معاشی بحران وقتی ہو سکتا ہے، مگر سماجی بحران قوموں کی روح کو کمزور کر دیتا ہے اور تب صرف اقتصادی اعداد و شمار قوم کو مستحکم نہیں کر سکتے۔
EPAPER
Updated: June 07, 2026, 7:14 PM IST | Sohail Amir Sheikh | Mumbai
معاشی بحران وقتی ہو سکتا ہے، مگر سماجی بحران قوموں کی روح کو کمزور کر دیتا ہے اور تب صرف اقتصادی اعداد و شمار قوم کو مستحکم نہیں کر سکتے۔
وزیرِاعظم کی جانب سے حالیہ دنوں میں دیا گیا یہ بیان کہ عوام سونے کی خریداری کم کریں، پیٹرول کے استعمال میں احتیاط برتیں اور گھریلو سطح پر تیل کے استعمال کو محدود کریں، بظاہر ایک معاشی مشورہ ہے۔ ایسے بیانات عموماً اس وقت سامنے آتے ہیں جب حکومتیں معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی مہنگائی، کرنسی کی کمزور ہوتی قدر اور درآمدات کے بوجھ سے پریشان ہوں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کسی بھی معاشی بحران کا حل صرف عوام سے قربانی طلب کرنے میں پوشیدہ ہوتا ہے؟ اور کیا ریاست خود اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو کر تمام بوجھ عوام کے کندھوں پر ڈال سکتی ہے؟
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج ہندوستان کی معیشت کئی داخلی اور خارجی چیلنجز سے دوچار ہے۔ بے روزگاری کی شرح میں اضافہ، متوسط طبقے کی قوتِ خرید میں کمی، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، اور روپے کی گرتی ہوئی قدر ایک ایسی معاشی بے چینی کو جنم دے رہی ہے جس کے اثرات ہر گھر میں محسوس کئے جا رہے ہیں مگر اس سے بھی زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ اس معاشی بحران کے ساتھ ساتھ ملک ایک گہرے سماجی بحران کی طرف بھی بڑھ رہا ہے، جس کی آواز اب واضح طور پر سنائی دینے لگی ہے۔
معاشی بحران وقتی ہو سکتا ہے، مگر سماجی بحران قوموں کی روح کو کمزور کر دیتا ہے۔ جب معاشرہ میں انصاف کمزور ہو جائے، رواداری دم توڑنے لگے، اختلاف دشمنی میں بدل جائے اور مذہبی و سماجی تقسیم سیاسی مفادات کا ذریعہ بن جائے، تو پھر صرف اقتصادی اعداد و شمار قوم کو مستحکم نہیں کر سکتے۔ اگر عوام سے کہا جا رہا ہے کہ وہ پیٹرول کم استعمال کریں، تو یہ سوال بھی اپنی جگہ پوری شدت کے ساتھ موجود ہے کہ سرکاری وسائل پر چلنے والے وزراء کے لمبے قافلے، پروٹوکول کی شاہانہ روایتیں اور حکمراں طبقے کی پرتعیش سرگرمیاں کب محدود ہوں گی؟ کیا کفایت شعاری صرف عام شہری کے لیے مخصوص ہے؟ ایک طرف عوام کو موٹر سائیکل کم چلانے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں میں درجنوں گاڑیوں پر مشتمل قافلے سڑکوں پر دوڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس تضاد کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ معیشتیں محض عوامی قربانیوں سے نہیں بلکہ دانشمندانہ پالیسیوں، شفاف حکمرانی، انصاف پر مبنی نظام اور قومی اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔ جو ذمہ داری ریاست کی ہو، اسے عوام کے سر ڈال دینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش محسوس ہوتی ہے۔ آج اگر معیشت کمزور ہے، سرمایہ کاری سست روی کا شکار ہے، روپے کی حیثیت مسلسل دباؤ میں ہے اور نوجوان بے روزگاری سے پریشان ہیں، تو اس کے ذمہ دار عام شہری نہیں بلکہ وہ پالیسیاں ہیں جو اقتدار کے ایوانوں میں بنائی جاتی ہیں۔
لیکن اس پورے منظرنامے میں سب سے زیادہ خطرناک پہلو وہ سماجی دراڑیں ہیں جو تیزی سے گہری ہوتی جا رہی ہیں۔ مذہبی منافرت، اشتعال انگیز بیانات، سیاسی پولرائزیشن اور نفرت پر مبنی بیانیے ایک ایسے ماحول کو جنم دے رہے ہیں جہاں معاشرہ اندر سے کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست صرف معاشی اشاریوں پر نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی پر بھی توجہ دے۔
عدل و انصاف کا قیام، امن کی بحالی، مختلف مذاہب کے درمیان اعتماد کی فضا پیدا کرنا، نفرت انگیز تقاریر پر قدغن لگانا، اور قومی وحدت کو فروغ دینا وغیرہ۔ یہی وہ اصلاحات ہیں جن کی آج ملک کو سب سے زیادہ ضرورت ہے کیونکہ اگر ملک معاشی بحران سے نکل بھی آئے تب بھی سماجی نفرت، عدم برداشت اور اخلاقی زوال میں مبتلا رہے تو اس کی ترقی دیرپا نہیں ہو سکتی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سونے کی خریداری پر پابندیوں سے زیادہ نفرت کے پجاریوں کی زبانوں پر پابندی لگائی جائے، جو صبح سے شام تک سماج میں زہر گھولنے میں مصروف ہیں۔ ایک مہذب ریاست کی اصل طاقت اس کی فوج، خزانے یا بلند عمارتوں میں نہیں بلکہ اس کے سماجی انصاف، اخلاقی توازن اور انسانی احترام میں ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں معاشی بحران دکھائی دے رہا ہے، لیکن سماجی قدروں کا بحران اس سے کہیں زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا ہے۔ اگر اقتدار کے ایوان اس آواز کو سننے سے قاصر ہیں ، تو کم از کم سنجیدہ، باشعور اور ذمہ دار طبقات کو اس خطرے کو محسوس کرنا چاہیے اور اس کے سدباب کی کوشش کرنی چاہیے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ معاشی تنگی عوام کو صرف لقموں سے محروم کرتی ہے، مگر سماجی ناانصافی اور نفرت انسان کو جینے کے حق سے بھی محروم کر دیتی ہے۔
آج اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ صرف مہنگائی نہیں وہ فکری انتشار ہے جو انسانوں کے درمیان دیواریں کھڑی کر رہا ہے۔ حکومت عوام کو قربانی کا درس دینے سے پہلے خود احتسابی، سادگی اور انصاف کی مثال قائم کرے کیونکہ قومیں نصیحتوں سے نہیں بلکہ کردار سے تعمیر ہوتی ہیں۔ اسی کرب کی ترجمانی یہ شعر کرتا ہے کہ:
ایک دو زخم نہیں، سارا بدن ہے زخمی
درد بیچارہ پریشان ہے کہاں سے اٹھے
( مضمون نگارجماعت اسلامی ہند، مہاراشٹر، کے رکن شوریٰ ہیں )