Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۰؍ رمضان ، ۸؍ہجری اور فتح مکہ جب ’عفو ِ نبویؐ‘ ہر خوف پر غالب تھا

Updated: March 10, 2026, 3:39 PM IST | Shibli Nomani | Mumbai

معلوم ہوا کہ خزاعہ کے چالیس ناقہ سوار جن کا پیش رو عمرو بن سالم ہے، فریاد لے کر آئے ہیں ۔ آنحضرت ؐنے واقعات سنے تو آپؐ کو سخت رنج ہوا۔ تاہم آپؐ نے قریش کے پاس قاصد بھیجا اور درج ذیل تین شرطیں پیش کیں کہ ان میں سے کوئی منظور کی جائے: (۱)مقتولوں کا خوں بہا دیا جائے (۲) قریش بنو بکر کی حمایت سے الگ ہوں، اور (۳) اعلان کیا جائے کہ حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹ گیا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

صلح حدیبیہ کی بنا پر قبائل عرب میں خزاعہ آنحضرت ؐکے حلیف ہو گئے تھے اور ان کے حریف بنو بکر نے قریش سے مخالفت کا معاہدہ کر لیا تھا۔ ان دونوں حریفوں میں مدت سے لڑائیاں چلی آتی تھیں ۔ اسلام کے ظہور نے عرب کو ادھر متوجہ کیا تو وہ لڑائیاں رک گئیں اور اب تک رکی رہیں کیونکہ قریش اور عرب کا سارا زور اسلام کے مقابلہ میں صرف ہو رہا تھا ۔ صلح حدیبیہ نے لوگوں کو مطمئن کیا تو بنو بکر سمجھے کہ اب انتقام کا وقت آگیا ۔ دفعتاً وہ خزاعہ پر حملہ آور ہوئے اور رؤسائے قریش نے علانیہ ان کو مد د دی۔ عکرمہ بن ابی جہل، صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو و غیرہ نے راتوں کو صورتیں بدل کر بنو بکر کے ساتھ تلواریں چلائیں۔ خزاعہ نے مجبور ہو کر حرم میں پناہ لی۔  بنو بکر رک گئے کہ حرم کا احترام ضرور ہے لیکن ان کے رئیس اعظم نوفل نے کہا یہ موقع پھر کبھی ہاتھ نہیں آسکتا ، غرض عین حدود حرم میں خزاعہ کا خون بہایا گیا ۔

یہ بھی پڑھئے: اعتکاف

آنحضرتؐ  مسجد میں تشریف فرما تھے کہ دفعتاً یہ صد ا بلند ہوئی: اے خدا ! میں محمدؐ کو وہ معاہدہ یاد دلاؤں گا جو ہمارے اور ان کے قدیم خاندان میں ہوا ہے۔ اے پیغمبر خد ا ہماری اعانت کر اور خدا کے بندوں کو بُلا، وہ  سب اعانت کے لئے حاضر ہوں گے ۔

معلوم ہوا کہ خزاعہ کے چالیس ناقہ سوار جن کا پیش رو عمرو بن سالم ہے، فریاد لے کر آئے ہیں ۔ آنحضرت ؐنے واقعات سنے تو آپؐ کو سخت رنج ہوا۔ تاہم آپؐ نے قریش کے پاس قاصد بھیجا اور درج ذیل تین شرطیں پیش کیں کہ ان میں سے کوئی منظور کی جائے: (۱)مقتولوں کا خوں بہا دیا جائے (۲) قریش بنو بکر کی حمایت سے الگ ہوں، اور  (۳) اعلان کیا جائے کہ حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹ گیا۔

قرطہ بن عمر نے قریش کی زبان سے کہا: ’’ صرف تیسری شرط منظور ہے ‘‘ لیکن قاصد کے چلے جانے کے بعد قریش کو ندامت ہوئی۔  انہوں نے ابو سفیان کو سفیر بنا کر بھیجا کہ حدیبیہ کے معاہدہ کی تجدید کرا لائیں۔  ابو سفیان نے مدینہ آکر آپؐ کی خدمت میں درخواست کی ۔ بارگاہ رسالتؐ سے کچھ جواب نہ ملا۔ ابو سفیان نے حضرت ابوبکر ؓو عمرؓ کو بیچ میں ڈالنا چاہا لیکن سب نے کانوں پر ہاتھ رکھا، ہر طرف سے مجبور ہو کر حضرت فاطمہ زہراؓ کے پاس آیا ۔ اس وقت حضرت حسن ؓپانچ برس کے تھے ۔ ابو سفیان نے ان کی طرف اشارہ کر کے کہا:  ’’اگر یہ بچہ اپنی زبان سے کہہ دے کہ میں نے دونوں فریقوں میں بیچ بچاؤ کرا دیا تو آج سے عرب کا سردار پکارا جائے گا۔ جناب سیدہ نے فرمایا: بچوں کو ان معاملات میں کیا دخل؟ بالآخر ابو سفیان نے حضرت علیؓ کی  ایما ء سے مسجد نبوی میں اعلان کر دیا کہ میں نے معاہدۂ حدیبیہ کی تجدید کر دی۔ 

یہ بھی پڑھئے: فرعون کے محل میں موسیٰؑ کی پرورش، شعیب سے ملاقات اور قارون کا عبرتناک انجام سنئے

ابو سفیان نے مکہ میں جاکر لوگوں سے یہ واقعہ بیان کیا تو سب نے کہا یہ نہ صلح ہے کہ ہم اطمینان سے بیٹھ جائیں ، نہ جنگ ہے کہ لڑائی کا سامان کیا جائے ۔ آنحضرتؐ نے مکہ کی تیاریاں کیں،  اتحادی قبائل کے پاس قاصد بھیجے کہ تیار ہو کر آئیں، اس دوران  احتیاط کی گئی کہ اہل مکہ کو خبر نہ ہونے پائے۔ غرض ۱۰رمضان ۸ھ ’’کو کبۂ نبویؐ‘‘ نہایت عظمت و شان سے مکہ معظمہ کی طرف بڑھا۔ ۱۰؍ ہزار آراستہ فوجیں رکاب میں تھیں۔ قبائل عرب راہ میں آکر ملتے جاتے تھے۔ لشکر  نے مرالظہران پہنچ کر پڑاؤ ڈالا اور فوجیں دور دور تک پھیل گئیں۔ 

آنحضرتؐ کے حکم سے تمام فوج نے الگ الگ آگ روشن کی جس سے تمام صحرا  وادیٔ ایمن بن گیا۔ فوج کی آمد کی بھنک قریش کے کانوں میں پڑ چکی تھی ۔ تحقیق کے لئے انہوں نے حکیم بن حزام، ابوسفیان اور بدیل بن ورقا کو بھیجا۔ خیمہ ٔ نبویؐ کی دربانی پر جو دستہ متعین تھا اس نے ابو سفیان کو دیکھ لیا۔ حضرت عمرؓ جذبۂ انتقام کو ضبط نہ کر سکے، تیز قدمی سے آگے بڑھے اور بارگاہ رسالتؐ میں آکر عرض کیا کہ کفر کے استیصال کا وقت آگیا ہے۔ لیکن حضرت عباسؓ نے جاں بخشی کی درخواست کی ۔ 

ابو سفیان کے تمام پچھلے کارنامے اب سب کے سامنے تھے اور ایک ایک چیز اس کے قتل کی دعوے دار تھی۔ اسلام کی عداوت، مدینہ پر بار بار حملہ، قبائل عرب کا اشتعال، آنحضرتؐ کے خفیہ قتل کی سازش ان میں سے ہر چیز اس کے خون کی قیمت ہو سکتی تھی لیکن ان سب سے بالا تر ایک اور چیز عفو نبویؐ تھی ۔ اس نے ابو سفیان کے کان میں آہستہ سے کہا ’’خوف کا مقام نہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: دُنیا کی بے ثباتی،فتح ِ روم کی خوشخبری اور حضرت لقمان کی نصیحتیں سماعت کیجئے

لشکر اسلام جب مکہ کی طرف بڑھا تو آنحضرت ؐ نے حضرت عباسؓ سے ارشاد فرمایا کہ ابو سفیان کو پہاڑ کی چوٹی پرلے جاکر کھڑ اکر دو کہ افواج الٰہی کا جلال آنکھوں سے دیکھیں۔ کچھ دیر کے بعد دریائے اسلام میں تلاطم شروع ہوا۔ قبائل عرب کی موجیں جوش مارتی ہوئی بڑھیں ۔ سب سے پہلے غفار کا پرچم نظر آیا، پھر جہینیہ، ہذیم، سلیم ہتھیاروں میں ڈوبے ہوئے تکبیر کے نعرے بلند کرتے ہوئے نکل گئے۔ ابوسفیان ہر دفعہ مرعوب ہو ہو جاتے تھے۔ پھر انصار کا قبیلہ اس سروسامان سے آیا کہ آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ ابوسفیان نے متحیر ہوکر پوچھا کہ یہ کون سا لشکر ہے؟ حضرت عباسؓ نے نام بتایا ۔ دفعتاً سردارِ فوج حضرت سعد بن عبادہؓ ہاتھ میں علم لئے ہوئے برابر سے گزرے اور ابو سفیان کو دیکھ کر پکار اٹھے :

’’آج گھمسان کا دن ہے 

آج کعبہ حلال کر لیا جائے گا۔‘‘

سب سے آخر میں کو کبۂ نبویؐ نمایاں ہوا جس کے پرتو سے سطح خاک پر نور کا فرش بچھتا جاتا تھا۔حضرت زبیر بن العوامؓ علم بردار تھے ۔ ابو سفیان کی نظر جمال مبارک پر پڑی تو پکار اٹھے کہ حضورؐ نے سنا؟ سعد بن عبادہ کیا کہتے ہوئے گئے ۔ ارشاد ہوا کہ سعد بن عبادہ نے غلط کہا،  آج کعبہ کی عظمت کا دن ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK