Inquilab Logo Happiest Places to Work

رمضان ڈائری (۱۹): رمضان کو رمضان کی طرح گزارنے والے بندگانِ خدا

Updated: March 10, 2026, 3:29 PM IST | Azhar Mirza | Mumbai

’’کام کو کام کے وقت پر کرنا ہی پڑتا ہے۔ روزہ ہے تو کیا ہوا۔ روزہ تو فرض ہے۔ اللہ کا حکم ہے۔ اس کی فرماں  برداری میں ہی بھلائی ہے۔‘‘

Photo: INN
تصویر: آئی این این

دوپہر کا وقت ہے، راقم حفیظ الدین مارگ سے گزررہا ہے۔ اس وقت ’دہلی خاص‘ بند ہے، جبکہ اللہ والی ہوٹل پر ’پردہ‘ پڑا ہوا ہے۔’محمدی‘ کا شٹر آدھا ڈاؤن ہے۔  فٹ پاتھ کنارے بھجیا اور نمکین اشیاء بنانے والے اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔  مدنپورہ کے شامی گیسٹ  ہاؤس کے پاس ٹھیلے پر ایک نوجوان چھوٹی تھیلیوں  میں رنگ برنگا فالودہ بھررہا ہے۔ یہ ٹھیلہ ہرسال  رمضان میں یہاں لگتا ہے، سہ پہر ہوتے ہوتے اس پر فالودہ  کی تھیلیاں سجنی شروع ہوجاتی ہیں جو عصر کے بعد ہاتھوں ہاتھ بک جاتی ہیں۔ راقم نے دیکھا کہ پہلے سے بھری  تھیلیاں ٹھیلے پر قرینے سے سجائی گئی تھیں۔ ان میں نیچے کی طرف تخم ملنگا (دودھ ملنگا)، اس پر سفید موٹی سویاں جو اراروٹ / میدہ  یا ساگودانہ سے بنتی ہیں اور پھر لال شربت  بھرا ہوا تھا۔  معدہ کو ٹھنڈک دینے والا یہ مشروب ایک زمانے سے  افطار کے دستر خوانوں کا حصہ ہے اور آج بھی اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ان دنوں تو ا س کیلئے ’موسم‘ سازگار بھی نظر آ رہا ہے  کیونکہ  ممبئی میں پچھلے پانچ چھ دنوں میں سورج اپنے تیور دکھارہا ہے۔ تیز  چٹک دار دھوپ اورحدت و تمازت  اس قدر ہے جیسے مئی کا مہینہ شروع ہوگیا ہو۔  اچھے اچھوں کا گلا سوکھ جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱۸): ’’ممبرا گداگروں کی آماجگاہ بن گیا، آپ بات تک نہیں کر سکتے‘‘

راقم چھاؤں چھاؤں سےہوتے ہوئے، ممبئی سینٹرل اسٹیشن پہنچا۔ خود کار زینے پر قدم رکھتے ہی پیچھے دیکھا تو ہلکے بادامی کرتا  سفید پجامہ میں ملبوس ایک چچا نظر آئے، جو اپنے کاندھے پربڑا سا  وزنی تھیلہ اٹھائے کھڑے تھے ۔ ان کی عمر اندازاً ۵۰؍  سے۵۵؍برس رہی ہوگی۔  ان کے ماتھے پر ہلکا پسینہ چمک رہا تھا۔ فٹ اوور بریج پر میں ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ پلیٹ فارم نمبر ۴-۳؍کے لئے جیسے ہی وہ زینے اترنے لگے تو راقم بھی ان کے ساتھ ہولیا۔ کیونکہ مجھے بھی ادھر ہی جانا تھا۔ میں نے سلام کرکے ان کے تھیلے کو پیچھے سے سہارا دیا اور کہا’’روزے کیسے جارہے ہیں؟‘‘ انہوں نے کچھ دیر توقف کیا ، پھر سرپر ٹوپی درست کرتے ہوئے جواب دیا’’ الحمدللہ‘‘ میں  نے کہا ’’یہ تھیلا لے کر ٹھنڈے وقت میں نکلتے، اس وقت دھوپ کتنی کڑک ہے۔ ‘‘ ہمارے یہاں تیز دھوپ کو کڑک دھوپ ہی کہا جاتا ہے۔ کہنے لگے ’’جس نے (موسم کی)سختی دی ہے، سہنے کی طاقت بھی وہی دے گا۔‘‘ معلوم ہوا کہ ان کا اسم گرامی پرویز عالم ہے،  نائیگاؤں  میں لیڈیز پرس کی دکان لگاتے ہیں۔اسی کیلئے نیا مال لے کر جارہے ہیں۔ کہنے لگے ’’کام کو کام کے وقت پر کرنا ہی پڑتا ہے۔ روزہ ہے تو کیا ہوا۔ روزہ تو فرض ہے۔ اللہ کا حکم ہے۔ اس کی فرماں برداری میں ہی بھلائی ہے۔‘‘  پھر بتایا کہ ’’میں ذیابیطس کا مریض ہوں، طبیعت ابھی تھوڑی نرم گرم ہے لیکن ڈاکٹر کے پاس نہیں جارہا ہوں۔ وہ روزہ رکھنے سے منع کردے گا۔ میں کسی صورت روزہ قضا نہیں کرنا چاہتا۔اب بارہ تیرہ تو رہ گئے ہیں۔ ‘‘ ان کےاس جذبہ ایمانی کو دیکھ کر دل سے بے اختیار دعا نکلی ’’اے خدا! انہیں صحتمند اور ان کے جذبےکو سلامت رکھ۔‘‘ایسے محنت کش افراد  موسم کی سختیوں اور روزگار کی ذمہ داریوں کو کبھی ترکِ روزہ کا حیلہ بہانہ نہیں بناتے۔ یہی سوچتے ہوئے اسٹیشن کے باہر نکلا تو ایک رکشے سے جانی پہچانی آواز آئی ’’ارے آؤ حضرت.....‘‘ دیکھا تو رفیق بھائی ڈرائیونگ سیٹ سے ہاتھ دکھارہے تھے، میں فوراً لپکا۔ نشست سنبھالتے ہوئے میں نے پوچھا ’’آج کل کلیم بھائی نظر نہیں آرہے؟‘‘کہنے لگے ’’ہاں  دو چار دن تو مجھے بھی دکھائی نہیں دئیے ۔‘ ‘سگنل پر رکے تو رفیق بھائی نے پلٹ کر کہا کہ’’ہولی کے بعد سے گرمی بڑھ گئی  ہے۔ آج بھی دیکھو کتنی کڑک دھوپ ہے ، آدمی کی  حالت خراب  ہے۔‘‘ میں  نے تائید کی ’’ہاں واقعی، ہم اے سی آفس میں بیٹھ کر کام کرنے والے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ باہر رہ لیں تو پریشان ہوجاتے ہیں جبکہ بے شمار لوگ  روزہ رہ کر کاروباری مصروفیات میں بھی گم رہتے ہیں اور موسم کی سختی بھی جھیلتے ہیں۔ ‘‘رفیق بھائی بولے ’’سب کے کام کا الگ الگ  حساب ہے۔ ابھی میں اپنی بات کروں تو رمضان میں بھی میں صبح سے ہی رکشا نکالتا ہوں۔ دوپہر کا ڈھائی بج گیا ہے ،اب اپنا ٹائم ہوگیا۔  دو بھاڑا مار کر گاڑی لگادوں گا۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱۷): سوچ بدلو، حالت خود بخود بدل جائے گی

پرویز صاحب، رفیق بھائی جیسے لوگ  ہم سب کیلئے مثال ہیں کہ عبادت، فرض کو ادا کرنے کا جذبہ اور نیت ہو تو سب کچھ ممکن ہوجاتا ہے۔ پھر دن بھر کی مشقت، تیز دھوپ اور سختی کوئی معنی نہیں  رکھتی۔ رب کی رضا کیلئے رمضان کو رمضان کی طرح  گزارنے والے خدا کے بندے ایسے کتنے ہی ہیں جو دنیاداری کے چکر میں دین داری نہیں بھولتےاور نیکیاں کمانے کی اپنی سی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK