• Sun, 18 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شرپسندوں کے آگے جھکنے سے ملک کمزور ہو رہا ہے

Updated: January 18, 2026, 4:10 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai

جموں میں ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی منظور ی کو واپس لینے کے فیصلے نے ثابت کردیا ہے کہ ہمارا انتظامیہ ہندوتوا وادیوں کے دباؤ میں ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

نئے سال کے آغاز ہی میں جموں میں شر پسندوں کی ایک ایسی سازش کامیاب ہو گئی جس نے نہ صرف سسٹم کی لاچاری کو ظاہر کیا بلکہ مذہبی منافرت کی بنیاد پر سماج کو تقسیم کرنے والے عناصر کے حوصلوں اور ارادوں کو ایسی تقویت عطا کی کہ وہ اپنی کامیابی کا جشن منا کر قانون کی حکمرانی کے تصور کو سبوتاژ کرتے نظر آئے۔ کٹر پسندہندوتوا کی حمایت کرنے والے عناصرکے اس جشن نے ان آئینی التزامات کی بھی دھجیاں اڑا دیں جو بلا امتیاز ہر ہندوستانی شہری کو بشمول تعلیم زندگی کی دیگر بنیادی ضرورتوں کی فراہمی کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں ۴۲؍ مسلمان طلبہ کا ایم بی بی ایس میں داخلہ ان شرپسندوں کو ہضم نہیں ہوا جو تعلیم اور روزگار کی ہر سطح پر صرف اپنے ہم مذہب افراد کی اکثریت دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان شرپسندوں نے اپنے سازشی منصوبوں کے ذریعہ نہ صرف ان طلبہ کو تذبذب میں مبتلا کر دیا ہے جنھوں نے سخت محنت کے بعد نیٹ جیسا مشکل امتحان پاس کیا بلکہ سسٹم میں اپنے رسوخ (بیجا) کے ذریعہ ان ضوابط کو بھی بے معنی کردیا جو میڈیکل کورسیز میں داخلہ کیلئے حکومت نے طے کئے ہیں۔ 
جموں کے جس میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کے کورس کو نیشنل میڈیکل کونسل نے منسوخ کردیا ہے وہاں اس کورس کو شروع کرنے کا اجازت نامہ اسی کونسل نے کچھ ماہ قبل ہی دیا تھا۔ کونسل اپنے فیصلے کے دفاع میں کالج میں مختلف سطحوں پر بدانتظامی اور طلبہ کیلئے غیر اطمینان بخش سہولیات کا جو بھی جواز پیش کرے سچائی یہی ہے کہ اس کورس میں جتنے طلبہ کو داخلہ ملا تھا، ان میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی اور یہ سچائی شرپسندوں کو ناقابل قبول تھی۔ اس کالج میں جن مسلم طلبہ کو داخلے کا اہل پایا گیا انھیں کالج انتظامیہ یا حکومت نے کوئی ایسی اضافی سہولت نہیں دی تھی جس کی بنا پر یہ کہا جا سکے کہ دیگر طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ ان تمام طلبہ نے اپنی محنت کے دم پر نیٹ پاس کیا تھا اورمیرٹ کے ساتھ اس مرحلے سے گزرنے کے بعد یہ ان کا حق تھا کہ انھیں ایم بی بی ایس میں داخلہ ملے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ شرپسندوں کے آگے سسٹم کی خودسپردگی نے انھیں اس حق سے محروم کر دیا۔ 
اس افسوس ناک صورتحال نے بہ یک وقت کئی سوالوں کو جنم دیا ہے جن میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جو طلبہ محنت اور مشقت کر کے تعلیمی شعبے میں نمایاں کارکردگی انجام دینے اور روشن مستقبل کیلئے ناگزیر اسباب و وسائل کی حصولیابی کا عزم لے کر آگے بڑھنے کا خواب دیکھتے ہیں کیا ان کا یہ خواب مذہبی منافرت کی بنیاد پر سماج کو تقسیم کرنے والے شرپسندوں کے ذریعہ صرف اسلئے ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا کہ یہ طلبہ ان کے ہم عقیدہ نہیں ہیں ؟ جموں کے افسوس ناک واقعے سے یہی تاثرپیدا ہوتا ہے اور ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں تعلیم کے حوالے سے اس تاثر کا پیدا ہونا صریح طور پر ان عوامی حقوق کی پامالی ہے جن کے تحفظ کو آئین نے لازمی قرار دیا ہے۔ 
اس طرح کے فیصلے نہ صرف آئینی التزامات کی صریح خلاف ورزی ہیں بلکہ اس سے وہ دعوے بھی بے حقیقت ہو جاتے ہیں جن میں ملک کو ان ترقی یافتہ ممالک کا ہمسر بنانے کی بات کی جاتی ہے جو ممالک تعلیم کے حوالے سے امتیازی شناخت رکھتے ہیں۔ تعلیمی شعبے میں نمایاں کارکردگی کیلئے جو فہم و دانش درکار ہے اس پر کسی خاص مذہب کا اجارہ نہیں ہے بلکہ فہم و دانش کی اس سطح تک رسائی اسے ہی حاصل ہوتی ہے جو اپنی ذہنی جودت کو جلا بخشنے کی ریاضت میں منہمک ہوتا ہے۔ جموں کے مسلم طلبہ نے بھی نیٹ کا مشکل امتحان اسی ریاضت کے دم پر پاس کیا تھا لیکن شرپسندوں کی دیدہ دلیری اورسسٹم کی لاچاری نے ان کی محنت کی پذیرائی جس انداز میں کی ہے وہ یقینی طور پر مہذب سماج کیلئے ایک بدنما داغ ہے۔ 
کالج میں ایم بی بی ایس کورس کو بند کرنے کے نیشنل میڈیکل کونسل کے فیصلے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے اصول و ضوابط کے نام پر یہ ادارے کسی بھی طرح کا فیصلہ صادر کر دینے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتے حتیٰ کہ محض چار ماہ کی مدت میں دئیے گئے فیصلوں میں واضح تضاد ہی کیوں نہ ہو۔ حالانکہ اس کالج کے طلبہ نے آن ریکارڈ یہ بات کہی ہے کہ یہاں طلبہ کیلئے جس معیار کی سہولتیں ہیں وہ بہت کم کالجوں میں میسر ہوتی ہیں۔ دراصل یہ معاملہ اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کا ہے بھی نہیں بلکہ اگر گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک کے تعلیمی اداروں کے مزاج میں در آنے والی تبدیلی کو پیش نظر رکھا جائے تو بہ آسانی یہ کہا جا سکتا ہے کہ دھارمک کٹر پسندی کو بڑھاوا دینے والے عناصر ان اداروں میں وسیع پیمانے پر دخیل ہو گئے ہیں جو صرف اپنے ہم عقیدہ افراد ہی کو کامیاب ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں خواہ ان افراد کے اندر اس کامیابی کو سہار پانے کی صلاحیت ہو یا نہ ہو۔ تعلیمی شعبے میں یہ امتیازاب ہر سطح پر دیکھا جا سکتا ہے جو نہ صرف معاشرہ کو انتشار میں مبتلا کرسکتا ہے بلکہ اس سے ملک کی ترقی کے وہ اقدام بھی یقینی طور پر متاثر ہوں گے جن کے دم پر وشو گرو بننے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK