• Sun, 18 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ سے ایران تک اقوام ِ عالم کا دہرا معیار، عالمی نظام کی تباہی کا مظہر

Updated: January 18, 2026, 6:08 PM IST | Asim Jalal | Mumbai

غزہ میں  ۷۱؍ ہزار سے زائد اموات پر بھی اسرائیل کا تعاون کرنےوالی طاقتوں  کا ایران میں  مظاہروں کی حمایت، انہیں  بھڑکانے کی کوشش اور تختہ پلٹنے کی ان کی ایما بہت کچھ بیان کردیتی ہے۔

Demonstrations in support of Iran were also held in Amsterdam, the capital of the Netherlands. Photo: INN
ایران کی حمایت میں نیدرلینڈز کی راجدھانی ایمسٹرڈمیں بھی مظاہرے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

ایران میں کرنسی کی قدر میں  غیر معمولی گراوٹ کے خلاف تاجروں   کا معمول کا احتجاج جس نےبعد میں  پرتشدد رخ اختیار کرلیا، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے عوام واقعی پریشان ہیں  ۔ ان کی اس پریشانی کی وجہ ایرانی حکومت کم اور بین الاقوامی برادری زیادہ ہے جس نے تہران پر معاشی پابندیاں  عائد کررکھی ہیں۔ یہ پابندیاں عالمی نیوکلیائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی جانچ میں  اس تصدیق کے باوجود عائد ہیں  کہ ایران نیوکلیائی ہتھیار نہیں  بنارہاہے۔ خود اسلامی جمہوریہ بار بار یقین دہانی کرواچکا ہے کہ اس کا ارادہ نیوکلیائی ہتھیار بنانے کا نہیں  ہے تاہم وہ پرامن مقاصد کیلئے نیوکلیائی پروگرام کے اپنے جائز حق سے دستبردار نہیں  ہوگا۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ جن طاقتوں  کو ایران کے نیوکلیائی ہتھیار بنالینے کا اندیشہ بھی قابل قبول نہیں   وہی عالمی طاقتیں اسی خطے میں  اسرائیل کےغیر قانونی نیوکلیائی ہتھیاروں  کو اپنی خاموشی کی شکل میں  منظوری فراہم کررہی ہیں۔ 
 بہرحال بات مظاہروں  کی ہورہی تھی۔ اس میں  کوئی شک نہیں کہ یہ مظاہرے تاجروں  نے معاشی پریشانیوں  سے تنگ آکر شروع کئے تھے جنہیں  خود ایرانی حکام نے بھی تسلیم کیا اور مظاہرین سے گفتگو نیز ضروری اقدامات کی یقین دہانی بھی کرائی مگر وہ مظاہروں  پر قابو پانے میں ناکام رہی۔ مظاہرے جس تیزی سے پھیلے اور عالمی برادری بطور خاص امریکہ نے جتنا زیادہ ان میں دلچسپی دکھائی اورانہیں  حکومت کا تختہ پلٹنے کے جواز کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی اس سے یہ واضح ہوگیا کہ مظاہروں  کو ایندھن بیرونی عناصر فراہم کررہے ہیں۔ بعد میں  مظاہرین کی حمایت میں   اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سوشل میڈیا پوسٹ اوراس میں  اِس اعلان نے کہ زمین پر وہ مظاہرین کے ساتھ ہے، اس بات کی تصدیق کردی کہ یہ مظاہرے پُرتشدد ہوئے نہیں، کئے گئے۔ اس کی مزید تصدیق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے وقفہ وقفہ سے آنےوالے بیانات اور دھمکیوں   سے بھی ہوگئی۔ یعنی ایرانی معاشرہ میں  اسرائیلی جاسوس اور غدار غیر معمولی حد تک سرائیت کر چکے ہیں۔ یہ تہران کی کھلی ناکامی ہے اوراسے اس جانب جنگی پیمانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیوں  کہ یہی جاسوس ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی تقریب حلف برداری کے موقع پر حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کے قتل کا سبب بنے تھے۔ 
اس میں  کوئی شک نہیں  کہ ایران اس وقت اپنی تاریخ کے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ مظاہروں  کے قابو میں  آنے اور حکومت حامی عوام کے سڑکوں  پر اترنے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ کی دھمکیوں   میں  کمی آگئی ہے تاہم خطرہ اب بھی برقرار ہے۔ ایک طرف اندرونی سطح پر شدید معاشی دباؤ اور مہنگائی نے عوام میں بے چینی کو جنم دیا ہے تو دوسری طرف عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ کی کھلی مداخلت کے خطرات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ ایسے میں  معمر قذافی کی بیٹی عائشہ قذافی کا ایران کے عوام کے نام پیغام غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کی بات محض جذباتی اپیل نہیں بلکہ تاریخ کے تلخ تجربے کا نچوڑ ہے۔ انہوں نے ایران کے عوام کومتنبہ کیا ہےکہ مغربی طاقتوں، خاص طور پر امریکی سامراج، کی خوش کن باتوں اور وعدوں کے فریب میں نہ آئیں۔ انہوں  نے یاد دہانی کرائی ہے کہ قذافی نے جوہری اور میزائل پروگرام ترک کر کے مغرب سے مفاہمت کا راستہ اپنایا تھا مگرانجام نیٹو کی بمباری پر ہی ہوا جس نے نہ صرف قذافی کی حکومت کو ختم کیا بلکہ لیبیا کو تباہی کے دلدل میں  دھکیل دیا۔ 
یہ کیسا طرفہ تماشا ہے کہ جو مغربی ممالک اوران کا میڈیا  اسرائیل کے ظالمانہ حملوں  میں غزہ کے کھنڈر میں تبدیل ہو جانے اور ۷۰؍ ہزار سے زائد افراد کے جام شہادت نوش کرلینے پر نہ صرف خاموش تماشائی بنارہا بلکہ ا سرائیل کی تائید کرتا رہا اور ہلاکتوں سے متعلق فلسطینی حکام کے دعوؤں  کو شبہ کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اسی مغرب کیلئے ایرانی مظاہروں  میں  ’’ہزاروں   ہلاکتوں ‘‘ کے تعلق سے’’ذرائع ‘‘ کے حوالے سے ملنے والی خبریں   اس قدر ’’مصدقہ‘‘ ہوگئیں  کہ انہیں   ایران پر ممکنہ حملہ کے جواز کیلئے استعمال کیا جانے لگا۔ وینزویلا کے صدر مادورو کو ان کے ملک میں  گھس کر غیر قانونی فوجی کارروائی کے ذریعہ گرفتار کرلینے کے بعد سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ گاؤں  کے کسی ’’لٹھیت‘‘ جیسا برتاؤ کر رہے ہیں۔ کیوبا، کولمبیا اور برازیل کو دھمکیاں دینےا ور گرین لینڈ پر قبضہ کی رٹ کےبیچ انہوں  نے ایران کو بھی اسی لاٹھی سے ہانکنے کی کوشش کی ہے۔ اس پورے منظر نامہ میں  اقوام متحدہ کے نام پر واضح خلاء نظر آرہا ہے۔ وہ ہے مگرکہیں  نہیں   ہے۔ موجودہ حالات میں عالمی نظام کو منضبط کرنے کے نام پر اس کا وجود کسی بھونڈے مذاق سے کم نہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK