وہ کارپوریٹر ہو یا پھر میونسپل کونسلر، جمہوری اکائی میں سب سے قابلِ رسائی چہرہ ہوتا ہے۔ وارڈ میں رہتے ہوئے وہ روزمرہ کے مسائل سے نمٹتا ہے جن تک اعلیٰ سطح کے نمائندے شاذ و نادر ہی پہنچتے ہیں۔ وہ مسائل کی نشاندہی کرتا ہے، حل کیلئے راستے تلاش کرتا ہے، میونسپل کارپوریشن اورکونسل کے فنڈز کی تقسیم پر نظر رکھتا ہے اور اہم کمیٹیوں کے ذریعے بجٹ، ٹھیکوں اور ترجیحات پر اثر انداز ہوتا ہے، لیکن وہ یہ کام اسی وقت ذمہ داری سے کرپاتا ہے جب شہری اس کے کاموں کی مناسب انداز میں نگرانی کرتے ہیں۔
بی ایم سی کا صدر دفتر۔ تصویر: آئی این این
مہاراشٹر کے شہری انتخابات ابھی اختتام پزیر ہوئے ہیں جن کے نتائج دور رس ثابت ہونے والے ہیں۔ یہی پہلے ہی سے شہری محلّوں کی صورتِ حال کو نئی شکل دے رہے ہیں۔ ممبئی کی برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کی ہائی پروفائل لڑائی سے لے کر پونے، ناگپور، مالیگاؤں ، بھیونڈی اور دیگر شہروں میں اس بار بہت کچھ ایسا ہوا جو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ نتائج کے بعد ٹی وی چینلوں اور اخبارات کی سرخیوں کے ساتھ ہی کارپوریشنوں کی نشستوں کی گنتی کے شور میں ایک حقیقت بالکل واضح ہے کہ مقامی حکمرانی ہماری روزمرہ زندگی کو کسی بھی قومی بحث کے مقابلے میں کہیں زیادہ گہرائی سے متاثر کرتی ہے۔
جب ہم حقوق کی بات کرتے ہیں خصوصاً اقلیتوں کے طور پرتو گفتگو اکثر پارلیمنٹ، سپریم کورٹ یا دہلی کے اقتدار کے مراکز تک جا پہنچتی ہے، مگر ایک شہر اور ایک سماج کی سب سے فوری اورمسلسل موجودگی نہ ریاستی منترالیہ میں ہوتی ہے، نہ ہی قومی راجدھانی میں۔ وہ تو ہمارے محلے کی میونسپل کارپوریشن ہوتی ہے۔ ہماری سڑکوں کی حالت، پینے کے پانی کا معیار، صفائی ستھرائی کی کارکردگی، مقامی اسکولوں اور اسپتالوں کی کیفیت، بازاروں کی رونق، گلیوں کی سلامتی اور حتیٰ کہ قبرستانوں کا وقار... یہ سب فیصلے دور بیٹھے قانون ساز ایوان نہیں کرتے بلک یہ ساری ذمہ داریاں براہِ راست ہمارے منتخب کارپوریٹروں اور شہری اداروں کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔
مہاراشٹر کے شہریوں بالخصوص اس کے چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں رہنے والے مسلمانوں کیلئے، میونسپل کارپوریشنوں میں موجود حقوق اور ذمہ داریوں کو سمجھناکوئی معمولی انتظامی بات نہیں ہے۔ یہ ذاتی وقار، سماجی فلاح و بہبود، اور سماجی انصاف کی روزمرہ جدوجہد کیلئے نہایت اہم اورضروری ہے۔
مقامی سطح پر ہمارے حقوق
مہاراشٹر میونسپل کارپوریشنز ایکٹ، ۱۹۴۹ء کے تحت یہ ادارے ہر رہائشی کوبلا لحاظ مذہب، ذات یا سیاسی وابستگی واضح شہری حقوق کی ضمانت دیتے ہیں۔ ان حقوق میں بنیادی سہولیات شامل ہیں جیسے، پینے کیلئے صاف ستھرا پانی، مؤثر نکاسیٔ آب اور کچرے کی صفائی کا مناسب نظم و نسق، قابل استعمال سڑکیں، پختہ راستے اور قابلِ رسائی عوامی ٹرانسپورٹ۔ عوامی صحت کے ڈھانچے میں میونسپل اسپتال، ڈسپنسریاں، زچہ و بچہ مراکز اور بیماریوں سے بچاؤ کے دیگر پروگرام شامل ہیں۔ تعلیم اور کمیونٹی سہولیات میں میونسپل اسکول، لائبریریاں، کھیل کے میدان، ہال اور کھلے عوامی مقامات بھی آتے ہیں۔
مسلم محلّوں میں یہی نظام قبرستانوں کی دیکھ بھال، مساجد تک بلا رکاوٹ رسائی اور دکانوں، ریڑھی والوں اور چھوٹے کاروباروں کیلئے منصفانہ لائسنسنگ کی فراہمی کو یقینی بناتا ہےتاکہ امتیاز کے بغیر معاشی شرکت کا تحفظ ہو سکے۔
سب سے زیادہ بااختیار بنانے والے حقوق شفافیت اور عوامی شرکت سے متعلق ہیں جیسےمیونسپل ریکارڈ کا معائنہ کرنا، وارڈ کمیٹی کی میٹنگوں میں شرکت کرنا، شکایات درج کرانا، حقِ اطلاعات (آر ٹی آئی) قانون کے تحت معلومات طلب کرنا اور افسران و عوامی نمائندوں سےان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے جوابدہی کا مطالبہ کرا۔
یہ اوپر دیئے گئے نکات کسی پر کوئی احسان نہیں ہیں، بلکہ وہ حقوق ہیں جو ہم شہریوں کی جانب سے ادا کئے جانے والے مختلف ٹیکسوں، جیسے جائیداد ٹیکس، پانی کے بل اور دیگر محصولات سے حاصل ہونے والے وسائل اور آمدنی کے ذرائع سے ملتے ہیں۔
نظام کو برقرار رکھنے والی ذمہ داریاں
حقوق اسی وقت قائم و دائم رہتے ہیں جب ان کے ساتھ ذمہ داری کا احساس بھی ہو۔ بلدیاتی نظام اس وقت کامیاب ہوتا ہے جب شہری محض تماشائی بن کرلا تعلق نہ رہیں بلکہ سرگرمی کے ساتھ تعاون کریں اور فعال رہیں۔ بنیادی ذمہ داریوں میں بروقت ٹیکس اور واجبات کی ادائیگی، اطراف کی صفائی کا خیال رکھنا، کچرے کی الگ الگ تقسیم (سیگری گیشن)، فٹ پاتھوں یا سرکاری زمین پر ناجائز قبضوں سے گریز، اور قانونی ذرائع کے ذریعے اپنی بات رکھنا شامل ہے۔ ہجوم کے دباؤ یا معمولی امور کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے نظم و ضبط اور کمیونٹی کی تنظیم کی اجتماعی آواز کو مضبوط بناتے ہیں۔ وہ محلّے جو صفائی مہم چلاتے ہیں، ترقیاتی کاموں کی نگرانی کرتے ہیں اور شہری شعور کو فروغ دیتے ہیں، وہ اگر مسلسل بہتر سہولتیں حاصل کرتے ہیں تو اس کی وجہ مستقبل عوامی شرکت اور باخبری ہوتی ہے۔ یہ کام سفارش اور جانبداری سے ممکن نہیں ہے۔
کارپوریٹر:جمہوریت کی قریب ترین کڑی
وہ کارپوریٹر ہو یا پھر میونسپل کونسلر، جمہوری اکائی میں سب سے قابلِ رسائی چہرہ ہوتا ہے۔ وارڈ میں رہتے ہوئے وہ روزمرہ کے مسائل سے نمٹتا ہے جن تک اعلیٰ سطح کے نمائندے شاذ و نادر ہی پہنچتے ہیں۔ وہ مسائل کی نشاندہی کرتا ہے، حل کیلئے دباؤ ڈالتا ہے، وارڈ فنڈز کی شفاف تقسیم کو یقینی بناتا ہے، مستحقین تک اسکیموں کی رسائی دیکھتا ہے، اور اہم کمیٹیوں کے ذریعے بجٹ، ٹھیکوں اور ترجیحات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ لیکن وہ یہ کام اسی وقت ذمہ داری سے کرپاتا ہے جب شہری اس کے کاموں کی مناسب انداز میں نگرانی کریں۔ اندھی وفاداری خواہ وہ مذہبی ہو یا جماعتی، جوابدہی کو کمزور کر دیتی ہے۔ ووٹ مل جانے کا مطلب زندگی بھر کی تائید نہیں ہوتی بلکہ نمائندوں سے حساب لینا ہی جمہوری پختگی کی علامت ہے۔
خاموشی کیوں ؟ خود احتسابی کی ضرورت
غفلت یا جانبداری کی بار بار شکایات کے باوجود بہت سے شہری اپنے شہری حقوق کے حصول میں غیر فعال بلکہ غیر سنجیدہ رہتے ہیں۔ اداروں پر تاریخی عدمِ اعتماد، جنہیں اکثر غیر جوابدہ سمجھا جاتا ہے، لوگوں کو ٹکراؤ کے بجائے کنارہ کشی اور لاتعلقی کی طرف لے جاتا ہے۔ شہری شعور کی کمی بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے: شہری قوانین پر مساجد، مدارس یا سماجی فورمز میں شاذ و نادر ہی گفتگو ہوتی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ سیاسی توجہ زیادہ تر انتخابی موسم تک محدود رہتی ہے۔
اس کے علاوہ اندرونی تقسیم جیسےذات، مسلک، سیاسی وابستگیاں اور ذاتی رقابتیں ، یہ ہمارےمتحدہ عمل کو پارہ پارہ کر دیتی ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان دہ وہ خاموش مایوسی ہے جس کے تحت یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ’’کچھ بھی نہیں بدلے گا‘‘ اسلئے ہاتھ پیر مارنے کا کیا فائدہ ہے۔
مگر شواہد اس مایوسی کی تردید کرتے ہیں۔ ممبئی میں وارڈ کمیٹیوں نے پانی اور سڑکوں کے مستقل مسائل حل کئے ہیں۔ پونے کے مسلم محلّوں نے ’زیرو ویسٹ‘ مہمات میں کامیاب شراکت کی ہے۔ ناگپور کی کمیونٹیز نے مشترکہ صحت نگرانی کے ذریعے ڈینگی کے پھیلاؤ کو کم کیا ہے۔ مطلب یہ کہ باخبر اور متحد شہری، نظام کو جواب دہ بناتے ہیں۔
دور سے ملنے والی ترغیب
دنیا بھر میں منظم شہری دباؤ تبدیلی لاتا ہے۔ جنوبی افریقہ میں رہائشی بجٹ کا آڈٹ کرتے ہیں اور ناکام کونسلوں کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہیں۔ ترکی میں محلّہ کمیٹیاں زوننگ اور خدمات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ یورپ میں شہری گروہ کچرے کا نظم و نسق، سڑکوں کی مرمت اور پانی کے معیار کی نگرانی کر کے جواب دہی نافذ کرتے ہیں۔
ہندوستان میں پونے اور اندور جیسے شہر وارڈ سطح کی فعال شرکت اور نگرانی کے باعث نمایاں طور پر تبدیل ہوئے ہیں۔ مطلب یہ کہ عوامی شمولیت ہر جگہ کام کرتی ہے، اس کی ایک نہیں بہت ساری مثالیں ہیں جو دور دراز بھی ہیں اور ہمارے آس پاس بھی۔ ملک میں ان دونوں ہی شہروں کی شناخت برسوں سے صاف ستھرے شہر کی ہے۔
ایک احساس، اپنی جگہ کی بازیافت
مہاراشٹر کے شہروں میں مسلمانوں کیلئے میونسپل سطح پر شمولیت محض گڑھوں کی مرمت یا نالیوں کی صفائی تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ شناخت، وقار اور اُن مقامات پر مساوی شہریت کے حصول کا بھی سوال ہے جہاں ہم رہتے ہیں۔ جب کمیونٹیز پیچھے ہٹتی ہیں تو فیصلے ان کی غیر موجودگی میں ہوتے ہیں اورایسے میں اکثر فیصلے ان کے مفادات کے خلاف ہوتے ہیں۔
میونسپل کارپوریشنیں قومی سطح کے بڑے بیانیوں کے مقابلے میں بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہیں، مگر ہماری روزمرہ زندگی کی ساخت و صورت پر ان کا اثر کسی بھی تقریر یا نعرے سے کہیں زیادہ براہِ راست ہوتا ہے۔ حقیقی بااختیاری جلسوں یا خطابت سے نہیں، بلکہ مسلسل اور باخبر شرکت سے جنم لیتی ہے۔ یہ کام ہم وارڈ میٹنگوں میں حاضری کے ذریعے، آر ٹی آئی درخواستوں کے ذریعے، صفائی مہمات میں حصہ لے کر، اور کارپوریٹروں سے جوابدہی کا مطالبہ کر کے کرسکتے ہیں۔
جمہوریت اُن اقلیتوں کو کمزور نہیں کرتی جو اس کے ساتھ جڑتی ہیں بلکہ وہ اُنہیں کمزور کرتی ہے جو اسے ترک کر دیتی ہیں۔ جیسا کہ امریکی ماہرِ بشریات مارگریٹ میڈ نے کہا تھا کہ’’اس بات پر کبھی شک نہ کریں کہ باشعور اور پُرعزم شہریوں کا ایک چھوٹا سا گروہ دنیا کو بدل سکتا ہے بلکہ یہ ایک واضح حقیقت یہ ہے کہ دنیا کو ہمیشہ اسی نے بدلا ہے۔ ‘‘
ان شہری انتخابات کے بعد، کامیابی کا اصل پیمانہ صرف یہ نہیں ہوگا کہ کون نشستوں پر فائز ہوا، کس سیٹ پر کون کامیاب ہوا اور کہاں کس کی حکمرانی قائم ہوئی بلکہ یہ کہ ووٹوں کی گنتی کے طویل عرصے بعد بھی کون لوگ سرگرم ہیں اور ایک باخبر شہری حیثیت سے اپنے مسائل سے جڑے رہتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہیں۔