• Sun, 30 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ان شاہین بچّوں کو بال و پَر دے !

Updated: November 30, 2025, 5:31 PM IST | Mubark Kapdi | Mumbai

پونے شہر کا شنیوار واڑہ اُن تین دہشت گردوں کا اڈّا تھا جہاں وہ لگ بھگ ہر شام ملتے تا کہ آزادیٔ ہند کے سب سے بڑے رہبر مہاتماگاندھی کو قتل کرنے، آزادیٔ ہند کی تحریک کو سبوتاژ کرنے اور ہندو مسلم فسادات کی آگ میں ملک کو جھونکنے کے منصوبے تیار کئے جائیں۔

In the current situation, students need to be extremely careful and not be misled by anyone. Picture: INN
موجودہ حالات میں طلبہ کو حد درجہ محتاط رہنے اور کسی کے بہکاوے میں نہ آنے کی ضرورت ہے۔ تصویر:آئی این این
پونے شہر کا شنیوار واڑہ اُن تین دہشت گردوں کا اڈّا تھا جہاں وہ لگ بھگ ہر شام ملتے تا کہ آزادیٔ ہند کے سب سے بڑے رہبر مہاتماگاندھی کو قتل کرنے، آزادیٔ ہند کی تحریک کو سبوتاژ کرنے اور ہندو مسلم فسادات کی آگ میں ملک کو جھونکنے کے منصوبے تیار کئے جائیں۔ اُن میں سے ایک ونائک دامو در ساور کرنے تو کئی برس تک ہندو مسلم دو الگ قومیں ہیں، کا اعلان کر کے کھلے عام دو قومی نظریے کو پیش کیا تھا۔ شاعر مشرق اقبال نے صرف ایک آئیڈیل (ملک نہیں بلکہ) ریاست کی بات کہی تھی اور وہاں بسنے والا ہرنوجوان اُن کے تخیل کے پرندے شاہین جیسا ہو۔ ہمارے ملک کے شاطر و فرقہ پرست افراد اور سرحد پارکے ناکام سیاست دانوں نے اسی شاہین کو تقسیم کا ذمہ دار قرار دیا جو محض ایک بہتان ہے۔ اقبال کا پیش کیا گیا شاہین، خود شناسی، خود داری ،بلند پردازی ، قلندری اور بے نیازی کی صفات سے معمور تھا جس کا مقصد خصوصاًنو جوانوں میں جد و جہد، سخت کوشی اور عمل و حرکت کے اوصاف پیداکرنا تھا۔  
نوجوانو! شاعر مشرق نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ اُن کے تخیّل کے پرندے شاہین کو اُن کی قوم سمجھ ہی نہیں پائے گی۔نوجوان نہیں، بڑے بزرگ نہیں بلکہ اساتذہ بھی اقبال کے تخیّل تک رسائی نہیں کر پائیں گے اور بدبختی سے یہی ہوا۔ اقبال نے لکھا:’’ کیا میں نے اُس خاک داں سے کنارہ‘‘ تو ہمارے چند اساتذہ نے پڑھایا کہ اس دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہئے۔ شاعر مشرق نے لکھا: ’’تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر‘‘ بس پھر کیا تھا، ہمارے چند نادان نوجوانوں نے سمجھا کہ شاہین یعنی پہاڑیوں  میں چھپتے پھرنے والا کوئی دہشت گرد ہے۔ اقبال کی بصیرت آمیز فکر کی گہرائی و گیرائی میں جانے کیلئے کسی کو فرصت نہیں البتہ’ شاہین‘ کو اپنا آئیڈیل بنانے والا ایک ٹولہ تیار ہوگیاحالانکہ یہ سب ڈپلی کیٹ شاہین ہیں اور اقبال کے اصل شاہین سے اُن کا کوئی تعلق نہیں۔
دراصل کسی نے اُن نوجوانوں کی ذہن سازی کی کہ تم ہی اصلی شاہین ہو، بس لڑو پھر چاہے مرو۔ بس پھر کیا تھا وہ نقلی شاہین اُڑ اُڑ کر پہلے سرحد پار چلے گئے۔ جو یہاں رہ گئے وہ اصل مقصدِ حیات کے علاوہ ہر موضوع کے اُستاد بن گئے اور زندگی کی دھارا سے جُڑے نوجوانوں کو بہکانے اور بھٹکانے کا کام کُل وقتی طور پر کرنے لگے۔ ہم نے مانا کہ اس ملک کی تاریخ کا سب سے فرقہ پرست گروہ آج بر سرِ اقتدار ہے۔ وہ مسلمانوں کو اعلیٰ تعلیم بلکہ بنیادی تعلیم سے بھی محروم کرنے کے اپنے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ کسی تخریبی کارروائی میں اگر ۱۰۰؍مسلم نو جوانوں کو گرفتار کرتی ہے تو اُن میں ۹۵؍ فیصد سے زائد بے گناہ ثابت ہو جاتے ہیں۔ ہمارا کہنا یہ ہے کہ تخریب کاروں میں ۲؍ سے۵؍ فیصد بھی مسلم نوجوان کیوں دکھائی دیں؟ اس ضمن میں ہم اپنی بحث میں یہ جو از پیش کیا کرتے تھے کہ ہمارا نوجوان پڑھا لکھا نہیں ہے، جہالت کا شکار ہے، نا انصافی کا شکار ہے، مالی دشواریوں سے پریشان ہے البتہ جب کسی تخریبی کارروائی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ، پڑھا لکھا ایک آدھ نوجوان بھی دکھائی دیتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے۔ سر چکرا جاتا ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو زندگی کا اصل مقصد سمجھانے میں ہم سے کیا غلطی ہوئی اور وہ کسی بھی شدّت پسند کو اپنا قائد کیسے مان سکتے ہیں؟ نیز ہمارے اُن ۲۔۳ ؍فیصد اعلیٰ تعلیم یافتہ مگر گمراہ و شدّت پسند نوجوانوں کو علم بھی ہے کہ اُن کی ان حرکتوںسے پوری قوم کو کس قیامتِ صغریٰ سے گزرنا پڑے گا ؟چند روز قبل دہلی کے لال قلعے کے پاس بم دھماکے میں پولیس نے کسی ڈاکٹر شاہین کو پکڑا ہے اور مبینہ طور پر اُس نے یہ کہا ہے کہ اُس نے یہ سب قوم کیلئے کیا ہے۔ ہم نہیں جانتے حقیقت کیا ہے البتہ اگر اُس نام نہاد ’شاہین‘ نے یہ کہا ہے تو ہم یہ بتادیںکہ اُس نے اس قوم کی طب و تحقیق سے جُڑنے کی خواہش مند لاکھوں لڑکیوں کو پچاس سال پیچھے ڈھکیل دیا ہے۔غزہ میں مسلم کشی کی ٹریننگ لے کر آیا ٹولہ آج برسرِاقتدار ہے۔ دو چار پڑھے لکھے یا تعلیم یافتہ ہمارے نوجوان اگرکسی تخریبی کارروائی میں ملوث پائے جاتے ہیں تو یہ ٹولہ اُس کے گھر کے علاوہ اُس کے اسکول، کالج، حتیٰ کہ اُس کی یونیورسٹی کی عمارت پر بھی بلڈوزر چلا سکتا ہے۔ اسی لیے آج ہمارے نوجوانوں کو زندگی کے حقائق سے متعارف کراناضروری ہے:
(۱) دوستو! دین ِ اسلام کو نہ سمجھنے ہی کی بناء پر بین الاقوامی میڈیا میںایک خطرناک اصطلاح وجود میںآگئی اور وہ ہے : اسلامی دہشت گردی۔ پھر ہمارے نو جوانوں کو بہکانے کیلئے ہم میں سے ہی کچھ لوگ ایک دُور کی کوڑی لائے : اچھی دہشت گردی اور بُری دہشت گردی۔ اب جب اسلام کی ساری تعلیمات صرف اور صرف امن کے اُصولوں پر مبنی ہوں تو پھر دہشت گردی اچھی کیسے ہوگئی؟ پھر دوستو! یہ دیکھ لیجئے کہ اسلام کے پانچ ستون یعنی توحید، نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج اِن میں سے کیا ایک میں بھی کسی قسم کی دہشت گردی کا درس ہے؟ جب اسلام کی روح صرف اور صرف یہ پانچ ستون ہیں تب آپ کا ذہن بھٹکے ہی کیوں؟ دراصل یہ پانچ ستون زندگی کی شاہراہ ہیں مگر  اُن لوگوں کو شاہراہوں سے زیادہ پگڈنڈیوں میں دلچسپی ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتیں، متنازع باتیں چھیڑ کر اپنی علمیت کا رُعب جتانا.... کیا یہ سب ہمارے نوجوانوں کیلئے گمراہی کا سبب نہیں بنتا ہے؟ہمارے نو جوانوں کو فکر دین کی شاہراہ کی کرنی ہے یعنی پانچ ستون قائم رہیں بس !
(۲) (الف) دوستو! آیئے لغت کی طرف ! اسلام کا بنیادی لفظ ہے سِلم سِلم یعنی امن لہٰذا اسلام کا مطلب ہے : امن کا مذہب ! ( ب ) قرآن میں اللہ کے نام درج ہیں اُن میں سے ایک ہے : السلام ( سورۃ الحشر ) یعنی امن و سلامتی (ج) حدیثؐ  بھی سن لیجئے، نو جوانو ! ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ امن میں رہیں۔‘‘
(۳) قرآن میں کسی بھی جنگ کو فتح مبین نہیں کہا گیا۔ بلکہ ایک سمجھوتہ یا صلح ( حدیبیہ ) کو فتح مبین کہا گیا۔ جنگ کے بغیر فتح کیسے ہوتی ہے دوستو! اس کے لئے قرآن کی سورہ الفتح پڑھ لیجئے۔
(۴) نو جوانو ! لفظ جہاد، جُہد سے آیا ہے، اور جہد کے معنی ہیں: کوشش کرنا۔ قرآن کہتاہے : ’’اللہ کی راہ میں خوب کوشش کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔‘‘ دنیا کی کسی لغت میں جہاد کا مطلب قتل کرنا یا جنگ کرنا نہیں ہے۔
(۵) اگر آپ کے ذہن میں پھر بھی جہاد کا خیال آہی رہا ہے تو پھر وہ جہاد کیجئے جو اسلام میں سب سے افضل ہے اور وہ ہے: جہاد نفس! یعنی سیلف کنٹرول اپنی ہر نفسانی خواہش اور منفی جذبات پر قابو کرنا۔
(۶) نو جوانو! یہ گوریلا جنگ، بم دھماکے، ہائی جیکنگ ، فائرنگ یہ صرف قتل ہیں، جہاد ہرگز نہیں۔ بچّے، بوڑھے وعورتوں پر تو باقاعدہ جنگ میں بھی حملہ نہیں کیا جاسکتا۔
(۷) قرآن میں اللہ کا ارشاد ہے :’’ اُن کے ساتھ قرآن کے ذریعے جہادِ کبیر کرو۔‘‘ نو جوانو! قرآن علم کی کتاب ہے یعنی یہاں اشارہ واضح طور پرعلمی جدو جہد کا ہے۔
(۸) آج جبکہ عالمی میڈیا نے دینِ اسلام اور سارے مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے سب سے زیادہ جس اصطلاح کو اُچھالا وہ ہے: جہاد! اس میڈیا کے کسی بھی فرد نے قرآن کا عمیق مطالعہ نہیں کیا البتہ چونکہ وہ میڈیا انتہائی طاقتور ہے۔ کھربوں میٖل میں پھیلے ہوئے خلاء میں ہزاروں کی تعداد میں سیّارے اُنہوں نے چھوڑ رکھے ہیں جس کے ذر یعے وہ اپنا زہریلا پروپیگنڈہ جہاں اور جیسے چاہے کر سکتے ہیں اُنہوں نے اسلام کا چہرہ مسخ کرنے کا بیڑہ اُٹھایا۔ اس صورت میں ہمارے نوجوان اپنے تعلیمی کیمپس میں اپنے مسلمان ہونے پر شرمندہ نہ ہو، بس قرآن کا یہ پیغام ہر جگہ پہنچادیں اس کا بینر یا پلے کارڈ ہاتھ میںلے لیں، جو قرآن کا سورۃ مائدہ میں اللہ کا فرمان ہے کہ کسی ایک بے گناہ کا قتل یعنی پوری انسانیت کاقتل ہے!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK