Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی پی ایل میں بلے بازوں کا ہی نہیں گیندبازوں کا بھی جلوہ رہا ہے

Updated: May 24, 2026, 10:00 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai

اس سیزن میں کئی گیندبازوں نے کئی بار ثابت کیا ہے کہ اس تیز طرار فارمیٹ میں بلے بازوں کو روکا جاسکتا ہے اور کھیل شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی جاسکتی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

گزشتہ دنوں انسٹا گرام پر ایک ویڈیو نظر سے گزرا جس میں سپر ہٹ فلم ’تھری ایڈیٹس‘ کے پریکشت ساہنی اور آرمادھون کے درمیان ایک یادگار سین کی نقل کی گئی تھی۔ اس سین کا خلاصہ یہ ہےپریکشت ساہنی (مسٹر قریشی ) اپنے بیٹے آر مادھون (فرحان قریشی )کو سمجھاتے ہیں کہ اسے انجینئر بننا ہےلیکن فرحان اپنے والد کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتا ہےکہ وہ وائلڈ لائف فوٹوگرافر بننا چاہتا ہے اور اسی میں اس کی خوشی ہے، اگر کسی طرح وہ انجینئر بن بھی گیا تو بہت خراب انجینئر ثابت ہوگا۔ انسٹا گرام پر اس سین کوگیندباز اور بلے باز سے بدل دیاگیا۔ اس کے مطابق باپ بیٹے کو سمجھاتا ہےکہ بیٹا بلے باز بنےکیونکہ یہ بلے بازوں کادور ہےاورجب وہ اپنی گیند پر کسی بلے باز کو چھکا مارتے ہوئے دیکھے گا تو تمنا کرے گا کہ کاش وہ بھی بلے باز ہو تا! بہرحال بیٹا باپ کو قائل کرنے کی کوشش کرتا ہےکہ وہ گیندباز ہی بننا چاہتا ہے کیونکہ اسی میں اس کی خوشی ہے اور اگر وہ بلے باز بن بھی گیا توبہت خراب بلے باز ثابت ہوگا۔ یہ ایک ہلکی پھلکی ریٖل تھی جس میں بلے بازاور گیند باز کے درمیان بالکل عام فہم انداز میں موازنہ کیاگیا ہے اور بتانے کی کوشش کی گئی ہے آج ایک بلے باززیادہ کامیاب ہے۔ کھیل کے میدان میں بھی اور اشتہارات کی دنیا میں بھی۔ 
یہ حقیقت ہےکہ آج کا نوجوان کرکٹ شیدائی جب اس کھیل کو دیکھتا ہےتوو ہ ایک بلے باز کو ہی اپنے لئے مثالی تصور کرتا ہےکیونکہ اس کھیل میں بلے بازی اپنے اندر ایک فطری کشش رکھتی ہے۔ ہم خود بھی بچپن سے کرکٹ کھیلتے آئے ہیں اور پہلے بلے بازی کیلئے جھگڑے کئے بھی ہیں اور دیکھے بھی ہیں۔ گیندبازی کے تعلق سے ایسا رہا ہےکہ کسی کو بھی گیند تھمادو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ رواں آئی پی ایل سیزن میں ویبھو سوریہ ونشی، ابھیشیک شرما، پریانش آریہ، مچل مارش، پربھ سمرن، سائی سدرشن، ہینرچ کلاسین، ، شبھ من گل اور کے ایل راہل جیسےبلے بازوں کو دیکھ کراور۲۰؍اوورز میں ۲۵۰؍ سے زائد رن بنتا ہوا دیکھ کریہ گمان ضرور ہوتا ہےکہ اس کھیل بالخصوص ٹی ۲۰؍کرکٹ پر بلے بازوں کا غلبہ ہے۔ اس مفروضہ کو بہت حد تک درست کہا جاسکتا ہے لیکن پوری طرح نہیں۔ 
حقیقت یہ ہےکہ آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں جہاں بلے بازوں نے چوکوں اور چھکوں کی برسات کی ہے وہیں بہت سے گیند بازوں کی بھی کارکردگی شاندار رہی ہے اوران بلے بازوں کے ساتھ ساتھ ان کا جلوہ بھی نظر آیا ہے۔ ابھی گزشتہ روزہوئے چنئی اور گجرات کے میچ میں محمد سراج کی گیندبازی کو کون بھول سکتا ہے جنہوں نے۳؍ اوور میں ۲۶؍ رن دے کر ۳؍ وکٹ لئے اورپہلی ہی گیند پر سنجو سیمسن جیسے بلے با ز کو آؤٹ کیا۔ اس سیزن میں اب تک کئی تجربہ کار اور نوجوان گیند بازوں نے اپنی سوئنگ، رفتار اور اسپن کے جال میں بڑے بڑے بلے بازوں کو پھنسایا ہے۔ ’پرپل کیپ‘ کی دوڑ میں سرفہرست گیند بازاس سیزن میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے ٹاپ گیند بازوں کے درمیان مقابلہ انتہائی سخت ہو چکا ہے۔ 
بھونیشور کمار(آر سی بی): رائل چیلنجرز بنگلور((آرسی بی)کی طرف سے کھیلتے ہوئے تجربہ کار تیز گیند باز بھونیشور کمار۲۴؍ وکٹوں کے ساتھ پرپل کیپ کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں ۔ انہوں نے۸ء۰۷؍کے بہترین اکنامی ریٹ سے گیندبازی کی ہے۔ گجرات ٹائٹنز کے کاگیسو ربادا بھی ۲۴ وکٹیں لے کر بھونیشور کمارکے سا تھ برابری پر ہیں مگراوسط کے فرق کے سبب وہ دوسرے نمبر پر ہیں۔ چنئی (سی ایس کے) کے ابھرتے ہوئے گیندبازانشول کمبوج نے اس سیزن میں کافی متاثر کیا ہے اور وہ ۲۱؍ وکٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر براجمان ہیں۔ گجرات کے راشد خان نے مڈل اوورز میں اپنی اسپن کا جادو چلاتے ہوئے ۱۹ ؍وکٹیں اپنے نام کی ہیں۔ اس سیزن میں ان کی گیندبازی کا الگ ہی رنگ نظر آرہا ہے۔ وہ نہ صرف بالکل منجھے ہوئے انداز میں گیند بازی کررہے ہیں اور یہ کہنا بھی غلط نہیں ہےکہ اسپن گیندبازی کو انہوں نے ایک نیامعیار عطا کیا ہے۔ حیدر آباد کے ایشان ملنگا کا ریکارڈ بھی رواں سیزن میں شاندار رہا ہے۔ انہو ں نے اب تک ۱۹ ؍وکٹ اپنے نام کئے ہیں۔ اسی طرح اس سیزن میں ثاقب حسین کی کارکردگی بھی قابل ذکر رہی ہے۔ 
سیزن کی چند یادگار گیندبازی پرفارمنس کی بات کی جائے تومحسن خان کا ’فائیو وکٹ ہال‘قابل ذکر رہا ہے۔ لکھنؤ سپر جائنٹس کے محسن خان نے کولکاتا نائٹ رائیڈرز کے خلاف ۲۳؍ رن دے کر ۵ وکٹیں حاصل کئے تھے جو اس سیزن کا اب تک کا بہترین گیندبازی اسپیل ہے۔ اس کے بعد آر سی بی جوش ہیزل ووڈ کانام آتا ہےجنہوں نےدہلی کیپٹلز کے خلاف میچ میں تباہ کن گیندبازی کرتے ہوئے۱۲؍ رن دےکر۴؍ وکٹ لئے اور حریف ٹیم کو محض ۷۵ رنز پر ڈھیر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 
اگر کفایتی گیند بازی یا اکنامی ریٹ کی بات کی جائے تو کولکاتا کے سنیل نارائن ۶ء۴؍کے حیرت انگیز اوسط کے ساتھ بلے بازوں کو باندھ کر رکھنے میں انتہائی کامیاب ثابت ہوئے ہیں بلکہ انہوں نے یہ ثابت بھی کیا ہےکہ کرکٹ میں گیندبازوں کی اپنی اہمیت ہےاوران کی اپنی شناخت ہے۔ ان کے بعد گجرات ٹائٹنز کے جیسن ہولڈر نے بھی ۷ء۳۴؍کے اوسط سے انتہائی نپی تلی گیند بازی کی ہے۔ ان گیندبازوں نے ثابت کیا ہےکہ تیزطرارٹی ۲۰؍ کرکٹ میں بلے بازوں کو چھکے چوکے مارنے سے روکا بھی جاسکتا ہے، انہیں پریشان بھی کیاجاسکتا ہےاورانہیں ڈگ آؤٹ بھی بھیجاسکتا ہے۔ 
رواں آئی پی ایل میں گجرات کی نمائندگی کرتے ہوئے محمد سراج اپنی شاندار اور نپی تلی گیند بازی سےچھائے ہوئے ہیں۔ بھلے ہی وہ پرپل کیپ کی فہرست میں سب سے اوپر نہ ہوں لیکن انہوں نے پاور پلے اور ڈیتھ اوورز میں اپنی تیز رفتار سوئنگ اور یارکرز کے ذریعے گجرات ٹائٹنز کو کئی اہم فتوحات دلائی ہیں۔ محمد سراج نے اس سیزن میں اب تک ۱۴ ؍میچ کھیلے ہیں اور۱۷؍ وکٹ لئے ہیں۔ ان کا اکنامی ریٹ ۸ء۵۹؍ رہا ہے جو ٹی ۲۰؍کے لحاظ سے کافی متوازن ہے۔ 
پنجاب کنگز کے خلاف میچ میں سراج کی گیندبازی کا اس وقت الگ ہی جلوہ نظر آیا تھا جب انہوں نے پہلے ہی اوور میں لگاتار ۲؍ گیندوں پردو (پریانش آریہ اور کوپر کونولی کا) وکٹ لے کر حریف ٹیم کی کمر توڑ دی۔ وہ گجرات ٹائٹنز کے لیے پہلے ہی اوور میں ۲؍ وکٹیں لینے والے پہلے گیند باز بنے۔ اس کے علاوہ ایک اہم ریکارڈ ڈاٹ بالز کابھی ہے۔ اس میں محمد سراج ہی پہلے نمبرپر ہیں۔ اس سیزن میں انہوں نے ۱۴۸؍ ایسی گیندیں ڈالی ہیں جن پر کوئی رن نہیں بنا۔ اس کے بعدربادا(۱۴۷)، جوفرا آرچر (۱۳۱)، سنیل نارائن (۱۲۹)اورمحمد سمیع (۱۲۲)کے نام آتے ہیں۔ مختصراً یہ کہ اس سیزن میں گیندبازوں نے بھی اپنی تکنیک دکھائی ہے، اسلئے ایسے میچ بھی ہوئے ہیں جن میں ٹیمیں ۱۰۰؍ کے اندر آل آؤٹ ہوئی ہیں۔ جارح بلے باز صفر پر بھی آؤٹ ہوئے ہیں اور چھکے پر چھکے مارنے والے بلے بازنپی تلی گیندپر بولڈ بھی ہوئے ہیں، یعنی ٹی ۲۰؍ فارمیٹ میں بھی گیندبازی اور گیندباز کو نہ تو نظر انداز کیاجاسکتا ہے اور نہ ہی کمتر سمجھا جاسکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK