ایشیا کی سب سے امیر بلدیہ ممبئی پر بی جے پی کا قبضہ اس کی حکمت عملی کی علامت تو ہے، ساتھ ہی شیوسینا کے روایتی ووٹ بینک کے کھسکنے کی بھی نشانی ہے، کئی کارپوریشن میں ایم آئی ایم کے مظاہرہ نے سیکولر پارٹیوں کی نیند ضرور اڑادی ہو گی ۔
EPAPER
Updated: January 18, 2026, 6:06 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai
ایشیا کی سب سے امیر بلدیہ ممبئی پر بی جے پی کا قبضہ اس کی حکمت عملی کی علامت تو ہے، ساتھ ہی شیوسینا کے روایتی ووٹ بینک کے کھسکنے کی بھی نشانی ہے، کئی کارپوریشن میں ایم آئی ایم کے مظاہرہ نے سیکولر پارٹیوں کی نیند ضرور اڑادی ہو گی ۔
مہاراشٹر کے ۲۹؍ بلدیات اور خصوصاً ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے حالیہ انتخابات نے ریاست کی سیاست کا رخ بدلنے کا آغاز کردیا ہے۔ کئی دہائیوں سے ممبئی میں جس سیاسی قوت کو ناقابلِ شکست سمجھا جاتا تھا، وہ اس بار واضح طور پر کمزور نظر آئی جبکہ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے ایک ایسی فیصلہ کن پیش قدمی کی جو محض انتخابی کامیابی نہیں بلکہ شہری سیاست کی ترجیحات میں بنیادی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ نتائج محض نشستوں کی جیت یا ہار کا معاملہ نہیں ہیں بلکہ عوام کے ذہن میں بدلتے ہوئے سیاسی توازن اور اعتماد کا اظہار ہیں۔ شہری ووٹر اب روایتی نعروں، علاقائی جذبات اور شناختی سیاست سے ہٹ کر براہِ راست کارکردگی، سہولتوں اور ترقیاتی یقین دہانیوں پر فیصلہ کر رہا ہے۔ ممبئی اور دیگر شہروں میں بی جے پی کی کامیابی کا سب سے بڑا سبب اس کی منصوبہ بند، طویل مدتی اور منظم انتخابی مہم رہی۔ پارٹی نے شہری انتخابات کو محض مقامی نہیں بلکہ ریاستی اورقومی ترقیاتی بیانیے سے جوڑنے میں کامیابی حاصل کی۔ ممبئی جیسے شہر میں جہاں انفراسٹرکچر، ٹریفک، سیلاب، صفائی اور رہائشی منصوبے عوام کے روزمرہ مسائل ہیں، وہاں بی جے پی نے ان موضوعات کو مرکز بنایا۔ مرکز اور ریاست دونوں جگہوں پر اس کی حکومت ہونے سے فنڈنگ میں رکاوٹ نہ آنے کی دلیل اس نے ووٹرس کے گلے اتارنے میں کامیابی حاصل کی۔ ساتھ ہی بڑے ترقیاتی پروجیکٹس (میٹرو، کوسٹل روڈ، پل، ٹرانسپورٹ) تیزی سے مکمل کرنے کا بھی دعویٰ کیا جس پر عوام نے بھروسہ کیا۔ اس کے علاوہ ایکناتھ شندے کے ساتھ اتحاد نے بھی روایتی شیو سینا ووٹر کو بی جے پی کے قریب لا کھڑا کیا۔ یوتی اتحاد نے شہری ووٹ کو یکجا رکھنے میں کامیابی حاصل کی جبکہ اپوزیشن تقسیم کا شکار رہی۔
ہر چند کہ گوتم اڈانی اور دھاراوی ممبئی میں انتخابی مہم کا مرکز بنے رہے۔ اپوزیشن کا الزام تھا کہ ریاست کی بی جے پی حکومت مبینہ طور پر ممبئی کی قیمتی زمین اڈانی گروپ کو سونپ رہی ہے۔ اسی بنا پر یہ منصوبہ شہری انتخابات میں ایک سیاسی مسئلہ بن کر ابھرا۔ اس کا فائدہ اس علاقے سے الیکشن لڑنے والی اپوزیشن پارٹیوں کو ہوا بھی لیکن پورے ممبئی پر اس کا اثر نظر نہیں آیا۔ ممبئی میں بھلے ہی مہایوتی اتحاد کو واضح جیت ملی ہے لیکن گودی میڈیا جس طرح سے اسے بہت بڑی فتح قرار دے رہا ہے وہ قطعی نہیں ہے کیوں کہ بی ایم سی کے ۲۲۷؍ وارڈوں میں سے مہایوتی کو ۱۱۸؍ سیٹیں ملی ہیں جبکہ اکثریت کے لئے ۱۱۴؍ سیٹیں درکار ہوتی ہیں۔ یعنی اکثریت سے محض ۴؍ سیٹیں زیادہ۔ اگر اپوزیشن اتحاد متحد ہوتا اور تمام اپوزیشن پارٹیاں ساتھ الیکشن لڑتیں تو ممکن تھا کہ مہایوتی اکثریت سے دور رہ جاتی۔ بہر حال جیت اُسے ملی ہے اور ممبئی کی بلدیاتی تاریخ میں پہلی مرتبہ بی جے پی کا میئر بنے گا لیکن بہت سے تجزیہ نگار اس نکتے کی جانب بھی دھیان دلارہے ہیں کہ اگر شیو سینا تقسیم نہیں ہوئی ہوتی بی جے پی لئے اپنا میئر بنوانا مشکل ہوتا۔ گزشتہ الیکشن میں بی جے پی نے ۸۲؍ سیٹیں جیتی تھیں اور اس مرتبہ ۸۹؍ جیت لیں یعنی محض ۷؍ سیٹیں زیادہ۔ اگر بی جے پی والے جیت کا نشہ اترنے کے بعد اس فتح کا تجزیہ کریں گے تو انہیں بھی واضح طور پر نظر آئے گا کہ ان کی یہ جیت بہت بڑی نہیں ہے اور اب اگر انہوں نے اپنے وعدے پورے نہیں کئے تو اگلے الیکشن کےبعد انہیں دوبارہ اپو زیشن میں بیٹھنا پڑ سکتا ہے۔
مہاراشٹرکے دیگرعلاقوں کا تجزیہ کریں تو بی جے پی کو فتوحات ملی ہیں اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔ ناگپور جو وزیر اعلیٰ فرنویس کا گڑھ ہے وہاں پارٹی کو ۲؍ تہائی سے زائد سیٹیں ملی ہیں جبکہ شرد پوار کے گڑھ پونے میں بھی اس نے کارپوریشن پر قبضہ کرلیا ہے۔ اس کے علاوہ اورنگ آباد کی فتح بھی بی جے پی کیلئے اہم ہے۔ جہاں تک ممبئی میں ٹھاکرے برادران کی شکست کا سوال ہے تو یہ واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ اب مراٹھی ووٹرس کا کارڈ اتنا مضبوط نہیں رہا ہے۔ گزشتہ ۱۰؍ سے ۱۵؍ سال میں ممبئی کی ’ڈیمو گرافی ‘ میں انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں۔ شیو سینا کا بنیادی اور روایتی ووٹر اب ممبئی اور مضافات سے نکل کر امبرناتھ، بدلاپور، پنویل، اُرن، بھائندر، وسئی ویرار اور دیگر دُور کے مضافات میں بس گیا ہے جبکہ ممبئی میں دیگر ریاستوں خصوصاً اتر بھارتیوں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے میں شیو سینا کے لئے اپنی زمین سنبھالنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ ہر چند کہ اب بھی اس کے ۶۵؍ کارپوریٹر منتخب ہوکر آئے ہیں لیکن یہ اکثریت سے کافی دور ہیں۔ کئی تجزیہ نگاروں نے شیو سینا کی شکست کو ایک نکتے میں اس طرح بیان کردیا ہے کہ شیو سینا کے پاس روایتی مراٹھی ووٹرس کے علاوہ کوئی نیا ووٹر نہیں ہے۔ ان کے پاس ماضی کی ’مراٹھی اسمتا ‘، سنیوکت مہاراشٹر اور مراٹھی میئر کا موضوع تو ہے لیکن نوجوانوں کے لئے مستقبل کا کوئی خاص منصوبہ نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں بی جے پی کے پاس مراٹھی کے ساتھ ساتھ دیگر ریاستوں کے ووٹرس کاساتھ بھی ہے اور ان کیلئے موضوعات بھی ہیں۔ اسی وجہ سے اس نے گجراتی، اتر بھارتی اور جنوبی ہند کے ووٹرس کے درمیان یکساں مظاہرہ کیا ہے۔
جہاں تک بات کانگریس کی ہے تو اس نےکہیں بہتر مظاہرہ کیا ہے تو کہیں پٹ گئی ہے۔ لاتور، چندر پور اور کولہاپور میں وہ کامیاب رہی ہے جبکہ بھیونڈی، امرائوتی، اکولہ اور چند دیگر کارپوریشن میں اس نے بہتر مظاہرہ کیا ہے لیکن مجموعی طور پر یہ کارکردگی ویسی نہیں ہے جیسی کانگریس سے امید کی جاتی ہے۔ کانگریس کے ارباب کو اس جانب اب بہت سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کہ وہ ایسا کیا کریں کہ بی جے پی کے رَتھ کو روکنے میں یا اسے چیلنج کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔ مہاراشٹر کے اس بلدیاتی منظر نامہ میں اگر کوئی پارٹی ’ ڈارک ہارس ‘ ثابت ہوئی ہے تو وہ اسد الدین اویسی کی ایم آئی ایم ہے جس نے کئی کارپوریشن میں قابل ذکر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ اورنگ آباد میں تو دوسری سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے۔ اس کے علاوہ دھولیہ، امرائوتی، ناگپور، مالیگائوں اورممبئی میں بھی پارٹی نے سبھی کو چونکا دیا ہے۔ اب تک سیکولر پارٹیوں کی جانب سے مسلم ووٹوں پر اجارہ کی بات ہوتی تھی لیکن اب ایم آئی ایم کے عروج نے ان کے لئے خطرہ کی گھنٹی بجادی ہے۔ ایم آئی ایم نے پوری ریاست میں مجموعی طور پر ۱۲۰؍ سے زائد سیٹیں جیتی ہیں جو واـضح کرتی ہیں کہ اس پارٹی نے اپنے پَر پھیلالئے ہیں۔