Inquilab Logo Happiest Places to Work

انسان کی سب سے بڑی قید بیرونی نہیں بلکہ اس کے اپنے ذہن کی بنائی ہوئی ہے

Updated: July 31, 2026, 9:44 PM IST | Ghulam Arif | Mumbai

گزشتہ صدی کے مشہور مفکر اور مقرر جے کرشنا مورتی کے افکار پر مشتمل کتاب ’دی بک آف لائف‘ کا ایک جائزہ، اس کتاب میں ۳۶۵؍ دنوں کیلئے مختلف عنوانات پر ان کے اقوال درج ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

بیسویں صدی میں ہندوستان کے مقبول مفکرین میں ایک نام جے کرشنامورتی (۱۹۸۶۔ ۱۸۹۵ء) کا بھی ہے۔ انھوں نے ایک بالکل منفرد اندازِ فکر پیش کیا۔ وہ نہ کسی مذہبی فرقے کے مبلغ تھے، نہ کسی سیاسی نظریے کے علمبردار اور نہ ہی کسی روحانی مکتبِ فکر کے بانی۔ کرشنامورتی کے مطابق انسان کی سب سے بڑی قید بیرونی نہیں بلکہ اس کے اپنے ذہن کی بنائی ہوئی ہے۔ مذہب، قوم، ذات، نظریہ، روایت، عقیدہ اور ماضی کی یادیں انسان کے ذہن کو اس طرح جکڑ لیتی ہیں کہ وہ حقیقت کو براہِ راست دیکھنے کے قابل نہیں رہتا۔ 
ہمارے پیش نظر ان کی تقریروں اور تحریروں کے اقتباسات پر مشتمل کتاب’ دی بک آف لائف‘ یعنی کتابِ زندگی ہے۔ کتاب میں ۱۲؍ماہ کے ناموں کے ساتھ ۳۶۵؍ دنوں کیلئے مختلف عنوانات پر کرشنامورتی کے اقوال درج کئے گئے ہیں۔ یعنی یہ’مراقبے کیلئے روزانہ کا مواد‘ ہے جس پر سوچنے والا قاری ہر روز غور و فکر کے سمندر میں غوطہ زن ہو سکتا ہے۔ نیکی اور بدی، انحصار، رشتے، ذہانت، جنون، خوشیاں، غم، خوف اور مراقبہ جیسے ۴۸؍ عنوانات شامل ہیں۔ 
جِدّو کرشنامورتی آندھرا پردیش کے مدناپلی میں پیدا ہوئے۔ کم عمری میں ہی تھیوسوفیکل سوسائٹی کی رہنما، اینی بیسنٹ نے جِدّو میں غیر معمولی صلاحیتیں دیکھیں اور انہیں اپنے ساتھ ولایت لے گئیں۔ وہاں ان کی خصوصی تربیت کی گئی۔ چند برسوں بعد لڑکپن ہی میں ان کی تقریروں کی مجالس منعقد کی جانے لگیں۔ تھیوسوفیکل سوسائٹی نے ان کو مغرب میں ایک غیر معمولی شخصیت کے طور پر پیش کیا۔ ان کے عقائد کے مطابق کرشنامورتی وہ عالمی روحانی استاد تھا جس کے وہ منتظر تھے۔ ان کے لیے ’آرڈر آف دی اسٹار‘ کے نام سے ایک عالمی تنظیم قائم کی گئی، جس میں ہزاروں افراد شامل ہوئے۔ لوگ ان کی باتوں کی گہرائی سے بہت متاثر ہوا کرتے تھے۔ لیکن ۱۹۲۹ءمیں کرشنامورتی نے ایک حیران کن قدم اٹھایا اوراس تنظیم کو تحلیل کرتے ہوئے اعلان کیا کہ سچائی ایک ایسی منزل ہے جس تک پہنچنے کی کوئی راہ نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مظاہروں پر آہنی شکنجہ، جوابدہی کا فقدان اور تیزی سے ختم ہوتی ہوئی جمہوریت

اصل آزادی
کرشنامورتی کے نزدیک انسان کی اصل غلامی بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہے۔ انسان اپنے خوف، خواہشات، یادداشت، تعصبات، مذہبی شناخت، قومی عصبیت اور ماضی کے تجربات کا قیدی بن جاتا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ جب تک انسان اپنے ذہن کے سوچنے کےعمل کو پوری دیانت داری سے نہیں دیکھتا، اس وقت تک حقیقی آزادی ممکن نہیں۔ ان کے نزدیک خود شناسی کتابیں پڑھنے سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ اپنے ذہن کا مشاہدہ کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ 
سچائی لمحہ بہ لمحہ پائی جاتی ہے
کرشنامورتی کا سب سے اہم تصور ’بے انتخاب آگہی‘ ہے۔ ان کے مطابق کسی چیز کو اچھا یا برا کہے بغیر دیکھنا اوراپنے غصے، حسد، خوف اور محبت کا غیر جانبدارانہ مشاہدہ کرناحقیقی مراقبہ ہے۔ ان کے نزدیک میڈیٹیشن یعنی مراقبہ کوئی مخصوص تکنیک نہیں بلکہ مسلسل بیداری کی ایک کیفیت ہے۔ کہتے ہیں کہ ’’سچائی کو جمع نہیں کیا جا سکتا۔ جو جمع ہوتا ہے وہ ہمیشہ تباہ ہوتا رہتا ہے۔ وہ مرجھا جاتا ہے۔ سچائی کبھی مرجھا نہیں سکتی کیونکہ وہ صرف لمحہ بہ لمحہ ہر سوچ میں، ہر رشتے میں، ہر لفظ میں، ہر اشارے میں، مسکراہٹ میں، آنسوؤں میں پائی جاسکتی ہے۔ آپ اور میں اسے ڈھونڈ سکتے ہیں اور اسے جی سکتے ہیں - ہم اگر ایسا کرتے ہیں تو ہم پروپیگنڈا کرنے والے نہیں بنیں گے۔ ہم تخلیقی انسان ہوں گے- کامل انسان نہیں، بلکہ تخلیقی انسان، جو کہ بہت مختلف ہے۔‘‘
مذہبی ذہن 
کرشنامورتی مذہب کے مخالف نہیں تھے بلکہ مذہبی اداروں کے مخالف تھے۔ مندر، مسجد، گرجا، گرو، پنڈت اور پادری کسی کے پاس حقیقت کی اجارہ داری نہیں۔ ہرانسان کو خود سچائی دریافت کرنی ہوگی۔ 
کرشنامورتی نے ہر قسم کی مذہبی قوم پرستی اور تہذیبی تفاخر سے فاصلہ رکھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ جب مذہب کو قومی یا ثقافتی شناخت کا ذریعہ بنا دیا جاتا ہے تو انسان کی آزادی محدود ہوجاتی ہے۔ اسی لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ہندو احیا پسندی، قوم پرستی یا ماضی پرستی کے اس رجحان کے منکرتھے جو قدیم مذہبی روایت کو سیاسی یا اجتماعی برتری کا وسیلہ بناتا ہے۔ ہندو، مسلم، عیسائی یا بدھ ہونا نفسیاتی شناختیں ہیں جو انسانوں کو بانٹتی ہیں۔ کسی بھی مذہب کی برتری کا احساس ذہنی تعصب کو جنم دیتا ہے۔ سچائی نہ ہندو ہے، نہ مسلمان، نہ مغربی اور نہ مشرقی؛ سچائی کسی تہذیبی یا مذہبی شناخت کی محتاج نہیں۔ ان کے نزدیک روحانی بیداری کا آغاز اسی وقت ہوتا ہے جب انسان اپنی تمام نفسیاتی شناختوں کو سمجھ کر ان سے آگے بڑھنے کی صلاحیت پیدا کرے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’مذہب نیکی کا احساس ہے، وہ محبت جو دریا کی مانند ہے، زندہ، لازوال، رواں ہے۔ اس حالت میں آپ دیکھیں گے کہ ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب کوئی تلاش باقی نہیں رہتی اور تلاش کا یہ اختتام کسی بالکل مختلف تجربے کا آغاز ہے۔ خدا کی جستجو، حق کی تلاش، اور سراسر نیکی کا احساس (نہ کہ نیکی یا انکساری کی مصنوعی پرورش) بلکہ اس حقیقت کی کھوج جو ذہن کی اختراعات، چالاکیوں اور فریب کاریوں سے ماورا ہو؛ یعنی اس حقیقت کا ذوق حاصل کرنا، اس میں جینا اور خود اسی کا مظہر بن جانا۔ یہی سچا مذہب ہے، لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب آپ اپنے ہی ہاتھوں کھودے ہوئے تالاب سے باہر نکلیں اور زندگی کے بہتے ہوئے دریا میں قدم رکھیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: وانگچک، ایس آئی آر اور امریکہ۔ ایران تنازع اس ہفتے اخبارات کی توجہ کا مرکز رہے

تعلیم اور سیکھنا
کرشنامورتی کے نزدیک تعلیم کا مقصد صرف روزگار حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک مکمل انسان پیدا کرنا ہے۔ رٹنے کے بجائے سوچنے کی تربیت، مقابلے کے بجائے تعاون، خوف کے بجائے اعتماد، امتحان کے بجائے شخصیت سازی پر زور دیا جانا چاہئے۔ ان کے مطابق دریافت کرنا اور سیکھنا دماغ کا کام ہے۔ کہتے ہیں کہ ’’سیکھنے سے میری مراد محض یادداشت کی نشوونما یا علم کا ذخیرہ نہیں، بلکہ یہ نام ہے وہم و گمان کے بغیر واضح اورعقلمندی سے سوچنے کی صلاحیت کا۔ حقائق سے آغاز کرنا ہے، پہلے سے فرض کردہ عقائد اور نظریات سے نہیں۔ ورنہ یہ عمل سیکھنا نہیں کہلایا جا سکتا۔ زیادہ تر لوگوں کے نزدیک موازنے کرنے سے سیکھنے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تقابل مایوسی کو جنم دیتا ہے اور محض حسد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جسے مقابلہ کہتے ہیں۔ قائل کرنے کی دوسری شکلوں کی طرح، موازنہ سیکھنے کے عمل کو روکتا ہے اور خوف پیدا کرتا ہے۔ ‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’جدید تعلیم عقل کو ترقی دے رہی ہے، زندگی کی زیادہ سے زیادہ وضاحتیں، نت نئےنظریات پیش کئے جا رہے ہیں لیکن انسیت و محبت کو ہم آہنگ کئے بغیر۔ اس لیے ہم نے تصادم سے بچنے کیلئے چالاک ذہن تیار کیے ہیں لہٰذا ہم سائنسدانوں اور فلسفیوں کی وضاحتوں سے مطمئن ہوجاتےہیں۔ عقل ان بے شمار وضاحتوں سے مطمئن ہے، لیکن دل نہیں۔ حقیقی سمجھ کی نمو کیلئے دل اور دماغ کا مکمل اتحاد ہونا چاہیے۔ ‘‘
مربوط اور جامع رہنمائی کا فقدان
ان کی تحریروں میں منظم استدلال اور فلسفیانہ اصطلاحات مفقود ہیں۔ دراصل ان کو فلسفی کہنے میں بھی تردد ہوتا ہے۔ ان پرتنقید کی گئی کہ ان کے افکار عملی سیاسی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے واضح رہنمائی فراہم نہیں کرتے۔ راقم الحروف تو محض ایک طالب علم ہے۔ وہ اس بات پر دلی ایمان رکھتا ہے کہ وحی اور پیغمبر، آگہی و ہدایت کے سب سے مستند ذرائع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کرشنامورتی کے افکار، اسے فرد اور سماج کی ہم آہنگی کے پہلو سے گنجلک اور مبہم نظر آتے ہیں۔ ہدایت تو آسان ہے اس کیلئےجو ہدایت کا طالب ہو۔ کرشنامورتی ’مکمل توجہ‘ کی بات کرتے ہیں، ہم’مکمل خود سپردگی‘ پر ایمان رکھتے ہیں۔ کرشنامورتی مذہب میں کسی بھی ظاہری طریقِ عبودیت کو رد کرتے ہیں۔ ہمارا موقف ہے کہ دینداری کو ریاکاری سے پاک ہونا چاہئے البتہ اجتماعی اورانفرادی ظاہری اعمال جو حقیقت کی تلاش کی جانب لے جائیں یقیناً اہم بلکہ ضروری ہیں۔ اگر ہم نظر آنے والی ہرشئے کو الیوژن یعنی ایک واہمہ تسلیم بھی کرلیں تب بھی پریگمیٹزم یعنی عملیت پسندی کو کیسے رد کریں۔ کرشنا مورتی کے مطابق اگر کہنے والا مکمل یکسوئی سے اپنی بات کہے اور سننے والا پوری توجہ سے سُنے تو الفاظ کی، بات کے متن کی اہمیت باقی نہیں رہتی۔ یہ ذرا گہری بات ہے۔ دو انسانوں کے درمیان ایسی روحانی ہم آہنگی کے امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن عملی پہلو سے دنیا داری کیلئےاس طرح کا کمیونی کیشن کیسے ممکن ہے؟
ہاں البتہ کرشنامورتی بڑے مفکر اور اس سے زیادہ بڑے مقرر ہیں۔ نرم لہجہ اور موثر ترین انداز بیان! ان کی یہ بات بالکل سچ ہےکہ شعوری تبدیلی ہی سماجی تبدیلی کی بنیاد ہے۔ اگر انسان اندر سے تبدیل نہ ہو تو کوئی بھی سیاسی یا مذہبی نظام دیرپا امن قائم نہیں کر سکتا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK