’پلیس آف ورشپ ایکٹ ‘ کے نافذ العمل ہونے کے باوجود آنےوالے کمال مولیٰ مسجد کیس کے فیصلے نے جو راہداری کھول دی ہے وہ باعث تشویش ہے۔
EPAPER
Updated: May 24, 2026, 9:59 PM IST | Asim Jalal | Mumbai
’پلیس آف ورشپ ایکٹ ‘ کے نافذ العمل ہونے کے باوجود آنےوالے کمال مولیٰ مسجد کیس کے فیصلے نے جو راہداری کھول دی ہے وہ باعث تشویش ہے۔
بابری مسجد کیس میں مسلمانوں کے دلائل کو تسلیم کرنے اور اس حقیقت کے اعتراف کےباوجود کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر بنائی گئی تھی، ۵؍ رکنی بنچ نے مسجد کی زمین کو رام مندر کیلئے دینے کا جو فیصلہ سنایاتھا اس میں کم از کم تاریخی عبادتگاہوں کو ’ ’پلیسز آف ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ء ‘‘ کےذریعہ فراہم کئے گئے تحفظ کو تسلیم کیا گیاتھا۔ کورٹ نے کہا تھا کہ یہ قانون ہندوستان کے سیکولر آئینی ڈھانچے کا لازمی جزو ہے۔ اس نے یہ بھی تسلیم کیاتھا کہ ۱۵؍اگست ۱۹۴۷ء کو جس عبادت گاہ کی جو مذہبی حیثیت تھی، وہ برقرار رہے گی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پلیس آف ورشپ ایکٹ ہندوستانی سیکولرازم کے آئینی عزم کا اظہار ہے جو ماضی کے زخموں کو کرید کر حال اور مستقبل کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ بابری مسجد کا معاملہ اس قانون سے پہلے ہی مستثنیٰ تھا مگر یہ امید بندھی تھی کہ گیان واپی، شاہی عیدگاہ، کمال مولیٰ مسجد اور دیگر مقدمات میں پلیس آف ورشپ ایکٹ مرکزی قانونی اور آئینی ڈھال ثابت ہوگا۔
افسوس کہ ایسا نہیں ہوا اور کمال مولیٰ مسجد کیس میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے ۱۵؍ مئی کے فیصلے نے اس تعلق سے تمام امیدوں کو معدوم کر دیا۔ بلکہ اس معاملے میں پلیس آف ورشپ ایکٹ کو ہی استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا چور دروازہ کھول لیاگیا ہے جس کے دیگر تنازعات میں بھی استعمال کرنے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کو جمعہ ۲۲؍مئی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیاگیا ہےمگر دلچسپ بات یہ ہے کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے اس فیصلے کی راہ خود سپریم کورٹ کے ۲۲؍ جنوری ۲۶ء کے فیصلے سے ہموار ہوگئی تھی۔ اس کی نشاندہی نوجوان صحافی سوروداس نے ۱۶؍ مئی کو ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں فرنٹ لائن میں شائع ہونے والے اپنے فروری ۲۶ء کے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کی ہے۔ بابری مسجد کافیصلہ آنے کےبعد دیگر مذہبی مقامات پر دعوؤں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیاتھا۔ نیا نکتہ یہ نکالا گیا کہ ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو مذکورہ مقام کی مذہبی حیثیت کے تعین کیلئے محکمہ آثار قدیمہ سے سروے کروایا جائے۔ پلیس آف ورشپ ایکٹ میں فراہم کئے گئے تحفظ کو نظر انداز کرتے ہوئے ذیلی عدالتیں نہ صر ف ان دعوؤں کو سماعت کیلئے قبول کرنے لگیں بلکہ عرضی گزاروں کی اپیل پر سروے کے احکامات بھی جاری ہونے لگے تھے۔ ایک لامتناہی سلسلہ سا شروع ہوگیاتھا۔ ایساہی ایک سروے سنبھل میں تشدد کا سبب بنا اور ۵؍ مسلمانوں نے اپنی جان گنوائی۔ یکے بعد دیگرے سروے کا حکم دینے کا یہ سلسلہ اس وقت تھما جب دسمبر ۲۰۲۴ء میں سپریم کورٹ نے ذیلی عدالتوں کو سروے کے احکامات جاری کرنے سے روک دیا۔ اس وقت تک پلیس آف ورشپ ایکٹ کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا جاچکا تھا اور یہ معاملہ آج تک زیر غور ہے۔ تاہم یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ جب تک سپریم کورٹ عبادتگاہوں کے تحفظ کے مذکورہ قانون پر کوئی فیصلہ نہیں سنا دیتا تب تک نئے اور پرانے دعوؤں میں سروے کے احکامات کا سلسلہ تھما رہےگا۔ اس سے قبل مارچ ۲۴ء میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ بھی محکمہ آثار قدیمہ کو کمال مولیٰ مسجد کے’’ مکمل سائنسی معائنہ، سروے اور کھدائی‘‘کا حکم دے چکی تھی۔ اس کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ نے سروے کی اجازت تو برقرار رکھی تھی لیکن رپورٹ جاری کرنے اور ایسی کھدائی سے روک دیا تھاجو مذکورہ مقام کی مذہبی حیثیت کو بدل سکتی ہو۔ بعد میں دسمبر۲۴ء میں سپریم کورٹ کے ملک گیر حکم ِ امتناع نےکمال مولیٰ مسجد معاملے میں پابندی کو بھی تقویت فراہم کی تھی۔ سپریم کورٹ کی مذکورہ پابندی سے جو راحت ملی تھی وہ دیر پاثابت نہیں ہوئی۔ رواں سال کے ابتداء میں یعنی جنوری ۲۶ء میں کمال مولیٰ مسجد کا معاملہ پھرسپریم کورٹ پہنچ گیا۔ بسنت پنچمی جمعہ کے دن پڑ رہی تھی۔ ۲۰۰۳ء سے یہ نظم تھا کہ منگل کو پوجا کی اجازت تھی اور جمعہ کو نماز ہوتی تھی۔ ہندو فریق بسنت پنچمی کے موقع پر جمعہ کو پوجا کی اجازت چاہتا تھا۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی بنچ نے اس اپیل پر شنوائی کی اور حیرت انگیز طور پر نہ صرف بسنت پنچمی کے پیش نظر جمعہ کو پوجا کی بھی اجازت دی بلکہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیر التوا مقدمے کو دوبارہ فعال بھی کر دیا۔ کورٹ نے حکم سنایا کہ ہندو فریق کو بسنت پنچمی کے دن صبح سے شام تک پوجا کی اجازت ہوگی جبکہ مسلم فریق کو دوپہرایک سے ۳؍ بجے تک نماز کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کو ہدایت دی کہ محکمہ آثار قدیمہ کی سروے رپورٹ کو عدالت میں کھولا جائے، دونوں فریقوں کو نقول فراہم کی جائیں اور انہیں اعتراضات اور تجاویز داخل کرنے کا موقع دیا جائے نیز مقدمے کی باقاعدہ سماعت آگے بڑھائی جائے۔ اس حکم پراسی وقت حیرت کااظہار کیاگیاتھا کیونکہ خود سپریم کورٹ نے ہی دسمبر۲۴ء میں ملک بھر میں عبادت گاہوں کی مذہبی حیثیت سے متعلق مقدمات اور سروے کارروائیوں پر روک لگارکھی تھی۔ بہرحال چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کےمذکورہ فیصلے سے کمال مولیٰ مسجد-بھوج شالہ تنازع کو ایک طرح سے دسمبر ۲۴ء کی پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگیا۔ اس کے بعد سب کچھ بہت تیزی سے ہوا اور ۱۵؍ مئی کوکمال مولیٰ مسجد بھی بابری مسجد طرز کے فیصلے کا فیصلہ آیا اور مسجد فریق مخالف کو سونپ دی گئی۔ اہم بات یہ ہے کہ اس فیصلے سے خود پلیس آف ورشپ ایکٹ میں موجود ایک چور دروازہ کھل گیا ہے جس کےبعد اندیشہ ہے کہ دیگر مذہبی مقامات کے معاملوں میں بھی اس کے استعمال کی کوشش ہوگی۔
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے پلیس آف ورشپ ایکٹ کے سیکشن ۴(۳) کے تحت’’آثار قدیمہ اور محفوظ تاریخی عمارتوں ‘‘کو دیئے گئے استثنیٰ کو بنیاد بنا کر مقدمے کی سماعت جاری رکھی اور خود اپنا موقف تبدیل کرلینے والے محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ پر انحصار کرتے ہوئے مسجدکو سرسوتی مندر قرار دے دیا۔ پلیس آف ورشپ ایکٹ کے سیکشن ۴(۳) کی شکل میں جو راہداری کھلی ہے اس کا استعمال مستقبل میں ایسے دیگر تنازعات میں بھی ہو سکتا ہے۔ یہ اس لئے اور بھی زیادہ تشویشناک ہے کہ اب محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹیں ثبوت کا درجہ اختیار کرنے لگی ہیں۔ کمال مولیٰ مسجد کے حوالے سے تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اس کی عمارت مختلف عمارتوں کے ملبہ سے تعمیر ہوئی تھی مگر محکمہ آثار قدیمہ کی کھدائی میں جوکچھ ملا اسے شاید اُسی مقام پرکسی مندر کو توڑ کرکی گئی تعمیر کا ثبوت تسلیم کرلیاگیا۔ اور اس بات کو نظر انداز کردیاگیا کہ انگریز حکومت کے ریکارڈ میں واضح طور پر کہاگیا ہے کہ یہ مسجد ہے اور مستقبل میں بھی مسجد ہی رہے گی۔ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ملک کی عدالتوں کو فرقہ وارانہ ایجنڈوں کی تکمیل کیلئے بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششوں کو تقویت حاصل ہورہی ہے۔ قانونی پیچیدگیوں کا بڑی چالاکی سے سہارا لیا جا رہا ہے ۔ یہ کتنی ستم ظریفی ہے کہ وہ قانون، جو پارلیمنٹ نے مذہبی تنازعات کے سد باب کیلئے بنایا تھا، وہی اس کے مقصد کے برخلاف استعمال ہورہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد قانونی ماہرین اور سماجی تنظیمیں اس فیصلے کو ملک کے آئینی نظریے کی تبدیلی کے طور پر بھی دیکھ رہی ہیں۔