ وہ سیاست دانوں کا آلۂ کار بننے سے گریز کریں ، کیوں کہ ہمارے سیاسی قائدین کا ایجنڈاہمیشہ سیاسی یعنی کاروباری ہی ہوتا ہے۔ وہ ایجنڈا بے غرض کبھی نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ اس تلاش میں رہتے ہیں کہ قوم کے غریب ، نادار، بے ہنر و بیکار نو جوانوں کو اپنا نوالہ بنا ئیں۔ 
دکھ درد میں شریک ہوں 
 قرآن نے اس قوم کو اگر خیر امّت سے مخاطب کیا ہے تو ہمیں اس کسوٹی پر پورا بھی اُترنا ہے۔ لہٰذا ہمارے نوجوانوں کو چاہئے کہ بلا لحاظ ذات و مذہب ہرایک کے دکھ درد کا شریک بنیں ۔یہ حسن اخلاق کسی ڈر و خوف کی بنا پر نہیں بلکہ اسلئے لازمی ہے کہ ہمارے دین کی اساس بس یہی ہے نیزہم مانتے ہیں کہ اسلام چونکہ توحید کا پیغامبر ہے اسلئے توحید پر کوئی سمجھوتہ نہیں ، مگر اس میں غلو یعنی زیادتی نہیں ہونی چاہئے۔
اقلیت میں ہونے کا تصوّر
 ہم میں سے کچھ لوگ ہمارے نو جوانوں کو ہمیشہ ہمارے اقلیت یا مائناریٹی ہونے کی ڈفلی سُناتے رہتے ہیں ۔ ہم ان سے کہنا چاہیں گے کہ وہ ذرہ اْس ’ما ئناریٹی‘ کا تصوّر کر لیں ۔ چند صحابہؓ ہمارے آخری نبیؐ کے ساتھ جمع ہو جاتے ہیں ، کوئی بادشاہت نہیں ، اقتدار نہیں سرمایہ نہیں ، چہار سوسخت قسم کی بلکہ جان لیوا مخالفت ، پھر بھی یہ عزم ، یہ کمٹمنٹ کہ بہر صورت اللہ کا آخری پیغام پہنچانا ہے۔ ہمارے نوجوانوں سے ہم یہ بھی کہنا چاہیں گے کہ اگر آپ کبھی حج یا عمرہ کو جائیں تو مکّہ معظمہ سے مدینہ کا سفردِن کے وقت میں کریں تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ اس تپتی دھوپ اورریت میں اس زمانے میں دین کا کام اُن چند عظیم نفوس نے کس طرح کیا ہو گا؟ وسائل نہ رسائل، ہرلمحہ جانی ومالی نقصان کا خطرہ اُس سے بڑا مائناریٹی کا تصوّر کر سکتا ہے کوئی؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK