• Sun, 18 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہوسٹل میں مقیم بیٹے کے نام

Updated: January 18, 2026, 4:12 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

فون پر تمہاری آواز سے میں سمجھ گیا تھا کہ تم کافی ڈسٹرب ہو۔ حالاتِ حاضرہ تمہارے نصاب اور تمھارے کریئر کا ایک مضمون ہے اور موضوع بھی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

پیارے بیٹے!
فون پر تمہاری آواز سے میں سمجھ گیا تھا کہ تم کافی ڈسٹرب ہو۔ حالاتِ حاضرہ تمہارے نصاب اور تمھارے کریئر کا ایک مضمون ہے اور موضوع بھی۔ اس لئے حالاتِ حاضرہ کے ہر نشیب و فرازسے تم متاثر ہوتے ہو۔ بیٹا !دراصل آج اس ملک میں ہماری قوم کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اور جس کی بناء پر ہمیں یوں لگ رہا ہے کہ اب اس ملک میں مسلمانوں کا کوئی پُرسانِ حال نہیں، کوئی مستقبل نہیں، اس صورتِ حال کی حقیقت ہمیں اچھی طرح سے سمجھنی ہوگی۔ 
ہُوا یہ کہ دین کی پختہ بنیادوں کے ساتھ سائنسی ترقی میں پیش پیش رہنے والی یہ قوم گزشتہ تین صدیوں میں اپنی سمت ہی کھو بیٹھی۔ فرنگیوں نے اس کا فائدہ اُٹھایا اور پھر۱۸۵۷ء میں مسلمانوں کے صرف تخت و تاج پر نہیں بلکہ اُن کی تہذیب و تمدن اور شناخت ہی پر شب خون ہوا۔ اُس قیامت خیزی میں ایک سیّد نے قوم کو پُکارا کہ آؤ اس قوم کی تعمیر نَو کریں مگر اُس پر فقرے کسے گئے اور فتوے جاری ہوئے۔ 
بیٹے!تقسیمِ ہند گزشتہ صدی کا سب سے ہولناک واقعہ تھا، ہیروشیما و ناگاساکی سے زیادہ ہولناک! ہیروشیما و ناگاساکی بھی دوبارہ بس گئے البتہ اس ملک کی مسلم قوم جو اُجڑ گئی، بس اُجڑ ہی گئی۔ جغرافیائی لکیروں کی طاقت کا آج ہمیں احساس ہورہا ہے کہ لمحوں کے خطا کی سزا صدیوں تک کیسے ملتی ہے۔ یہ بات اب ہم اچھی طرح سے دیکھ رہے ہیں۔ 
بیٹے ہم کو یہ سمجھنا چاہئے کہ جمہوری نظام کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اُس میں صرف سَر گنتے ہیں یعنی رجسٹرڈ ووٹرس گنتے ہیں۔ یہاں چند سیاسی پارٹیوں کو آج یہ احساس بھی ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ اس ملک میں صرف زیادتی نہیں بلکہ کھلے عام ظلم بھی ہو رہے ہیں مگر۸۵؍ فیصد ووٹرس کے مقابلے ۱۵؍ فیصد دو ٹرس کا ساتھ دے کر کون سی پارٹی الیکشن ہارنا چاہے گی؟ اس لئے مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا سلسلہ جاری ہے۔ اُس کا حل صرف صحیح حکمت عملی ہے۔ 
بیٹا! تم آج اس سے بھی ڈسٹرب اور بے چین ہوکہ کچھ روز قبل جموں میں فرقہ پرستوں نے ایک میڈیکل کالج کو اس لئے بند کر دیا کہ وہاں کی ۵۰؍میں سے ۴۲؍نشستوں پر مسلم طلبہ نے داخلہ حاصل کیا تھا۔ یہ واقعی انتہائی شرمناک اور قابل مذمّت واقعہ ہے مگر ہم جتنی شدّت سے بے چین ہوئے اُس سے زیادہ شدّت سے غیر مسلم دانشور، صحافی اور تعلیم یافتہ طبقہ چیخ پڑا۔ قابلیت اور میرٹ سے حاصل کی گئی ۴۲؍نشستیں ہاتھ سے گئیں۔ بیٹا!زندگی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ جموں کشمیر سمیت ملک بھر کے مسلم طلبہ میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ملک بھر میں اپنی آبادی کی دُگنے تناسب میں میڈیکل نشستیں حاصل کر لیں۔ یہ فرقہ پرست طاقتیں کتنے میڈیکل کالج بند کرائیں گی.... بیٹا، صبر، صرف، صبر... اور کل ہمارا ہے! 
ایسا کیوں سوچ رہے ہو بیٹا! فرقہ پرست یہی تو چاہتے ہیں کہ مسلمان پچھڑے رہیں۔ یہی تو وہ چاہ رہے ہیں کہ مسلم نو جوان تعلیم حاصل نہ کریں، وہ جاہل رہیں، مفلسی کا شکار رہیں، محتاج رہیں۔ وہ اعلیٰ مرتبے ہرگز حاصل نہ کریں بلکہ رکشا چلاتے رہیں، گیر ج صاف کرتے رہیں، بوٹ پالش کرتے رہیں یا پھر بھیک مانگتے رہیں۔ 
بیٹا! البتہ تم کو ہماری ملّت میں چھپے تخریب کار اور دین حق کے پیغام کا غلط مفہوم سمجھنے والے کو تاہ فہم عناصر سے بھی خوب ہوشیار اور باخبر رہنا ہے۔ جو زندگی کی بات ہی نہیں کرتے، صرف موت کی بات کرتے ہیں۔ آخر اس زندگی کی کارکردگی ہی پر تو موت کے بعد کی جنّت یا جہنّم کا فیصلہ ہو گا! اس دنیا کی تعلیم حاصل نہ کریں، خود کفیل نہ بنیں ، حلال کمائی نہ کھائیں تو ہماری آخرت کیسی ہوگی؟ 
بیٹا! دُنیا کی ہر لغت میں جہاد کا مطلب ہی جدو جہدہے، اور جدو جہد حیات ہی جہاد ہے۔ ایک حدیث سُن لو بیٹا! عبد اللہ بن عبّاسؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرمؐ سے عرض کیا کہ میں جہاد کرنا چاہتا ہوں۔ آپؐ نے اُس سے پوچھا کہ کیا تیرے والدین زندہ ہیں ؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: ’’جاؤ انہی کی خدمت میں حد درجہ کوشش کرو‘‘ (صحیح بخاری ) یعنی والدین کی خدمت اور اُن کے ساتھ حسن سلوک کا مقام تم نے سمجھ لیا بیٹا! اُسی کے حوالے سے میں تمہیں حکم دے رہا ہوں بیٹا کہ پڑھائی کرو، دل لگا کر پڑھائی کرو، کامیاب ہو جاؤ اپنے لئے اور اپنی قوم کیلئے۔ 
بیٹے، ہوسٹل میں رہتے ہوئے، کچھ باتوں کا خاص خیال رکھو۔ اوّل یہ کہ ہوسٹل میں جو غیر مسلم طلبہ ہیں، اُن کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ ہمیں کوئی حق نہیں ہے کہ وہ غیر مسلم ہیں اسلئے انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھیں اسلئے کہ انہیں بھی بہر حال اللہ ہی نے پیدا کیا ہے۔ اور اللہ کی مخلوق سے بلا وجہ بیر رکھنے کا ہمیں کوئی حق نہیں ہے۔ تم اُن غیر مسلم طلبہ کو اپنے حسن سلوک، اخلاق اور کردار سے جیت لو۔ یہ آسان کام نہیں ہے بیٹا۔ کیونکہ آج باہر جو کچھ ہو رہا ہے اُسے وہ بھی پڑھتے اور سنتے ہوں گے۔ وہ بھی اس غلط فہمی کا شکار ہوں گے کہ مسلمان صرف دہشت گرد ہوتا ہے۔ البتہ ان کے اس مغالطے کو اپنی خوش اخلاقی سے دُور کرو اور بتاؤ کہ مسلمان کیسا ہوتا ہے۔ اپنے ان غیر مسلم دوستوں کے ساتھ ہفتے میں کم از کم ایک بار بیٹھ کر اسلام کے تعلق سے اُن کی کسی غلط فہمی کو دُور کرو۔ 
بیٹے! پتہ نہیں ایسا کیوں ہے ہم حکمت کے بجائے جذباتی و جوشیلے پن سے کام لیتے ہیں۔ اسلئے کبھی نماز کے وقت مسجد کے سامنے کے باجے، گانے والے جلوس سے ہم اور متاثر ہو جاتے ہیں اور کبھی کبھی کسی فرقہ پرست تنظیم ایک آدھ اشتعال انگیز پوسٹر کسی بڑے فساد کا سبب بن جاتا ہے۔ اگر ایسا کوئی انتہائی اشتعال انگیز پوسٹر تمہارے ہوسٹل میں تمہارے کمرے کے دروازے پر بھی لگایا جائے تم اس پر مسکرا دو اور مزید شدّت پیدا ہو تو پہلے اس کی پولیس میں شکایت درج کراؤ۔ 
بیٹے! اس ملک میں پولیس میں بھرتی کرنے سے پہلے انہیں کوئی مناسب تربیت نہیں دی جاتی۔ چند قواعد، چند قوانین، لاٹھی و بندوق چلانے کی کچھ تربیت دی جاتی ہے مگر دیگر مذاہب کے تعلق سے کوئی بات نہیں بتائی جاتی۔ میں خاص طور پر مسلم اسکولوں کے انتظامیہ کو خط لکھنے جا رہا ہوں کہ وہ اپنے یہاں کی تقریبات، تقریری مقابلوں، سالا نہ گیدرنگ وغیرہ میں پولیس کے افسران کو بطور خاص مدعو کریں اور اُن کے سامنے اسلام کا صحیح پیغام اور صحیح رُخ بتانے والی تقاریر اور ڈرامے وغیرہ پیش کریں۔ اپنے اسکولوں میں اسلام کی تعلیمات دینے والی کسی نمائش کا اہتمام کریں اور اس کااِجراء پولیس افسران سے کرائیں۔ انشاء اللہ اسلام و مسلمان کے تعلق سے اُن کی کئی غلط فہمیاں دُور ہو جائیں گی۔ پولیس کی تربیت کا جو کام حکومت نہیں کرتی، وہ ہمارے تعلیمی ادارے کر دکھائیں۔ 
بیٹے! تم کمپیوٹر انجینئر بننے جارہے ہو۔ میں نے سوچا تھا کہ چھوٹے کو مینجمنٹ کا کوئی کورس کرائیں گے البتہ اب میں نے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا ہے۔ میں چاہوں گا کہ ہمارا چھوٹا آگے چل کرآئی پی ایس افسر بنے۔ وقت آگیا ہے کہ اس ملّت کی بقا کیلئے ایک خاندان نہ سہی کم از کم ایک گاؤں ملّت کو ایک آئی پی ایس افسر دے کیونکہ بندوق کی ٹریگر پر رکھی ہوئی، کم پڑھے لکھے کانسٹبلوں کی سیکڑوں انگلیوں کو صرف ایک آئی پی ایس افسر ہی روک سکتا ہے۔ 
بیٹے! میں نے بھی سوچا اور تم بھی سوچو کہ صرف اس ملک میں نہیں بلکہ اس دنیا بھرمیں حصولِ تعلیم کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کیوں کہ یاد رکھو ہمیں صرف جینا نہیں ہے، عزت و وقار کے ساتھ جینا ہے۔ 
تمہارے ابّو

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK