ہمارے ہاں جس طرح زندگی کے باقی شعبوں سے دینی احکام پر عمل کرنے کا جذبہ اور دینی تعلیمات ہی کی روشنی میں سفرِزندگانی طے کرنے کا جوش ماند پڑ چکاہے، اسی طرح ترکہ و میراث کے باب میں بھی بے راہ روی اور غفلت کاری عروج پر ہے۔
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 5:15 PM IST | Maulana Ubaid Ur Rahman | Mumbai
ہمارے ہاں جس طرح زندگی کے باقی شعبوں سے دینی احکام پر عمل کرنے کا جذبہ اور دینی تعلیمات ہی کی روشنی میں سفرِزندگانی طے کرنے کا جوش ماند پڑ چکاہے، اسی طرح ترکہ و میراث کے باب میں بھی بے راہ روی اور غفلت کاری عروج پر ہے۔
ہمارے ہاں جس طرح زندگی کے باقی شعبوں سے دینی احکام پر عمل کرنے کا جذبہ اور دینی تعلیمات ہی کی روشنی میں سفرِزندگانی طے کرنے کا جوش ماند پڑ چکاہے، اسی طرح ترکہ و میراث کے باب میں بھی بے راہ روی اور غفلت کاری عروج پر ہے۔ یہ عام رجحان ہے کہ فوت ہونے والوں کا ترکہ یا تو سرے سے تقسیم ہی نہیں ہوتا یا اس میں شرعی ہدایات کو مدنظر نہیں رکھاجاتا،جس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ کچھ عرصہ بعد وارثوں کے درمیان نزاعات واختلافات کا ایسا سلسلہ شروع ہو جاتاہے جو بغض ونفرت، قطع رحمی وبے تعلقی، لڑائی واختلاف اور غیبت وبہتان وغیرہ پر منتج ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں چند باتیں پیش ہیں:
ترکہ ومیراث :شرعی ہدایات
جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو اس کی تجہیز وتکفین کی جائے،اس کے بعد اگر اس پر کسی کا کوئی مالی قرض یا دین ہو تو باقی ماندہ پورے ترکہ سے اس کی ادائیگی کردی جائے، پھرمرحوم نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو،تو ترکہ کے ایک تہائی مقدارسے اس کو پورا کیاجائے،ا س کے بعد جو کچھ ترکہ باقی بچے ،وہ کسی ایک وارث کا حصہ نہیں ہے، بلکہ تمام ورثاء کا مشترکہ حق ہے اور سبھی ورثاء اپنے اپنے مقررہ حصوں کے مطابق اس کے مالک ہیں اور سب کو چاہیے کہ بروقت اس کو تقسیم کرنے کا اہتمام کیاجائے۔
یہ بھی پڑھئے: محاسبہ کیجئے، کس کی غلطی ہے؟
ہمارا طرزِ عمل؟
اس وقت عام طور پر جو صورت حال رائج ہے، وہ یہ ہے کہ بروقت مرحوم کا ترکہ تقسیم نہیں ہوتا، بلکہ اس کی تمام تر چیزیں اپنی جگہ پڑی رہتی ہیں، تدفین اور تعزیت کی رائج رسوم سے فارغ ہوجانے کے بعد مختلف چیزیں جس کے ہاتھ میں آتی رہتی ہیں،وہ اس کو استعمال کرتارہتاہے، یہ نوبت بھی انہی افراد کو زیادہ حاصل ہوتی ہے جن کے ساتھ مرحوم کا رہن سہن ہوتاتھا اور جن کے گھر مرحوم کا چھوڑا ہواسامان پڑا رہتاہے۔ ایک عرصہ کے بعد جو چیزیں ایسی ہوتی ہیں، جن کا سر ِعام ریکارڈ نہیں رکھاجاتا، وہ جس وارث کے قبضہ میں آجائے،وہی اس کو اٹھاکر پاس رکھتاہے اور جو چیزیں عام ریکارڈ کی ہیں،مثال کے طور پر گاڑی، گھر، دکان اورزمین وغیرہ، وہ سرکردہ ورثاء استعمال کرتے رہتے ہیں،دوسرے ورثاء کو ان چیزوں کے استعمال کی نوبت ہی نہیں آتی۔ ایک عرصہ گزرنے کے بعد تمام وارثوں کے دلوں میں چہ می گوئیاں شروع ہوجاتی ہیں،جس کی وجہ سے مختلف دینی واخلاقی خرابیاں جنم لینا شروع ہوجاتی ہیں، لیکن بیٹھ کر شفافیت کے ساتھ تصفیہ کرنے میں اب بھی وقت درکار ہوتا ہے ۔
ترکہ تقسیم نہ کرنے کی وجوہات
ہم ایک سے زیادہ باراس بات پر سوچتے رہے کہ ہمارے ہاں ترکہ تقسیم نہ کرنے کی جو عام عادت جاری ہے،اس کی بنیاد کیا ہے؟ جب ہم اقراری مسلمان ہیں اور صرف مسلمان ہی نہیں، بلکہ اپنی اس مسلمان ہونے پر فخر وشکر بھی کرتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس موقع پر اہم دینی تعلیمات کی طرف معاشرے کا رخ سیدھا نہیں ہوتا، ؟ متعدد بار سوچنے کے باوجود بھی اس کی کوئی مضبوط بنیادنہیں مل سکی،بلکہ جہاں تک سوچا، دیکھا تو درج ذیل اسباب ہی کی وجہ سے کوتاہی برتی جاتی ہے:
الف:شرم وحیاء ۔ بہت سے افراد کیلئے یہ بات بڑے ہی ننگ وعار کا باعث ہوتی ہے کہ وہ اپنے مرحوم کا ترکہ وجائیداد تقسیم کریں یا اس کا مطالبہ کرلیں۔ کوئی اس کو اپنی روایتی غیرت و حمیت کے خلاف خیال کرتاہے تو کوئی یہ تصور کرتاہے کہ اس طرح کرنے سے لوگوں کی نگاہوں میں اس پر مختلف طرح کی حرف گیری پیدا ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: عزت، ذلت، زندگی اور معافی کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے
ب:اختلا ف اور قطع رحمی کاخوف۔ کوئی اس بہانے اس حکم کی ادائیگی سے رکتا ہے کہ اس کے خیال میں ایسا کرنے سے آپس کی رشتہ داری اور پیار ومحبت کی فضا ختم ہوجائیگی، اختلافات شروع ہوجائیں گے اور تقسیم کو یوں ہی مشترکہ حالت میں چھوڑ دیاجائے تو باہمی اتفاق برقرار رہے گا۔
ج:فقر واحتیاج کاخوف۔بعض لوگوں کے دل میں یہ بات بیٹھی ہوتی ہے کہ ترکہ تقسیم کرنے میں ان کا اپنا یا دیگر کسی وارث کا نقصان ہوگا ، تقسیم کے نتیجہ میں فقر واحتیاج کا شکار ہوجائے گا، وغیرہ۔